Tuesday, November 30, 2021  | 24 Rabiulakhir, 1443

وزیراعظم کی مذاکرات کی بحالی کیلئےبھارت کو4نکاتی ایجنڈے کی پیشکش

SAMAA | - Posted: Sep 30, 2015 | Last Updated: 6 years ago
SAMAA |
Posted: Sep 30, 2015 | Last Updated: 6 years ago

Pakistan's Prime Minister Muhammad Nawaz Sharif addresses the 70th Session of the United Nations General Assembly at the UN in New York on September 30, 2015. AFP PHOTO/JEWEL SAMAD

 

نیویارک : وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا کہنا ہے کہ تین دہائیوں سے مسئلہ کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہونا سلامتی کونسل کی ناکامی ہے، کشمیریوں کو شامل کیے بغیر کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا، اہم فورم سے خطاب میں وزیراعظم نے دنیا کو ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کی اہمیت سے بھی آگاہ کیا، جب کہ بھارت کی جانب ایک بار پھر ہاتھ بڑھاتے ہوئے مذاکرات کی بحالی کیلئے چار نکاتی ایجنڈا بھی پیش کردیا۔

اقوام متحدہ کے اہم فورم سے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا اہم خطاب سامنے آگیا، جرب عضب ہو یا نیشنل ایکشن پلان، مسئلہ کشمیر ہو یا ایل او سی پر بھارتی دہشت گردی، وزیراعظم نواز شریف دنیا کے سامنے کھل کر بولے، سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں ہتھیاروں کی دوڑکاحصہ نہیں بنے گا، تاہم خطے میں ہونے والی تبدیلیوں سے وہ الگ تھلگ نہیں رہ سکتا۔

Muhammad Nawaz Sharif, Prime Minister of Pakistan, addresses the 70th session of the United Nations General Assembly September 30, 2015 at the United Nations in New York. AFP PHOTO/DON EMMERT

انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا عالمی امن کیلیے تشویش کاباعث بن رہاہے، بھارت نے ایل اوسی اور ورکنگ باؤنڈری پرجنگ بندی کی خلاف ورزیاں معمول بنالی ہیں جس کے نتیجے میں خواتین اوربچوں سمیت کئی افراداپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

وزیراعظم نے ہندوستانی کی کولڈاسٹار ملٹری ڈاکٹرائن پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تخریب کاری کے پیچھے بھارتی خفیہ اداروں کا سراغ لگالیا ہے، بھارت کی سول اورفوجی قیادت کی جارحانہ بیان بازی صورت حال کو بدترکررہی ہے۔

Muhammad Nawaz Sharif, Prime Minister of Pakistan, addresses the 70th session of the United Nations General Assembly September 30, 2015 at the United Nations in New York. AFP PHOTO/DON EMMERT

اہم فورم کا جائز استعمال کرتے ہوئے ایک بار پھر مذاکرات کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم میاں نواز شریف نے بھارت کو چار نکاتی ایجنڈے کی پیشکش کردی، وزیراعظم نے تجویز دی کہ پاکستان اور بھارت 2003 کے لائن آف کنٹرول پر مکمل جنگ بندی کے معاہدے کا احترام کرتے ہوئے اس پر عمل کرنا چاہئے۔

انہوں نے بھارت کو جنگ نہ کرنے کے معاہدے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصرگروپوں کومزید فعال کیاجائے، دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھنے سے روکنے کامیکنزم بنایاجائے، جب کہ پاکستان اور بھارت تنازعات کے حل کیلئے جامع مذاکرات کاسلسلہ شروع کریں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت کہتا ہے کشمیر پر بات نہ کریں ،ایسا کیسے ممکن ہے،پاکستان اور کشمیر صدیوں سے جغرافیائی،مذہبی اورثقافتی رشتوں سے جڑے ہیں،پاکستان کشمیرکواپنی شہہ رگ سمجھتاہے،  1947سے کشمیر پر سلامتی کونسل کی قراردادیں عمل کی منتظرہیں، بھارت کے زیرتسلط کشمیریوں نے صرف مظالم اور وعدہ خلافیاں ہی دیکھی ہیں۔

وزیراعظم نے سلامتی کونسل کو شرم دلاتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیرپر قراردادوں پرعمل درآمد نہ ہونا سلامتی کونسل کی ناکامی ہے، چھ دہائیوں کے دوران مسئلہ کشمیر دوطرفہ طور پرحل کرنے کی کوششیں بارآور ثابت نہیں ہوئیں ،بھارتی قیادت مسئلہ کشمیر پر بامقصدمذاکرات کرنے سے کترا رہی ہے۔

جنرل اسمبلی کے 70 ویں اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر مکمل جنگ بندی کے لئے 2003 کے معاہدے کا احترام کیا جائے، پاکستان اور بھارت کسی صورت ایک دوسرے کو طاقت کے استعمال کی دھمکی نہ دیں جب کہ بھارت کشمیر سے فوج کے انخلا کے اقدامات یقینی بنائے اور سیاچن و گلیشئیر سے غیرمشروط فوجیوں کی واپسی یقینی بنائی جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ دنیا میں تباہ جنگوں کے بعد صورتحال بہتر بنانے کے لئے بنائی گئی تھی جسے بنے 70 سال ہوچکے ہیں تاہم دنیا میں اب بھی دہشت گردی بڑھ رہی ہے، پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے اور ہر قسم کی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتا ہے، آپریشن ضرب عضب دہشت گردی کے خلاف دنیا کا سب سے بڑا آپریشن ہے، دنیا سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں تاہم غربت اور جہالت کو ختم کئے بغیر دہشت گردی کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔

افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ افغانستان میں قیام کیلئے پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے، ہم پر امن ہمسائیگی کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں،  پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ خطے میں خوشحالی لائے گا،  داعش جیسے تنظیمیں عالمی امن کیلئے خطرہ ہیں، افغانستان میں قومی حکومت کے بہتر نتائج سامنے آئے، پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں، عالمی برادری کے تعاون سے افغانستان میں مفاہمت کے عمل میں تعاون کیا،افغان حکومت اورطالبان کے درمیان ابتدائی رابطوں کے بہترنتائج سامنے آئے، ہم افغانستان میں امن واستحکام کیلیے ہرممکن تعاون کیلیے پرعزم ہیں۔ سماء

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube