Thursday, October 1, 2020  | 12 Safar, 1442
ہوم   > پاکستان

کراچی میں القاعدہ ,کالعدم لشکرجھنگوی کا نیٹ ورک توڑدیا گیا

SAMAA | - Posted: Feb 12, 2016 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 12, 2016 | Last Updated: 5 years ago

کراچی :ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ کراچی میں دہشتگردوں کے تين بڑے گروپ پکڑے۔ ستانوے خطرناک دہشگردوں کو گرفتارکیا جو مناواں ،آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر،کامرہ ائربیس اور کراچي ائرپورٹ سميت متعدد حملوں ميں ملوث ہيں۔ حیدر آباد جیل توڑنے کا منصوبہ بھی ناکام بنا دیا...

کراچی :ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ کراچی میں دہشتگردوں کے تين بڑے گروپ پکڑے۔ ستانوے خطرناک دہشگردوں کو گرفتارکیا جو مناواں ،آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر،کامرہ ائربیس اور کراچي ائرپورٹ سميت متعدد حملوں ميں ملوث ہيں۔ حیدر آباد جیل توڑنے کا منصوبہ بھی ناکام بنا دیا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر عاصم سلیم باجوہ نے کراچی میں پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ  دہشتگردوں کے خاتمے کیلئےجون 2014 سے آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیاتو شمالی وزیرستان دہشت گردوں کی بڑی پناہ گاہ بنا ہوا تھا، آپریشن کے تحت دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کردی گئیں، افغان سرحد کے ساتھ  چند پناہ گاہیں باقی ہیں جن کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ پوری دنیا ضرب عضب کی تعریف کرتی ہے۔

Ptv Asim Bajwa terriost FTG1 12-04

کراچی میں میں ستمبر 2013 میں رینجرز آپریشن کا آغاز ہوا تو مجرمانہ سرگرمیاں عروج پرتھیں،ٹارگٹ کلنگ ،بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان کے واقعات اوراہم شاہراہوں پر لوگوں کو لوٹا جارہا تھا۔ رینجرز نے کراچی میں تقریبا 7 ہزار  آپریشن کیے جن کے دوران 12 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں سے 6 ہزار کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

کراچی میں رینجرز کے آپریشن کے دوران 9 ہزار چھوٹے بڑے جدید ہتھیار اور 4 لاکھ سے زائد گولیاں برآمد کی گئیں۔آپریشن سے

ٹارگٹ کلنگ میں 70 فیصد کمی آئی،بھتہ خوری میں 85 فیصد جبکہ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں 90 فیصد تک کمی آئی۔ کراچی آپریشن میں ابھی بھی نمایاں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں اور مکمل امن بحال ہونے تک یہ جاری رہے گا۔

Ptv Asim Bajwa terriost FTG 12-0400

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس بریفنگ میں مزید کہا کہ ضرب عضب کا آغاز ہوا تو خدشہ تھا کہ رد عمل کے طور پر ملک بھر میں کارروائیاں کی جائیں گی۔کراچی میں 13 ہزار 212 انٹیلی جنس آپریشن کیے جا چکے ہیں ۔کراچی میں دہشتگردی کے واقعات میں 2 بڑے گروہ  ’القاعدہ برصغیر‘اور ’کالعدم لشکر جھنگوی‘ شامل ہیں جنہیں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی معاونت حاصل ہے ۔ دہشت گردوں کے ٹولے آپس میں مل کر بھی دہشتگردی کرنا چاہ رہے ہیں۔

آپریشن کے دوران القاعدہ برصغیر کے نائب امیر سمیت 97 خطرناک دہشت گردوں کو پکڑا گیا جن میں 3 انتہائی مطلوب ٹارگٹ کلرز بھی شامل ہیں۔ ان میں سے 26 کے سر کی قیمت مقرر تھی اور یہ تمام دہشتگرد ریاست کو انتہائی مطلوب تھے۔ القاعدہ کی مالی معاونت کرنے والے  12 ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے گرفتار دہشتگردوں میں دھماکا خیز مواد کے ماہر کالعدم لشکر جھنگوی کے 15 کارندے اور 6 خود کش بمبار بھی شامل ہیں۔

Ptv Asim Bajwa terriost FTG 12-04

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 97 دہشت گردوں کو تینوں گروہ استعمال کر رہے تھے۔ کراچی ائر پورٹ ، مناواں، مہران ائر بیس،کامرہ ائربیس اور سکھر میں آئی ایس آئی کے دفتر پر حملے میں یہی گروہ ملوث ہے۔ سی آئی ڈی انسپکٹرچوہدری اسلم پرخود کش حملہ بھی انہوں نے ہی کیا۔

لیفٹننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے اپنی پریس بریفنگ میں مزید بتایا کہ اسی گروپ کے نعیم بخاری اور مثنیٰ دہشتگردوں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے تھے۔ نعیم بخاری لشکرجھنگوی کراچی کا امیر اور کراچی ائر پورٹ حملے کا ماسٹر ہے۔ کراچی ائر پورٹ پر حملے کی پلاننگ میرانشاہ میں کی گئی۔حملے میں ہلاک ہو جانے والے 10 خود کش بمبار بھی میرانشاہ سے آئے تھے۔ مثنیٰ نام کا دہشت گرد القاعدہ برصغیر کا نمبر 2 اور دہشتگردوں کا اصل سہولت کار تھا۔مثنیٰ پر ڈیڑھ کروڑ، نعیم بخاری پر دو کروڑ اورمنا پر 50 لاکھ روپے کا انعام مقررتھا۔

Terrorist Ptv 1200 12-01Collage

ان دہشتگردوں نے حیدرآباد جیل بھی توڑنے کا منصوبہ بنایا تھا جسے ناکام بنا دیا گیا۔ دہشتگردوں نے لطیف آباد کے علاقے میں کرائے پرگھرلے پلاسٹک کنٹینرزکا کاروبار شروع کیا تھا۔ کراچی سے کارگو کے ذریعے واشنگ مشینیں حیدرآناد بھجوائی جاری رہیں جن کی موٹریں نکال کر اندر دھماکا خیز مواد اور پولیس سے چھینا گیا اسلحہ ہوتا تھا۔دہشت گردوں نے مکان میں ڈرم، بارود، بال بیئرنگ، ڈیٹونیٹر اور تاروں کا ڈھیرجمع کر رکھا تھا جبکہ پولیس سے چھینا گیا اسلحہ بھی گھر میں موجود تھا۔

172.16.16.9_07_20160212121833848

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ان دہشت گردوں میں غیرملکیوں سمیت 6 خودکش بمبار بھی شامل تھے۔ حیدرآباد جیل میں ڈینیئل پرل کیس کا ملزم خالد عمر شیخ قید ہے۔ دہشت گردوں نے حیدر آباد جیل پر حملے کی 90 فیصد تیاری مکمل کر لی تھی۔ بارود سے بھری 2 گاڑیاں تیار کی جا رہی تھیں جن میں 350 کلو گرام بارود موجود تھا۔ دہشتگرد پولیس کی وردیاں پہن کر جیل پر حملہ کرتے۔

جیل پرحملے کا مقصد احمدعمرشیخ سمیت 100 سے زائد قیدیوں کو رہا کرانا تھا۔دہشت گردوں کو ریکی کرانے والا جیل اہلکار پکڑا گیا ہے۔

172.16.16.9_07_20160212121647795

پریس بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ کامرہ ائربیس پرحملہ القاعدہ کے دہشت گرد نے پلان کیا۔ حملے کے بعد دہشتگرد واپس پشاور گئےاوربعد میں کراچی آنے پر انہیں دھرلیا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے عوام سے اپیل کی کہ اطراف میں نظر رکھیں اور کسی انجان پر بھروسہ نہ کریں تا کہ دہشتگردوں کے ہاتھوں استعمال نہ ہو سکیں۔ سماء
WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube