Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

پاکستان کی نمائندگی کرنا میرے لیے اعزاز ہے،عابیا اکرم

SAMAA | - Posted: Dec 8, 2021 | Last Updated: 1 month ago
Posted: Dec 8, 2021 | Last Updated: 1 month ago

بی بی سی کی 100 خواتین کی فہرست  کا حصہ بننے والی پاکستان کی  سماجی کارکن عابیا اکرم کا کہنا ہے کہ معذور افراد کو قید کرنے کے بجائے معاشرے کو ایسا بنانے کی ضرورت ہے جہاں وہ یکساں کردار ادا کرسکیں۔

سماء ٹی وی کے پروگرام نیا دن میں شریک عابیا نے کہا کہ پاکستان کی نمائندگی کرنا میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے کیونکہ مجھے یہ لگتا ہے کہ پوری دنیا میں جہاں ہم ڈس ایبلیٹیز  کے حوالے سے بات کررہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ان خواتین و لڑکیوں کی حقیقت پسندانہ مثالیں بھی موجود ہیں جنہوں نے جدوجہد کی اور نہ صرف اپنے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے کام کررہی ہیں۔

پاکستان میں خصوصی افراد کے حوق کیلئے کام کرنے والی عابیا اکرم نے کہا کہ ڈس ایبلڈ پرسنز میں سے 50 فیصد خواتین اور لڑکیاں ہیں تو انہیں بہت سے چیلنجز اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اگر آپ کی کوششوں کو  تسلیم  کیا جائے تو یہ انسان کو مزید بااختیار بنادیتا ہے کہ آپ معاشرے کو تبدیل کرسکتے ہیں اور ایک مثبت ماحول پیدا کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ معذوری کے حوالے سے شروع میں بہت زیادہ چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جیسا کہ ملازمتوں کے حصول اور انفراسٹرکچر کی رکاوٹیں، یہ بھی کہ آپ گھر سے باہر بھی نکل رہے ہیں تو عمارتوں تک رسائی حاصل نہیں کرپاتے تھے۔ ایک اور بڑی رکاوٹ قانون سازی سے متعلق تھی کیونکہ ایسے قوانین نہیں بنے ہوئے جو معذور افراد کی ضروریات کی عکاسی کرتے ہیں، گزشتہ 2 دہائیوں میں ہم سب نے مل کر آواز اٹھائی اور بات کی کہ ڈس ایبلٹی رائٹس دراصل انسانی حقوق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انسانی نقطہ نظر سے ہر چیز تک رسائی حاصل ہونا ہمارا حق ہے، معذور افراد کو قید کرنے کے بجائے اپنے معاشرے کو اپنے ماحول کو ایسا بنائیں  تاکہ سب لوگ سوسائٹی میں یکساں کردار ادا کرسکیں۔ بل سے متعلق قانون سازی میں حکومت نے ہماری بہت مدد کی اور اب ڈس ایبلڈ پرسنز کے حقوق کے حوالے سے ایکٹ موجود ہے تاکہ معذور افراد کی آواز سنی جائے اور انہیں حقوق فراہم کیے جائیں۔

جسمانی معذوری کے ذاتی تجربے سے گزرنے والی عابیا اکرم 1997 سے جسمانی معذوری سے متعلق تحریک میں سرگرم ہیں جب انہوں نے بطور طالبہ اسپیشل ٹیلنٹ ایکسچینج پروگرام کا آغاز کیا۔

وہ پاکستان سے دولتِ

مشترکہ کے کامن ویلتھ ینگ ڈس ایبلڈ فورم کے لیے نامزد کی جانے والی پہلی رابطہ کار

ہیں۔ عابیا اکرم نیشنل فورم آف ویمن ود ڈس ایبلٹی کی بانی ہیں اور وہ اقوام متحدہ

کے معاہدہ برائے حقوقِ و نشوونمائے معذورین کے نفاذ کے لیے کوشاں ہیں۔

عابیا جسمانی معذوری کو 2030 میں پائیدار ترقی اور اجتماعی پیشرفت کے لیے اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں شامل کروانے کے سلسلے میں بھی کام کر رہی ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube