Monday, December 6, 2021  | 30 Rabiulakhir, 1443

ایساتوہرگزنہیں ہوگا،شیریں مزاری اوربیٹی پھرآمنےسامنے

SAMAA | - Posted: Oct 21, 2021 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Oct 21, 2021 | Last Updated: 2 months ago

مختلف سیاسی نقطہ نظررکھنے والی وفاقی وزیرانسانی حقوق شیریں مزاری اوران کی بیٹی ایمان زینب مزاری کافی عرصے بعدٹوئٹرپرایک بار پھرآمنے سامنے آگئیں۔

رہنما پی ٹی آئی شیریں مزاری کی صاحبزادی ایمان زینب اپنی ٹویٹس کے باعث خبروں کی زینت بنتی رہتی ہیں۔

حالیہ ٹویٹ میں انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ، ‘ اگرملک کو جادو ٹونے سے ہی چلانا تھا تو پھراس قوم کا پیسہ اتنی بڑی کابینہ پر کیوں ضائع ہو رہا ہے۔ ملک کا مذاق جادو ٹونے سے اڑایا جا رہا ہےاورآپ چاہتے ہیں کہ جادو کرنے والوں پر بات بھی نہ ہو، ایسا تو ہرگزنہیں ہوگا’۔

ایمان کی یہ ٹویٹ برطانوی نشریاتی ادارے میں صحافی عاصمہ شیرازی کے لکھے گئے کالم کے بعد ان کیخلاف سوشل میڈیا پرچلائےجانے والے ٹرینڈزکے تناظرمیں دیکھی جارہی ہے۔

اس ٹویٹ کے جواب میں شیریں مزاری نے ٹوئٹرپرہی بیٹی کو جواب دیتے ہوئے لکھا، ‘ مجھے شرمندگی ہے کہ آپ اس حد تک جاکرذاتی حملے کر رہی ہیں، خصوصا جب کہ بطورایک وکیل آپ کو علم ہونا چاہیے کہ بغیرکسی ثبوت کے ایسے الزامات عائد کرنا ہتک عزت کے زمرے میں آتا ہے۔

شیریں مزاری نے مزید لکھا کہ مسائل کی بنیاد پرتمام ترناکامی کے بعد اس حد تک جاکرذاتی حملے کرنا شرمناک ہے۔

پاک فوج پرتنقید

یہ پہلا موقع نہیں کہ شیریں مزاری اور ان کی بیٹی کے سیاسی اختلافات سامنے آئے ہوں، ایمان حکومت کے علاوہ پاک فوج کے حوالے سے بھی متنازع بیان دے چکی ہیں جس پر خاصی لے دے ہوئی تھی۔

دسمبر 2017 میں ایمان مزاری نے تحریک لبیک کا دھرنا ختم کرانے میں فوج کے کرداراورگرفتار دھرنا شرکا کی رہائی پران میں پیسے تقسیم کرنے سے متعلق معاملے پر بیان جاری کرتے ہوئے نہایت سخت الفاظ استعمال کیے تھے۔ ایمان مزاری کاکہنا تھا کہ اگر آپ کو تھوڑی سی بھی امید ہے کہ پاکستان ایک دن پروگریسو اور جمہوری ملک بن سکے گا جہاں لوگوں کی زندگی اور ان کےحقوق کو تحفظ ہو گا توآپ کو بولنا چاہیے، ڈرنے کا وقت ختم ہو گیا ۔

جواب میں شیریں مزاری نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایمان کے بیان سے متفق نہیں ہوں۔ پاک فوج کیخلاف بیان بیٹی کی اپنی رائے ہے، جس سے کوئی بھی اختلاف کرسکتا ہے۔ایمان بالغ ہے اور یہ اس کا اپنا نکتہ نظرہے، ہمیں زندگی کے تجربات سے سیکھنا چاہیے۔

بعد ازاں مئی 2018 میں بھی ایمان نے ایک بار پھر پاک فوج کی مخالفت کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کو بھی تسلی دے دی تھی۔

یہ ٹویٹ دراصل ماریانا بابر نامی صحافی کی ٹویٹ کے جواب میں کی گئی تھی جس میں انہوں نے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف غفور کے سامنے سوال اٹھایا تھا کہ وزیراعظم سے نیشنل سیکیورٹی میٹنگ بلوانے کی درخواست کی جا سکتی ہے جس میں جی ایچ کیو سے وضاحت مانگی جائے کہ اسد درانی کو بھارتی خفیہ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے شریک لکھاری کے ساتھ کتاب کی اجازت کیسے دی گئی؟۔

ردعمل دیتے ہوئے ایمان زینب نے لکھا تھا، ‘سویلینز پر بہت ترس آنے لگتا ہے، کرپشن پربھی صرف انہیں نکالااورغداری کا لیبل بھی صرف انہی پر لگایا گیا۔

ایمان زینب کی شاہد آفریدی پرتنقید

ایمان نے نوازشریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ نوازشریف جتنا میں آپ کو اورآپ کی سیاست کو ناپسند کرتی ہوں ، آخرکارمیں آپ کے سوال کا جواب دے سکتی ہوں ، آپ کو اس لیے نکالا کیونکہ آپ سویلین ہیں اور فوجی نہیں’۔

فیصل واوڈاکی ساکھ اوروقار

حکومت اورفوج کے علاوہ پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا بھی ایمان زینب کے نشانے پررہے، جنوری 2019 میں اس وقت کے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کے دوران مہمند ڈیم کے کنٹریکٹ سے متعلق سوال پرتلخی بھرے لہجے میں صحافی سے کہا تھا کہ ایسے سوال کی صرف آپ سے توقع تھی،آپکی جگہ کوئی اور ہوتا تو اس کا مائیک پھینک دیتا جس پر صحافیوں نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئےبائیکاٹ کردیا تھا۔

رویے کوتوہین آمیز قراردینے والی ایمان نے ٹوئٹرپرلکھا تھا کہ ، ‘فیصل واوڈا میں ساکھ اوروقارکےفقدان کے حوالے سے بحث کی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔ایک ایسے وقت میں جب صحافت پہلے ہی گھٹن کا شکارہے ، واوڈا کی جانب سے صحافی پراس قسم کا حملہ آزاد صحافت کے ساتھ حکومت کے توہین آمیز رویے کی وضاحت کرتا ہے’ ۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube