Friday, October 23, 2020  | 5 Rabiulawal, 1442
ہوم   > پاکستان

کشیدگی کم کرنے کیلئےافطار ڈنر ایک کوشش، مگر زرداری سیاسی تنہائی کا شکار

SAMAA | - Posted: Jun 19, 2015 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Jun 19, 2015 | Last Updated: 5 years ago
کشیدگی کم کرنے کیلئےافطار ڈنر ایک کوشش، مگر زرداری سیاسی تنہائی کا شکار

اسٹاف رپورٹ :

اسلام آباد : ماہ مبارک کی آمد کے ساتھ ساتھ سندھ کی سیاست میں بحران آیا تو پیپلزپارٹی رہنما آصف علی زرداری نے سیاسی رہنماؤں کوافطارکی دعوت دے ڈالی، متحدہ قومی موومنٹ اور ق لیگ نے دعوت قبول کرلی مگرتحریک انصاف نے 'ناں' کردی۔

ماہ مبارک آیا توسیاست میں پیپلزپارٹی کی صف بندی دعوت افطار کا بہانہ بن گئی،  پاک فوج کے خلاف ایک بیان دے کر سابق صدر سیاسی تنہائی کا شکار ہوگئے، افطار ڈنر کے لیے کیے سیاسی جماعتوں سے رابطے، مگر بیشتر رہنماؤں نے معذرت ہی کرلی،   پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے ٹیلیفون گھمایا اور سیاسی رہنماؤں کودعوت افطار پر بلایا۔ ذرائع کے مطابق سابق صدر آصف زرداری نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کوبھی  ٹیلی فون  کرکے افطار ڈنر میں شرکت کی دعوت دی ہے۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ نے دعوت افطار قبول کرلی، دو رہنما افطار کی تقریب میں شریک ہوں گے، مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی بھی مشاورتی اجلاس اور افطار ڈنر میں شرکت کریں گے،جب کہ سینیٹرروبینہ عرفان اور امتیازرانجھا بھی افطار ڈنر کو رونق بخشیں گے۔  تحریک انصاف نے پیپلزپارٹی کی دعوت میں نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے، عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ زرداری کی فوج پر تنقید قابل قبول نہیں.

جب کہ  اے این پی کے سربراہ اسفندیارولی نے طبیعت کی خرابی کو وجہ بناکر  افطار ڈنر میں شرکت سے معذرت کرلی،تاہم غلام بلور،میاں افتخارافطارپارٹی میں شریک ہونگے ، وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے تو کہہ کر جان چھڑائی کہ وہ تو مسجد میں افطار کرتے ہیں، زرداری ہاؤس میں ان کا کیا کام، جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی شرکت بھی مشکوک  ہے ۔ سماء

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube