Thursday, October 29, 2020  | 11 Rabiulawal, 1442
ہوم   > پاکستان

وزیراعظم ایک اور باری کیلئے پر عزم، جوڈیشل کمیشن بنا کر رسک لیا

SAMAA | - Posted: Oct 10, 2015 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Oct 10, 2015 | Last Updated: 5 years ago

Pm-Nawaz-Media-Talk-Ptv-10-10

لاہور: وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ کئي دہائيوں سے بجلي بحران ميں دبے ہوئے ہيں، بھاشا ڈيم کي لاگت بہت زيادہ ليکن وہاں سے ملنے والي بجلي سستي ہوگي، بھاشا اور داسو ڈيم ہمارے آئندہ دور حکومت ميں مکمل ہونگے۔

لاہور میں صحافیوں سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ تھر میں کوئلے کي کانيں کئي سال سے موجود ہيں، تھر ميں کوئلے کے ذخائر پر بيس بچيس سال پہلے ہي کام شروع  ہوجاتا۔

وزیراعظم نے کہا کہ نيپرا اور پي سي ون سے بھي کم لاگت ميں منصوبے مکمل ہورہے ہيں، کم لاگت پر منصوبے مکمل کرنے پر ہماري پوچھ گچھ ہوني چاہیئے۔

172.16.16.9_07_20151010150118906

کراچی کی صرتحال پر وزیراعظم نے کہا کہ الٹي گنگا کا رخ موڑ کر سيدھا کيا جارہا ہے، کراچي کي روشنيوں کے ساتھ پاکستان کي روشنياں بحال کريں گے، کراچي آپريشن مکمل اتفاق رائے کے ساتھ شروع کيا، کراچي آپريشن دو سال سے چل رہا ہے اور کامياب ہے۔ آپريشن ضرب عضب ايک سال سے چل رہا ہے اور وہ بھی بہت کامياب ہے۔

نوازشریف نے کہا کہ بچے ميٹرو بس ميں بيٹھ کر عزت کے ساتھ اسکول کالج پہنچ جاتے ہيں،، سب خوش ہيں ان کے بچے ايئرکنڈيشن بس ميں اسکول پہنچ جاتے ہيں،، ميٹرو بس کے بعد لاہور کيلئے ميٹرو ٹرين لارہے ہيں۔

172.16.16.9_07_20151010150040233

تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم صاحب نے کہا کہ ايک پارٹي اس بات پر تلي ہے کہ کسي مثبت کام ميں شامل نہيں ہونا، يہ پارٹي ميں نہ مانو، توڑ پھوڑ اور دھرنوں کي سياست کرنا چاہتي ہے۔ عمران خان کے ساتھ دھرنوں کے بعد بھي بات چيت کي ، دھرنوں سے پہلے ميں خود عمران خان کے گھر گيا، عمران خان سے خوشگوار باتوں کا نتيجہ دھرنوں کي صورت ميں نکلا، عمران خان نے دھرنا خود ختم کيا ہم نے نہيں کہا تھا۔

نوازشریف نے کہا کہ کے پي کے ميں پي ٹي آئي کي عددي حيثيت نہيں تھي ليکن انھيں قبول کيا، مولانا فضل الرحمان کي خواہش تھي کہ کے پي کے ميں اتحادي حکومت بنائي جائے، ہمارے لئے کے پي کے ميں حکومت بنانا مشکل نہ تھا ليکن ايسا نہيں کيا۔

انہوں نے کہا کہ انھوں نے پي ٹي وي پر حملہ کيا اور قومي اسمبلي کے دروازے توڑے، دھرنے ميں سپريم کورٹ کے ججز کے راستے بند کرديئے گئے، کنٹينرز پر کھڑے ہوکر تقارير اور مناظر قوم کو آج بھي ياد ہيں۔

وزیراعظم نے دھرنوں کے نتیجے میں بننے والے جوڈيشل کميشن کو بڑا رسک کا فیصلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جوڈيشل کميشن کا فيصلہ انکے خلاف آتا تو فوراً مستعفي ہوجاتا۔ جوڈيشل کميشن کا فيصلہ پي ٹي آئي کيخلاف آيا ليکن ان کے کان پر جوں نہيں رينگي۔ پي ٹي آئي والوں کو ہر اہم موقع پر دعوت دي۔

وزیراعظم نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم سستي بجلي، صحت عامہ ميں اصلاحات، تعليم ميں بہتري ديں گے تو ووٹ کيوں نہيں مليں گے، ترقياتي منصوبے سے غربت ختم اور خوشحالي آئيگي۔

حکومتی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دوہزار بارہ سے پہلے کي دہشتگردي ديکھيں اور آج کا ماحول ديکھيں، چيلنجز کي آنکھوں ميں آنکھ ڈال کر فيصلے کئے۔ مجھ  سے نہ پوچھيں کراچي والوں سے امن و امان کا سوال کرکے ديکھيں، بلوچستان کي صورتحال ديکھيں اور ان سے سوال کريں جواب مل جائے گا۔

کشمیر کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشميري عوام کے جذبات کے مطابق مسئلے کا حل نکلنا چاہئے، اقوام متحدہ کي آنکھوں ميں آنکھيں ڈال کر سچ بولا ہے، اقوام متحدہ اپني قراردادوں پر عمل نہيں کرائيگا تو کون کرائے گا، بھارت کو بھي بات چيت کي پيشکش کي۔

وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ اچے تعلقات کي ابتدا کي ہے، افغانستان ميں امن کيلئے نے طالبان کو بہت محنت سے قائل کيا، امن مذاکرات کے موقع پر ملا عمر کے انتقال کي خبر بريک کرنے کي کيا ضرورت تھي، يہ خبر کس نے بريک کي اور کيوں بريک يہ ديکھنا پڑے گا۔ افغانستان امن مذاکرات پٹڑي پر واپس لانے کي بھرپور کوشش کررہے ہيں۔ سماء

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube