Thursday, October 29, 2020  | 11 Rabiulawal, 1442
ہوم   > پاکستان

افغانستان کےچوکیدارنہیں،تاہم اشرف غنی کی مددکیلئےآخری حدتک جائینگے،نثار

SAMAA | - Posted: Oct 10, 2015 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Oct 10, 2015 | Last Updated: 5 years ago

اسلام آباد : وفاقی وزیر داخلہ چوہدری کا کہنا ہے کہ کوئی چھینک بھی مارے تو الزام پاکستان پر لگایا جاتا ہے، انہوں نے ایک بار پھر ملک دشمنوں کے خلاف اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان مخالف زبان افغانستان کی اپنی نہیں ہے، بھارت کی ہے، پشاور سمیت دیگر حملوں کے تانے بانے افغانستان...

اسلام آباد : وفاقی وزیر داخلہ چوہدری کا کہنا ہے کہ کوئی چھینک بھی مارے تو الزام پاکستان پر لگایا جاتا ہے، انہوں نے ایک بار پھر ملک دشمنوں کے خلاف اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان مخالف زبان افغانستان کی اپنی نہیں ہے، بھارت کی ہے، پشاور سمیت دیگر حملوں کے تانے بانے افغانستان میں جا کر ملتے ہیں، پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے ہیڈکوارٹرز افغانستان میں ہیں، تاہم پھر بھی پاکستان نے کبھی افغان حکومت اور انٹیلی جنس پر الزام نہیں لگایا، ہم افغانستان کے چوکیدارنہیں، مگر اس کے باوجود  صدر غنی کی حکومت کی مدد کیلئے آخری حد تک جائیں گے۔

اسلام آباد میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایک بار پھر افغانستان کی جانب سے بے سروپا پروپگنڈے اور الزامات کا منہ توڑ جواب دے دیا، پریس کانفرنس میں گرجتے برستے وفاقی وزیر داخلہ افغانستان کو آئینہ بھی دکھایا اور حقیقت بھی بتائی۔

افغان پروپگنڈے پر ردعمل:

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ یہ کون سا طریقہ ہے کہ کوئی چھینک بھی مارے تو الزام پاکستان پر لگا دیا جاتا ہے، پشاور سمیت دیگر حملوں کے تانے بانے افغانستان میں جا کر ملتے ہیں، پھر بھی پاکستان نے کبھی افغان حکومت اور انٹیلی جنس پر الزام نہیں لگایا، افغانستان میں کچھ بھی ہو جائے فوراً پاکستان پر الزام لگا دیا جاتا ہے،ہم افغانستان کے چوکیدار نہیں، مگر اس کے باوجود صدر اشرف غنی کی حکومت مدد کی کیلئے آخری حد تک جائیں گے، وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ افغان قیادت الزام تراشی سے گریز کرے، پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے ہیڈکوارٹرز افغانستان میں ہیں، پاکستان مخالف زبان افغانستان کی اپنی نہیں ہے، ایران سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ایران ہمارا حقیقت میں برادر دوست مسلم  ملک ہے، ایران کی جانب سے کبھی کبھار پاکستان کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے، اور اس معاملے پر ایرا ن سے بات چیت جاری ہے، افغانستان سے آنے والے افراد کی سرگرمیوں پر نظر ہے۔

بھارت دہشت گردی:

را اور ایل او سی پر بھارتی دہشت گردی پر ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے خلاف اقوام متحدہ کو ثبوت دیئے، دوسرے مرحلے میں مزید حساس دستاویزات شیئر کریں گے، حساس دستاویزات سے کئی ممالک کے چہرےعیاں ہوں گے، خطے میں فساد پھیلانے والوٕں کا خاتمہ مشن ہے، بلوچستان میں غربت کے خاتمے پر بھی توجہ دے رہے ہیں، بلوچستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والے شرمندہ ہوں گے، ہم چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے عوام ہر شعبے میں حصہ ڈالیں، انہوں نے صوبائی حکومت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ عبدالمالک اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، بلوچستان اور پاکستان کو امن کا گہوارہ بنائیں  گے، ماضی میں کسی نے اس مسئلے کو حل کرنے پر توجہ  نہیں دی، دشمنوں کی بات کا جواب نہیں دینا۔

نیشنل ایکشن پلان:

نیشنل ایکشن پلان سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ بگاڑ کو درست کرنے میں وقت لگتا ہے، نیشنل ایکشن پلان میں میڈیا کا اہم کردار ہے، قوم کی مشترکا کوششوں سے حالات بہتر ہوئے ہیں، ابھی جنگ مکمل طور پر نہیں جیتی، پاکستان میں 2010اور2011میں دہشت گردی کی انتہاء ہوئی، صرف فوجی آپریشن سے دہشت گردی ختم ہوئی ہے،نہ ہوگی، قوم اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں سے دہشت گردی کم ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ ورانہ قوتوں کو کچلنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں، ماضی میں کسی نے اس مسئلے کو حل کرنے پر توجہ  نہیں دی، مل کر پاکستان اور بلوچستان میں امن اور ترقی لائیں گے، افغانستان کے ساتھ طویل سرحد کی نگرانی آسان  نہیں، ان کا کہنا تھا کہ دشمنوں کی بات کا جواب نہیں دینا، افغانستان سے آنے والے افراد کی سرگرمیوں پر نظر ہے۔

ایف سی:

ایف سی کی کارکردگی پر انہوں نے بتایا کہ ایف سی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں مصروف ہے، ایف سی سرحد کی حفاظت  بھی کر رہی ہے، ایف سی بجلی کی تنصیبات  کو بھی تحفظ فراہم کر رہی ہے، ایف سی صوبے میں حساس تنصیبات پر تعینات ہے، ایف سی کو دہشت گردوں کی کمر توڑنے کی ہدایات دی ہیں، کسی کے خلاف کیس ہے توعدالت میں پیش کیا جائے، لاپتا افراد کے معاملے کی ہر سطح پر مذمت کرتے ہیں۔

سول ملٹری تعلقات:

سول ملٹری تعلقات پر وزیر داخلہ نے کہا کہ فوجی قیادت سے اہم قومی معاملات  پر مشاورت ہوتی ہے، آج تک فوج سے کسی معاملے پر کوئی تلخی نہیں ہوئی، کچھ لوگ سول ملٹری تعلقات خراب کرنا چاہتے ہیں، سول ملٹری  تعلقات کو قریب سے دیکھا، پرویز مشرف اور شجاع پاشا سے تلخی رہی ، میں تیس سال سے سیاست میں ہوں، آج سے پہلے سول ملٹری تعلقات کو اتنا اچھا نہیں دیکھا۔

ضمنی انتخابات:

عمران خان کی غیر مہذب زبان پر وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ گالم گلوچ سے صرف فساد ہوتا ہے، وزیراعظم اور ن لیگ کی قیادت نے گالی کا جواب گالی سے نہیں دیا، لاہور کے عوام کل کارکردگی پر فیصلہ کریں گے، ضمنی انتخابات جمہوری نظام کا حصہ ہیں، پی ٹی آئی کو اپنی کارکردگی پیش کرنی چاہیے تھی، ن لیگ کو پنجاب حکومت کی کارکردگی بتانا چاہیے تھی، انہوں نے کہا کہ یہ کوئی دنگل نہیں، جو گالم گلوچ کی گئی، سیاست گالم گلوچ کا نام نہیں، مخالفین کہتے ہیں کہ انقلاب لائیں گے، انقلاب گالم گلوچ سے نہیں آتا، تحریک انصاف نے تضحیک آمیر تقاریر کیں۔

متحدہ سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ ایم کیوایم سیاسی  جماعت ہے، دہشت گرد تنظیم نہیں، جو سیاسی لوگ ہیں ان سے بات چیت ہوگی۔ سماء
WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube