لال مسجد کےباہراحتجاج،مظاہرین کی گرفتاری پروزیرداخلہ کانوٹس

December 16, 2015
lal masjid

اسلام آباد : وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے لال مسجد کے سامنے سول سوسائٹی کے احتجاج کے دوران خواتین اور بچوں کی گرفتاری پر سخت نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کرنے والے پولیس افسران کو معطل کرنے کا حکم دے دیا۔

سولہ دسمبر کو لال مسجد کے سامنے  سول سوسائٹی کی جانب سے  احتجاج کیا گیا، اس دوران پولیس نے پانچ خواتین سمیت چھ افراد کو حراست میں لے لیا۔

وفاقی دارالحکومت آبپارہ میں واقع لال مسجد کے سامنے سول سوسائٹی نے شہدائے آرمی پبلک اسکول پشاور کے حق میں مظاہرہ کیا، جس کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پانچ خواتین سمیت چھ افراد کو حراست میں لے لیا۔ واقعہ پر وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے سول سوسائٹی کے ارکان کی مبینہ گرفتاری کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج ہر کسی کا حق ہے۔

وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ بلاجواز کارروائی کرنے والے پولیس افسران کی نشاندہی کر کے انہیں معطل کیا جائے اور تمام واقعہ کی رپورٹ وزارت داخلہ کو پیش کی جائے۔

پولیس ذرائع کے مطابق نقص امن کے خدشے کے تحت مظاہرین کو گرفتار کیا گیا، اس سے قبل جامعہ حفصہ کے قریب سیکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی تھی اور سانحہ پشاور کے پیش نظر شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، جب کہ ناکوں پرمشکوک افراد کی تلاشی کاسلسلہ جاری رہا اور اس حوالے سے وزارت داخلہ میں ملک بھر میں سیکیورٹی صورت حال کی مانیٹرنگ جاری۔ سماء