Saturday, August 8, 2020  | 17 Zilhaj, 1441
ہوم   > پاکستان

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، آئینی ترامیم کیخلاف درخواستیں خارج، فوجی عدالتیں قانونی قرار

SAMAA | - Posted: Aug 5, 2015 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Aug 5, 2015 | Last Updated: 5 years ago
سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، آئینی ترامیم کیخلاف درخواستیں خارج،  فوجی عدالتیں قانونی قرار

اسٹاف رپورٹ:

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے 18 ویں اور 21 ویں آئینی ترمیم  کے خلاف دائر تمام درخواستیں خارج کرتے ہوئے فوجی عدالتیں برقرار رکھنے کاحکم دے دیا ہے۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ ناصر الملک اور جسٹس دوست محمد نے 26 جون کو محفوظ کیا گیا فیصلہ پڑھ کر سنایا، 17 رکنی بینچ میں سے 11 ججز نے فوجی عدالتوں کی حمایت جبکہ 6 نے مخالفت کی، 14 ججز نے اٹھارہویں ترمیم کے حق جبکہ 3 نے مخالفت میں فیصلہ دیا۔

مزید پڑھیے: سپریم کورٹ کا فیصلہ، فوجی عدالتوں کی سزاؤں پر حکم امتناع ختم

اکیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں میں فوجی عدالتوں کے قیام ، آرمی ایکٹ میں ترمیم کو چیلنج کیا گیا تھا جبکہ اٹھارہویں ترمیم ججز تقرری کے طریقہ کار، خواتین کی مخصوص نشستوں اور پارٹی سربراہ کے رکن پارلیمنٹ کو ڈی سیٹ کرنے کے اختیار کو چیلنج کیا گیا تھا۔

ملک میں فوجی عدالتیں پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد قائم کی گئیں جس کو قومی اسمبلی اور سینیٹ نے 6 جنوری 2015 کو کثرت رائے سے منظور کیا تھا، 21 ویں آئینی ترمیم کے مطابق فوجی عدالتوں کا دورانیہ دو سال  کیلئے ہوگا۔

مزید پڑھیے: تاریخ ساز فیصلے پر متضاد آراء

عدالت عظمٰی میں صوبائی خودمختاری اور ججز تقرری کے طریقہ کار سے متعلق 18 ویں آئینی ترمیم کو 2010ء میں چیلنج کیا گیا تھا جبکہ فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق 21 ویں ترمیم رواں سال 7 جنوری کو چیلنج کی گئی تھی، سپریم کورٹ نے دونوں آئینی ترامیم پر 26 جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

مختلف بار کونسلز اور وکلاء نے انفرادی حیثیت میں آئینی ترامیم کو چیلنج کیا تھا، اٹھارہویں آئینی ترمیم کے خلاف 24 جبکہ 21 ویں آئینی ترمیم کے خلاف 17 درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ سماء

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube