دونوں فریقین نہیں چاہتے ہم سچ تک پہنچیں

By: Samaa Web Desk
January 12, 2017

supreme-court-resumes-hearing-of-panama-leaks-case-e10ebe570c0d425d91b688ffc8ac8c63

اسلام آباد: پاناما کیس میں سپریم کورٹ نے وزیراعظم کی تقاریر پر سوالات اٹھا دیے۔ ججز کہتے ہیں وزیراعظم نے فی البدیہہ نہیں لکھی ہوئی تقاریر کیں۔ ہمارے سامنے کیس غلط بیانات پر نااہلی کا ہے۔ عدالتی فیصلہ سب کیلئے مثال ہوگا۔  وزیراعظم نے جس ریکارڈ کی بات کی تھی وہ اب تک سامنے نہیں آ سکا؟ ریکارڈ کا جائزہ لئے بغیر سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں؟عدالت نے سچ کا پتہ چلانا ہے۔ سچ بیانات سے نہیں۔ دستاویزات سے سامنے آئے گا۔ دونوں فریقین نہیں چاہتے کہ ہم سچ تک پہنچیں۔ سچ کے راستے میں دیوار چین کھڑی کر دی گئی ہے۔

سپریم کورٹ میں پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت  جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کی۔ آج سماعت کا آغاز ہوا تووزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل شروع کیے۔

گزشتہ روز پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری اور سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید احمد نے اپنے دلائل مکمل کیے تھے۔ وقت کی کمی کی وجہ سے مخدوم علی خان دلائل کا آغاز نہیں کر سکے تھے۔ سماعت کے موقع پر وزیراعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ خود کو  وزیراعظم تک محدود رکھیں گے اور تمام معاملات میں عدالت کی معاونت کریں گے۔

اپنے دلائل میں وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا   نوازشریف کی برٹش ورجن آئی لینڈ میں کوئی کمپنی نہیں، وہ کسی آف شورکمپنی کےڈائریکٹر،شیئرہولڈریابینیفیشل مالک نہیں۔ تقاریرمیں تضادکی بات کرکےنااہلی کی استدعاکی جارہی ہے۔ وزیراعظم پرٹیکس چوری کابھی الزام لگایاگیا۔ کہا گیا حسین نواز نے وزیراعظم کو تحفے میں رقم دی، ان کا این ٹی این موجود نہیں۔جبکہ حسین نواز کا نیشنل ٹیکس نمبر موجود ہے اورنعیم بخاری نے بھی یہ تسلیم کیا تھا کہ حسین نواز کا این ٹی این موجود ہے۔پٹیشن میں نوازشریف پرجھوٹ بولنےکاالزام عائدنہیں کیاگیا،پٹیشن کےمطابق نوازشریف نےالزامات کی درست وضاحت نہیں کی۔

مخدوم علی خان نے وزیراعظم کا قوم سےخطاب پڑھ کر سنایا اور کہا کہ وزیراعظم  کےوالدنےمکہ کےقریب اسٹیل مل لگائی،وزیراعظم نےبچوں کےکاروبارشروع کرنےکالفظ استعمال نہیں کیا بلکہ انہوں نے کہا تھا کہ جدہ فیکٹری کاسرمایہ بچوں نے کاروبار کیلئے استعمال کیا۔ دبئی فیکٹری پر ایگریمنٹ عدالت میں پیش کیا گیا۔تحریک انصاف کی درخواست اور دلائل میں تضاد ہے، پی ٹی آئی نے تسلیم کیا کہ دوبئی فیکٹری 9 ملین ڈالرز میں فروخت ہوئی۔ ایک الزام 7 ملین ڈالرز پر ویلتھ ٹیکس نہ دینے کا ہے،دوسرا الزام ہے کہ دوبئی فیکٹری خسارے میں فروخت ہوئی۔ نواز شریف دوبئی فیکٹری کے بھی ڈائریکٹر نہیں تھے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ ہم یہ بات کیسے مان لیں؟ہمارے پاس نواز شریف کے ڈائریکٹر نہ ہونے کی کوئی دستاویز نہیں۔ ہمارے سامنے دو قسم کی منی ٹریلز ہیں،ایک یہ کہ پیسہ دبئی سے جدہ اور پھر لندن گیا۔دوسرایہ کہ پیسہ دبئی سے قطر اور پھر لندن گیا۔ مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ نوازشریف کا لندن جائیدادوں سے کوئی تعلق نہیں،دستاویزات دینا اور الزامات ثابت کرنا درخواست گزار کا کام ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ سوال یہ ہے کہ دوبئی فیکٹری کیلئے رقم دوبئی کیسے گئی؟ وزیراعظم کے وکیل نے جواب دیا کہ دوبئی فیکٹری قرض لے کر بنائی گئی۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ ریکارڈ کے مطابق دوبئی فیکٹری کے 25 فیصد شیئرز میاں شریف کے نہیں طارق شفیع کے تھے،آپ کی دستاویزات سے بھی بظاہر کیس واضح نہیں ہوتا۔ آپ کو عدالت کو مطمئن کرنا ہوگا۔

جسٹس گلزار احمد نے استفسارکیا کہ کیا دوبئی مل کا کوئی وجود تھا بھی یا نہیں؟۔ وزیراعظم کے وکیل نےکہا کہ یہ ثابت کرنا درخواست گزار کا کام ہے۔عدالت کمیشن بنائے جو دوبئی جا کر مل کا جائزہ لے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وزیراعظم نے خود دوبئی فیکٹری کا اعتراف کیا، انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ تمام ریکارڈ موجود ہے۔ اس اعتراف کے بعد بار ثبوت آپ پر ہے۔

وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ وہ عدالت کے تمام سوالات کے جواب دیں گے۔ تاہم  الزامات ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے ، قانون کے مطابق بارثبوت درخواست گزاروں پر ہے جنہوں نے متضاد موقف پیش کیا ۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ  کیس یہ ہے کہ نواز شریف نے تقریر میں غلط بیانی کی، اگر غلط بیانی نہیں ہوئی تو آپ کو ثابت کرنا ہے۔جسٹس کھوسہ نے کہا کہ ہم تقریر کو غلط نہیں مانتے لیکن اگرکوئی چیز چھپائی گئی ہے تو پھراسے آدھا سچ مانیں گے۔

جسٹس  آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ وزیراعظم نے کہا تھا میری زندگی کھلی کتاب کی مانند ہے،اس کھلی کتاب کے بعض صفحات غائب ہیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ شریف خاندان کے بیانات میں تضادات ہیں،ہم نے سچ کا پتہ چلانا ہے جو بیانات سے نہیں دستاویزات سے سامنے آئے گا۔

مخدوم علی خان نے کہا کہ تفصیلات نہ بتانا جھوٹ کے زمرے میں نہیں آتا، وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں آکر اپنے خاندان کے کاروبار کا عمومی جائزہ دیا، ان کی اسمبلی میں تقریر کوئی سیاسی بیان نہیں تھی، وہ کسی دعویٰ کا بیان حلفی نہیں تھا کہ وہ کسی مخصوص سوال کا جواب دے رہے ہوں۔ وزیراعظم کے بیان میں کوئی غلطی نہیں تھی۔ وزیراعظم نے اپنی پیدائش سے بھی پہلے اپنے خاندانی کاروبار کا احاطہ کیا۔ وزیراعظم پر الزام لگانے والوں کی پٹیشن میں تضادات موجود ہیں۔

جسٹس شیخ عظمت نے ریمارکس دیے کہ اگر پہلی تقریر میں کوئی بات رہ گئی تو دوسری تقریرمیں کور ہو سکتی تھی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ وزیراعظم نے تحریر شدہ تقریر کی تھی فی البدیہہ نہیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ کیا یہ معصومانہ خطا تھی یا جان بوجھ کر چھپایا گیا۔

وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ عوام کے منتخب نمائندوں کو نااہل قراردینا معمولی بات نہیں ،شک کا فائدہ ہمیشہ منتخب نمائندے کو ہوتا ہے۔ نااہلی کے متعلق قوانین اورعدالتی فیصلے موجود ہیں،قانونی شہادت کو کسی صورت نظر اندازنہیں کیا جا سکتا جبکہ عدالت نے تو کوئی شواہد ریکارڈ ہی نہیں کیے،شواہد کے طور پر اخباری تراشے اور کتابیں پیش کی گئیں،کیا تقریروں اور کتابوں کی بنیاد پر وزیراعظم کو نااہل کیا جا سکتا ہے؟

جسٹس اعجازافضل نے ریمارکس دیے کہ  اپنی نوعیت کا سب سے منفرد کیس سن رہے ہیں، کیس کے ہر پہلو میں احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔  جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ بعض مقدمات میں براہ راست ثبوت موجود نہیں ہوتا،ایسے کیسزمیں حالات اور واقعات سے سچائی کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔

مخدوم علی خان نے اپنے دلائل میں درخواست گزاروں کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے معاملے کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ  ان معاملات پر آرٹیکل 184/3 لاگو نہیں ہوتا۔ اگر اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے ریفرنس خارج ہو تو پھر 184/3 کی درخواست دائر کی جس سکتی ہے جبکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے ، اسی وجہ سے الیکشن کمیشن نے بھی اس کی سماعت ملتوی کر رکھی ہے۔درخواست گزاروں نے متضاد مؤقف دے کر اپنا کیس خراب کر دیا ہے،نواز شریف نے کہیں بھی جھوٹ نہیں بولا۔

وزیراعظم کے وکیل نے مزید کہا کہ نااہلی کا معاملہ لاہور ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے۔ اگر کوئی بات رہ گئی ہو تو اسے غلط بیانی نہیں کہا جا سکتا۔ وزیراعظم کی نااہلی کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت اعتراض کیا جا سکتا ہے،دوسرا طریقہ ٹریبونل میں انتخابی عذرداری دائر کرنے کا ہے لیکن درخواست گزاروں نے دونوں مواقع پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ ۔ دوسروں کے دیے گئے بیانات پروزیراعظم کو نااہل قرارنہیں دیا جا سکتا۔

جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ جن قوانین کا آپ حوالہ دے رہے ہیں ان کا اس کیس سے تعلق نہیں،عوامی نمائندگی ایکٹ کا اطلاق الیکشن سے قبل اور اس کے دوران ہوتا ہے۔ جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ  الیکشن کے بعد نااہلی کیلئے کو وارنٹو کی درخواست دائر کی جا سکتی ہے،عدالت تو کو وارنٹو پر پہلے بھی فیصلے کر چکی ہے۔ دوہری شہریت کے مقدمات بھی کو وارنٹو کے ہی تھے۔ ہمارے سامنے کیس غلط بیانات پر نااہلی کا ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیراعظم کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کو دلائل مکمل کرنے کیلئے کتنا وقت درکار ہوگاَ؟مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ چند روز میں اپنے دلائل مکمل کر لوں گا۔ جس پر جسٹس کھوسہ نے کہا کہ آپ کو جتنا وقت درکار ہے دیں گے۔

سپریم کورٹ نے  پاناما کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔ وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان کل بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

واضح رہے کہ پاناما کیس میں پاکستان تحریک انصاف ، عوامی مسلم لیگ اور جماعت اسلامی سمیت دیگر نے وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ پاناما لیکس میں وزیراعظم اور ان کے خاندان کے خلاف درخواستوں کی سماعت سابق چیف جسٹس، جسٹس انور ظہیرجمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ کررہا تھا۔ 30 دسمبرکو جسٹس انور ظہیرجمالی کی ریٹائرمنٹ کے بعد چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں نیا 5 رکنی لارجر بینچ کیس کی سماعت کررہا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار پاناما کیس کی سماعت کرنے والے بینچ کا حصہ نہیں ہیں۔ سماء

  Email This Post

 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.