Saturday, October 16, 2021  | 9 Rabiulawal, 1443

پشتون ثقافت کے مختلف رنگ اور خصوصیات

SAMAA | - Posted: Sep 23, 2021 | Last Updated: 3 weeks ago
SAMAA |
Posted: Sep 23, 2021 | Last Updated: 3 weeks ago

آج پختون کلچر ڈے ملک بھر میں جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا، اسی سلسلے میں ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں تقریبات اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔

پختون اپنے ثقافتی شعائر و اقدار سے جنون کی حد تک پیار کرتے ہیں، اس لئے دنیا بھر میں عموماً اور پاکستان و افغانستان میں خصوصاً جہاں جہاں پختون آباد ہیں وہاں کا معاشرہ پختون ثقافت کا آئینہ دار ہوتا ہے تاہم پختون ثقافت کو باقاعدہ کسی ایک دن یعنی 23 ستمبر کو منانے کا فیصلہ آج سے 6 سال پہلے پشتو اکیڈمی کوئٹہ کے ایک ادبی سیمینار کے موقع پر ہوا تھا۔

سماجی ماہرین کے مطابق کلچر صرف موسمی حالات کی مناسبت سے اختیار کئے ہوئے پہناوے کا نام نہیں، بلکہ اس میں لباس کے علاوہ اُس قوم کے عقائد، طرز زندگی تمدن اور احساسات شامل ہوتے ہیں۔

پختون ثقافت بھی محض زبان اور لباس تک محدود نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا مکمل ضابطہ حیات ہے۔

پختون ثقافت دیانت، خدا ترسی، حیا، مہمان نوازی، وفا اور غیرت سے تشکیل پاتی ہے جو شریعت کی روسے بھی مستحسن سمجھے جاتے ہیں۔

اگر پختون ثقافت میں لباس کی بات کی جائے تو شلوار قمیص، کندھے پر چادر، روایتی پشاوری چپل اور پگڑی پختون ثقافتی لباس ہے اگرچہ پگڑی پہننے کا رواج بہت کم ہوگیا ہے لیکن اب بھی یہ ثقافتی لباس پختون معاشرہ میں حمیت کی علامت سمجھا جاتاہے۔

دوسری طرف اگرچہ پختون خواتین کو اکثر شٹل کاک برقع میں دکھایا جاتا ہے تاہم اکثریت پشتون خواتین پردے کیلئے شال اوڑھتی ہیں اور وہی ان کی ثقافتی پوشاک ہے۔

پختون سماج میں حجرے کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے جہاں پر گاؤں یا محلے کے لوگ فارغ اوقات یا خصوصاً شام کو روزمرہ معاملات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں، مہمانوں کو ٹھہراتے ہیں جبکہ روایتی موسیقی کی محفلیں بھی جمتی ہیں۔

پختون کلچر میں کوئی تہوار ہو یا خوشی کا کوئی بھی موقع، محفل موسیقی ضرور سجتی ہے۔ رباب، ستار اور طبلہ پشتو میوزک کے نمایاں آلات ہیں، ایسے موقع پر ڈھول کی تھاپ پر اتن ڈانس کا تڑکا ضرور لگایا جاتا ہے۔

تقریبات شادی بیاہ یا کسی بھی خوشی کے موقع پر روایتی رقص کو اتن یا اتنڑ کہا جاتا ہے، یہ پختون ثقافت کی ایک ایسی مثال ہے جو دور جدید میں بھی پختون معاشرے میں پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے۔

پختون ثقافتی کھانوں میں کابلی پلاؤ، چپلی کباب، کھچڑی، شوربہ، اوش، اوشک، ہیراک، برونی، لسی وغیرہ شامل ہیں جبکہ کھیلوں میں کبڈی، پٹ پٹونی اور تیر اندازی مشہور ہیں۔

پختون معاشرے میں جرگہ، ننواتئی، عہد و وفا، عورتوں کا احترام، مہمان نوازی، حب الوطنی جیسی روایات کی پاسداری سرفہرست ہیں۔

پختون معاشرہ میں جرگہ بیک وقت پارلیمنٹ اور عدالت دونوں طرح کے کام کرتا ہے، کسی درپیش مسئلے کے بارے میں کوئی لائحہ عمل بنانا ہو یا فریقین کے درمیان کسی تنازع کا فیصلہ دونوں صورتوں میں جرگہ ہی آخری حل سمجھا جاتا ہے۔

 کسی مجرم کی جانب سے اقبال جرم کے بعد معافی مانگنے کے اظہار کو ’ننوتے‘ کہا جاتا ہے جس میں مجرم مقامی عمائدین کے ہمراہ متاثرہ فریق کے حجرے جاکر معافی مانگتا ہے اور متاثرہ خاندان کی جانب سے قبولیت کی صورت میں صلح ہوجاتی ہے، کیونکہ گھر آئے دشمن کو معاف نہ کرنا پختون اپنے کلچر یعنی پختون ولی کیخلاف سمجھتا ہے۔

پختون ولی کی رُو سے اگر کسی کا دشمن بھی اس کے گھر آکر پناہ مانگ لے تو اُسے پناہ دی جاتی ہے اور اُس کے تحفّظ کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

پختون ثقافت میں عورت کا احترام ایک قانون کی حیثیت رکھتا ہے اور ایک ایسے معاشرہ میں جہاں سب سے بری رسموں میں انتقام اور ذاتی دشمنیاں پالنا بھی شامل ہے، وہاں پر بھی خواتین کو کچھ نہیں کہا جاتا بلکہ مخالف فریق کی خواتین کو بھی احترام دیا جاتا ہے اور ایک پختون اپنے جانی دشمن کو بھی اس وقت کچھ نہیں کہتا جب اس کے ساتھ خواتین ہوں۔

پختون کسی بھی رشتہ میں وفاداری نبھاتے ہیں، تعلق پروفیشنل ہو یا ذاتی، اس میں بے وفائی اپنے کلچر سے غداری تصور کرتے ہیں، یاری دوستی نبھانا ان کے خون میں شامل ہوتا ہے۔

دریائے آمو اور دریائے سندھ کے درمیان رہتے ہوئے پشتو بولنے والے مختلف قبائل ایک ہی قومی اور ثقافتی دائرے میں اپنی اپنی قبائلی شناخت کے ساتھ صدیوں سے رہتے چلے آرہے ہیں کیونکہ پشتو صرف اظہار وبیان کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ سماجی، نفسیاتی، ثقافتی زندگی اور ضابطۂ اخلاق کو کہا جاتا ہے جو اسے دنیا کی دیگر زبانوں سے ممتاز کرتی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube