Thursday, June 17, 2021  | 6 ZUL-QAADAH, 1442

شاہدآفریدی کی ذاتی زندگی سے لیکروزیراعظم کونصیحت تک

SAMAA | - Posted: May 14, 2021 | Last Updated: 1 month ago
Posted: May 14, 2021 | Last Updated: 1 month ago
Afridi

فوٹو: سماء ٹی وی

کرکٹ لیجنڈ شاہد آفریدی کا خیال ہے کہ زیادہ تر خواتین کو مردوں کی وجہ سے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ خاندان میں بیٹا پیدا کرنے کی پابند ہیں۔

احتشام امیرالدین کی میزبانی میں سماء ٹی وی کے پروگرام ”سوال ” میں شریک آفریدی کا کہنا تھا کہ “اگرچہ میں زیادہ تر سفرکررہا ہوتا ہوں لیکن اپنی پوری کوشش کرتا ہوں کہ عید پر اپنی بیٹیوں کے ساتھ وقت گزاروں۔میں اپنی بیٹیوں کی بدولت اپنی زندگی میں آنے والی تبدلیاں دیکھ کر خود کو خوش قسمت محسوس کرتا ہوں۔

آفریدی نے واضح کہا کہ وہ ان مردوں کے سخت خلاف ہیں جو بیٹے کی خواہش کرتے ہیں اور اپنی بیٹیوں کی خوشی نہیں مناتے، کرکٹرنے اعتراف کیا کہ یہ بار ہم پٹھانوں میں بھی موجود ہے لیکن میرے خیال سے باپ اور بیٹی کے درمیان ایک خاص رشتہ ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ میری اہلیہ یہ محسوس کرتی تھییں کہ ہمارا پہلی اولاد بیٹاہوناچاہیے ، لیکن جب انہوں نے مجھے اپنی بیٹیوں کے ساتھ اتنے ہی پیارسے پیش آتے دیکھا تو مزید ایسا نہیں سوچا۔ یہ زیادہ تر مردوں کی وجہ سے ہے کہ خواتین کو لگتا ہے کہ ان کے یہاں بیٹا ہونا چاہیے، میری اہلیہ جانتی ہیں کہ میں اپنی بیٹیوں سے خوش ہوں اور ان سے بہت پیار کرتا ہوں ، لہذا وہ مطمئن ہیں۔

شاہد آفریدی نے دوران انٹرویو اس بات کی بھی تصدیق کی کہ کرکٹرشاہین آفریدی کے اہل خانہ گزشتہ 2 سال سے ان کی بیٹی کا رشتہ مانگ رہے تھے۔

کرکٹ کے ابتدائی دن

آفریدی نے کرکٹ کے ابتدائی دنوں میں ہی انکشاف کیا تھا کہ ان کے والدین پڑھائی پرتوجہ نہ دینے اورہروقت کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے ڈانٹ ڈپٹ ، مارپیٹ کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا”جب میں انڈر 14 اور 18 میں کھیلتا تھا تو کرکٹ میری زندگی تھی، اگرگلے دن میرا میچ ہوتا تو میں اپنی کرکٹ کٹ میں ہی سوتا تھا کیونکہ میں لیٹ نہیں ہونا چاہتا تھا”۔

آفریدی کے والد چاہتے تھے کہ وہ تعلیم پر توجہ دیں ، لیکن ان کے بھائی اور ہارو ن رشید پڑوس میں رہنے والے کرکٹرزنے حوصلہ افزائی کی اور ان کا ساتھ دیا۔انہوں نے بتایا “اس وقت کوئی سوشل میڈیا نہیں تھا ، لہذا لوگوں نے ڈان اور جنگ میں چھپنے والی میری تصاویر میرے والد کو دکھائیں اور کہا کہ ان کا بیٹا یقینا کچھ اچھا کرے گا”۔

آفریدی سابق کرکٹر عمران خان سے متاثر تھے ،جو اپنے شوق اور محنت کے باعث پوری دنیا میں جانے جاتے تھے، کرکٹرکے مطابق “میں ہمیشہ اپنے آپ سے کہا کرتا تھا کہ اگر انہیں اس قدر عزت واحترام مل سکتی ہے تو  تو میں ایسا کیوں نہیں کر سکتا”۔

زندگی میں آنے والے اتار چڑھاؤ

کرکٹرنے اپنی زنگی میں آنے والے نشیب وفرازکاذکرکرتے ہوئے بھی بتایا کہ میرے والد کی جانب سے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے بعد سال 1996 میں میرے خاندان پر 10 ملین روپے کا قرض تھا، ان دنوں یہ رقم بہت زیادہ اہمیت رکھتی تھی لیکن میرے والد نے پیشکش کے باوجود خاندان میں کبھی کسی سے تعاون طلب نہیں کیا۔ یہاں تک کہ ٹیم میں سلیکشن سے معاملات تبدیل ہونے تکمیں نے والد کو دو ماہ تک روتے ہوئے اورچھت پر دعا مانگتے ہوئے دیکھا۔

صرف 37 گیندوں پر سینچری سے عالمی ریکارڈ بنانے سے متعلق بات کرتے ہوئے آفریدی نے بتایا ” میں نے ویسٹ انڈیز میں باؤلنگ کا بہترین مظاہرہ کیا، مشتاق احمد کو انجری ہوئی تو وقت کے کپتان ہارون رشید نے مجھے بلایا اور کہا کہ مجھے بیٹنگ کے لئے منتخب کیا گیا ہے ”۔

اتار چڑھاؤ سے نمٹنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر آفریدی نے بتایا کہ 2009 کے ورلڈ ٹی ٹونٹی (پاکستان بمقابلہ سری لنکا) جیتنے کے بعد انہوں نےامید تقریبا ختم کردی تھی۔ انہوں نے کہا ”میں نے مزید کرکٹ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا، شعیب ملک کپتان بن چکے تھے اور ٹیم میں بہت سیاست چل رہی تھی”۔

اس کے بعد آفریدی کو ان کے دوست ایک بزرگ کے پاس لے گئے جن کے الفاظ انہیں آج بھی یاد ہیں، مشکل دور سے گزرنے والے آفرید ی کو بزرگ نے کہا ” آپ اپنی کارکردگی اور دنیاوی معاملات سے بہت پریشان ہیں۔ بس اپنی مشکلات کا موازنہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کریں اور آپ کو احساس ہوگا کہ آپ کی مشکلات کچھ بھی نہیں ہیں”۔

فٹنس اور نوجوان کرکٹرز کے ساتھ کھیلنا

شاہدآفریدی کو لگتا ہے کہ انہیں اپنی فٹنس کا خیال رکھنا ہوگا، انہوں نےکہا “نوجوانوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنا آسان نہیں کیونکہ ان کی فٹنس حیرت انگیز ہے”۔

بابر اعظم سمیت کرکٹرز کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں آفریدی نے کہا کہ وہ اس وقت پاکستان کرکٹ ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور بہت تیزی سے سیکھ رہے ہیں، لیکن جب ہم نے 1996 میں آغاز کیا تو ٹیم میں 14 یا 15 اسٹارہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹر صرف میچ جیت کر ہی اسٹار بن سکتے ہیں ، اور آج اتنے ستارے نہیں ہیں جتنے پہلے تھے۔

آفریدی نے اس بات سے انکار کیا کہ فاسٹ بولر شعیب اختر کے محمد آصف کو بیٹ سے مارنے میں ان کا کوئی ہاتھ تھا۔ تھا۔ انہوں نے کہا ، “چیزیں ہوتی ہیں، آصف نے ایک لطیفے میں میرے ساتھ دیا تھا جس نے شعیب کو مشتعل کیا اور یہ سب کچھ ہوگیا، لیکن شعیب کا دل بہت خوبصورت ہے”۔.

آفریدی کی پسندیدہ شخصیت

بالی ووڈ کی پسندیدہ شخصیت سے متعلق سوال پر آفریدی نے کہا کہ وہ اور تبو ہوٹلز میں فون پر بات کرتے تھے کیونکہ موبائل فون نہیں تھے۔ لیکن پسندیدہ پاکستانی اداکارہ کے حوالے سے ماہرہ خان ، مہوش حیات اور مایا علی جیسے آپشن دیے جانے پرانہوں نے سوال نظر اندازکردیا۔ کرکٹر کا کہنا تھا کہ میں انہیں فالو نہیں کرتا۔ انہوں نے فضیلہ قاضی اور عتیقہ اوڈھو کو اپنا پسندیدہ قراردیا۔

آپ کے نزدیک خوبصورتی کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں آفریدی نے ”سادگی” کا نام لیا ۔

وزیراعظم عمران خان کیلئے نصیحت

آفریدی نے ریمارکس دیے کہ سیاستدانوں کو معلوم ہونا چاہیے ان کی پہلی اور اہم ذمہ داری لوگوں کو ان کے حقوق دلانا ہے۔ انہوں نے کہا ، “عمران خان سسٹم میں پھنس چکے ہیں ،اور ایک یا 2 افراد اسے تبدیل نہیں کرسکتے ہیں ”۔
ملک کو چلانے کے لئے ایسا کرکٹ میچ نہیں کھیلنا نہیں ہے جس میں 12 یا 13 کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم کی ضرورت ہوتی ہو ، یہ لاکھوں لوگوں کا سوال ہے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعظم خان کی بیشتر حکومت میں وہی ارکان ہیں جو پارٹیوں سے وابستہ رہے ہیں ، وزیر اعظم کو “بدعنوان اور نااہل” کہتے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا “وہ (وزیراعظم )ہت سی وضاحتیں دیتے ہیں، یہ وہ وقت ہے کہ انہیں آصف زرداری اور نوازشریف کو پیچھے چھوڑ کراس پرتوجہ مرکوز کریں کہ ان کے اپنے لوگ کیا کر رہے ہیں”۔

آفریدی نے اپنی سیاسی پارٹی بنانے کے امکان کو مسترد کرتےہوئے کہا کہ وہ اس وقت شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کے ذریعے لوگوں کی خدمت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube