سعودی خواتین کومرد کےبغیر تنہا رہنے کی اجازت مل گئی

SAMAA | - Posted: Jun 12, 2021 | Last Updated: 1 month ago
Posted: Jun 12, 2021 | Last Updated: 1 month ago

سعودی عرب میں پہلی بار خواتین کو اپنے مرد سرپرست یعنی والد، بھائی یا شوہر کے بغیر تنہا رہنے اور آزاد زندگی گزارنے کی اجازت مل گئی۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق سعودی عرب میں ہونے والی نئی قانون سازی میں خواتین کو لازمی طور پر اپنے مرد سرپرست کے ساتھ رہنے کے قانون کے آرٹیکل 169 سے پیراگراف (ب) حذف کردیا گیا جس کے بعد مملکت میں خواتین کو والد، بھائی یا شوہر کے ساتھ رہنے کے بجائے تنہا رہنے کا حق حاصل ہوگیا۔

نئے قانون کے متن میں خاتون کے تنہا رہنے پر خاندان کے مرد سربراہ کی جانب سے مقدمہ کے انداراج کو ممنوع قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بالغ عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کہاں رہنا چاہے۔ علاوہ ازیں سرپرست، آزاد اور تنہا رہنے والی خاتون سے متعلق صرف اسی وقت شکایت درج کرا سکتے ہیں جب وہ خاتون کسی جرم کی مرتکب ہوئی ہوں اور جرم کا ثبوت بھی موجود ہو۔

سعودی عرب میں خواتین کے سرپرست کے حوالے سے قانون کے بڑھتے ہوئے ناجائز استعمال پر کافی عرصے سے غور و خوص جاری تھا تاہم فروری 2019 میں 18 سالہ لڑکی کے چھپتے چھپاتے تھائی لینڈ پہنچنے اور والدین پر زبردستی فیصلے مسلط کرنے کے الزامات پر اس معاملے کو عالمی توجہ ملی تھی۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں خاتون کو اپنے کسی مرد رشتہ دار کے ساتھ رہنا لازمی تھا،اسی طرح باپ یا شوہر، چچا، بھائی یہاں تک کہ بیٹا کی اجازت کے بغیر شادی، پاسپورٹ کے حصول یا بیرون ملک سفر کرنا ناممکن تھا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube