Sunday, October 24, 2021  | 17 Rabiulawal, 1443

ٹوئٹرپر”بائیکاٹ زارا” ٹاپ ٹرینڈ کیوں؟

SAMAA | - Posted: Jun 15, 2021 | Last Updated: 4 months ago
Posted: Jun 15, 2021 | Last Updated: 4 months ago

فائل فوٹو

معروف فیشن ومیک اپ برانڈ ” زارا ” کی خاتون ڈیزائنرونیسا پرلیمن کے فلسطین مخالف تبصروں کے بعد فیشن برانڈ کے بائیکاٹ کی مہم کا آغاز کردیا گیا۔

لیبل کی ہیڈ ڈیزائنر وینیسا پرلمین کے فلسطین مخالف ریمارکس فلسطینی نژاد ماڈل قاھر نے آن لائن پوسٹ کیے جس کے بعد سے زارا کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔

عرب نشریاتی ادارے کے مطابق ونیسا پرلیمن نے سخت اور نفرت انگیز کمٹس میں فلسطینیوں کو انتہاپسند قراردیتے ہوئے لکھا کہ یہودی ہونے کے ناطے سوشل میڈیا پربہت کچھ برداشت کیا، میری قوم ہولوکاسٹ جیسے ظلم برداشت کر چکی ہے۔

قاھرکی جانب سے اسرائیل کو شیطان ملک کہنے پر ونیسا نے لکھاکہ آج غزہ میں بچوں کو تعلیم اور وہاں کے لوگوں کومیسر صحت کی سہولیات اسرائیل کی وجہ سے ہیں جو ایسے منصوبوں کے لیے فنڈز دے رہا ہے۔ فلسطینی اپنے بچوں کو بچپن سے ہی انتہاپسندی اور پتھروں سے فوجیوں پر حملہ کرنا سکھاتے ہیں۔

وینیسا نے قاھرپر “جھوٹ بولنے” کا الزام عائد کرتے ہوئے لکھا کہ فلسطین کے تمام حامی “جاہل اور متشدد” ہیں، قاھرکا مسلمان اور ماڈل ہونا متضاد ہے کیونکہ یہ پیشہ خود اسلام کے منافی ہے، اگر وہ کسی دوسرے ملک میں ہوتے تو انہیں پتھروں سے سنگسار کیا جاتا، کیوں کہ مسلم عقائد کے مطابق وہ ماڈلنگ نہیں کر سکتے۔

فلسطین مخالف کمنٹس سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے زارا کو بذریعہ ای میل ہیڈ ڈیزائنرکی شکایت کی گئی،جس پرفیشن برانڈ نے معذرت کرتے ہوئےمعاملے کی تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔ تاہم زارا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وینیسا اور قاھرنے اپنے انسٹاگرام اکاونٹس کے ذریعے کمنٹس کا تبادلہ کیا۔

 فی الحال یہ تصدیق نہیں ہوسکی کہ برانڈ کی جانب سے یہ ای میل مصدقہ ہے یا نہیں تاہم اس تمام معاملے کے بعد سماجی رابطوں کی سائٹ ٹوئٹرپر ” بائیکاٹ زارا ” ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

دوسری جانب وینیسا نے بھی معذرت کرتے ہوئے اپنا انسٹاگرام اکاونٹ ڈیلیٹ کردیا ہے۔

ماڈل قاھرنے انسٹا گرام اسٹوری میں ونیسا کی معافی سے متعلق بتاتے ہوئے معاملے کی وضاحت جاری کی۔

ماڈل کا کہنا ہے کہ وینیسا نے اپنے نفرت انگیز کمنٹس ڈیلیٹ کرتے ہوئے معافی کے 10 پیغامات بھجوائے جب  کہ زارا نے بھی معذرت کی ہے۔

قاھرکے مطابق معاملہ معافی مانگنے تک محدود نہیں ، زارا کو فلسطین سے متعلق اپنی پالیسی واضح کرنا پڑے گی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube