Saturday, November 28, 2020  | 11 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > پاکستان

ایک دوسرےکوکافر،واجب القتل قراردینےوالوں کیخلاف ایکشن ہوگا،وزیرداخلہ

SAMAA | - Posted: Sep 7, 2015 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Sep 7, 2015 | Last Updated: 5 years ago
ایک دوسرےکوکافر،واجب القتل قراردینےوالوں کیخلاف ایکشن ہوگا،وزیرداخلہ

ویب ایڈیٹر:

اسلام آباد : وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ دہشت گرد نظریات ختم کرنے کیلئے علماء کی خدمات حاصل کی جائیں گی، مدارس کو بیرون فنڈنگ کا طریقے کار حکومت طے کرے گی، جب کہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک دوسرے کو کافر اور واجب القتل قرار دینے والوں کیخلاف بھرپور ایکشن ہوگا۔

مزید پڑھیں کیا اب مدارس پر چھاپے نہیں پڑھیں گے ؟؟

اسلام آباد میں قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد سے متعلق اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے دہشت گردی کیخلاف مشترکا جدوجہد کرنے کیساتھ ساتھ مدارس کی رجسٹریشن پر بھی اتفاق کیا ہے، دہشت گرد نظریات ختم کرنے کیلئے علماء کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ دس ستمبر کو چاروں وزرائےاعلیٰ کا اجلاس طلب کیا ہے، اجلاس کا مقصد نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کا جائزہ لینا ہے، نیشنل ایکشن پلان پر کابینہ کو بریفنگ دی گئی، آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی اجلاس میں شریک ہونگے، آج ہونے والے اجلاس میں تمام مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے اتفاق ہوا، رجسٹریشن آسان بنانے کیلئے کمیٹی تشکیل دی جائے گی، تین ماہ میں مدارس کے تمام کوائف حاصل کیے جائیں گے۔

جب کہ مدارس کو ملنے والی بیرونی امداد سے متعلق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ مدارس کو بیرونی امداد کا طریقہ کار حکومت وضع کرے گی، دہشت گردی میں ملوث شخص یا ادارے کیخلاف بلا امتیاز کارروائی ہوگی، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے علماء کی خدمات حاصل کی جائیں گی، تمام علمائے کرام نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے پر اتفاق کیا ہے۔

رقوم کی تقسم سے متعلق وزیر داخلہ نے بتایا کہ مدارس کو رقوم کی ترسیل بینکوں کے ذریعے کی جائے گی،جب کہ مدارس بیرونی امداد کی آڈٹ رپورٹ پیش کرنے کے پابند ہونگے،
مدارس سے متعلق قانون سازی تنظیم المدارس کی مشاورت سے ہوگی، اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والے ملک اور مذہب سے مخلص نہیں، وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اجلاس میں مدارس کا نصاب بہتر بنانے کیلئے کمیٹی بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نصاب کیلئے وزارت تعلیم، مذہبی امور، مدارس کی کمیٹی قائم ہوگی، مدارس کو بدنام کر کے مالی مقاصد حاصل کرنیکا سلسلہ ختم ہونا چاہیے، پاکستان کے مدارس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں، جب کہ اجلاس میں علماء نے مدارس میں اولیول،اے لیول نصاب شامل کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

سانحہ صفوراء پر وزیر داخلہ نے بتایا کہ سانحہ صفورا میں ملوث دہشت گرد مدارس کے پڑھے ہوئے نہیں تھے، سانحہ صفورہ میں اعلیٰٰ تعلیم یافتہ طالبعلم ملوث تھے، مذہب اور فرقے کے نام پر قتل سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ایک دوسرے کو کافر اور واجب القتل قرار دینے والوں کیخلاف ایکشن ہوگا، ایسے لوگ اور اس میں ملوث عناسر اب بچ نہیں سکیں گے۔ سماء

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube