سعودی عرب میں اہرامِ مصر سے بھی پرانے آثارقدیمہ دریافت

SAMAA | - Posted: May 2, 2021 | Last Updated: 5 days ago
SAMAA |
Posted: May 2, 2021 | Last Updated: 5 days ago

سعودی عرب میں مصر کے اہرام مصر سے بھی زیادہ پرانے اور حیرت انگیز آثار قدیمہ دریافت ہوئے ہیں، جنہیں مستطیل کا نام دیا گیا ہے۔ سعودی شہزادے بدر بن عبداللہ کے مطابق ان آثار قدیمہ کی عمر 7 ہزار برس سے زیادہ ہے۔

عرب میڈیا پر شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک امریکی تحقیقی مطالعے کے مطابق سعودی عرب کے شمال مغربی علاقے میں آثار قدیمہ کی اہم دریافت سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ عظیم الجثہ پتھری ڈھانچے دنیا کے قدیم ترین تاریخی ورثہ شمار ہوتے ہیں۔

یہ بات سعودی وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبدالله نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ میں بتائی۔ سعودی شہزادے کے مطابق مذکورہ آثار کی عمر 7 ہزار برس سے زیادہ ہے۔

امریکی مطالعے میں محققین کے حوالے سے یہ دلچسپ انکشاف بھی کیا گیا کہ سعودی عرب میں چٹان سے بنے ہزاروں سال قدیم ڈھانچے درحقیقت مصر میں واقع اہرام اور برطانیہ میں واقع پتھری دائروں سے زیادہ پرانے ہیں۔

مذکورہ تحقیقی مطالعہ جمعرات کے روز انٹی کوئٹی جریدے میں شائع ہوا تھا۔ جسے امریکی ذرائع ابلاغ نے نشر کیا۔

تحقیقی مطالعے کی مؤلفہ اور پرتھ میں ویسٹرن آسٹریلیا یونیورسٹی میں آثار قدیمہ کی سائنسدان میلیسا کینیڈی کے مطابق تحقیق میں 1000 سے زیادہ پتھری ڈھانچوں کا مطالعہ کیا گیا، سعودی عرب میں یہ آثار 2 لاکھ مربع کلومیٹر یا 77 ہزار مربع میل سے زیادہ رقبے پر پھیلے ہوئے ملے، یہ تمام پتھری ڈھانچے شکل میں ایک دوسرے سے بہت زیادہ ملتے ہیں۔

تحقیقی مطالعے کے مرکزی مؤلف ہیو تھامس نے واضح کیا کہ بعض قدیم ڈھانچوں کی لمبائی 1500 فٹ سے زیادہ ہے تاہم یہ نسبتا تنگ ہیں، یہ ڈھانچے چٹانوں کی بنیادوں کے علاوہ پہاڑی اور علاقوں اور نسبتاً نشیبی علاقوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔

بعض محققین کا خیال ہے کہ یہ عظیم الجثہ ڈھانچے کسی سواری کو ایک جانب سے دوسری جانب لے جانے کیلئے بنائے گئے۔ یہ بات جانی نہیں جاسکی ہے کہ پرانے لوگوں نے یہ پتھری ڈھانچے کیوں تیار کئے تھے۔ البتہ کینیڈی کے قیاس کے مطابق ان میں سے بعض کو صرف ایک بار استعمال کیا گیا۔

کینیڈی اور تھامس کے مطابق انہوں نے جن ڈھانچوں کا سروے کیا ان میں ایک ایسا ڈھانچہ بھی تھا جس کو 12 ہزار ٹن سیاہ مرمر پتھروں کو منتقل کر کے تیار کیا گیا، اس مشقت طلب کام میں یقیناً کئی سال لگے ہوں گے۔

واضح رہے کہ آثار قدیمہ کے ان تحقیقی مطالعوں کی فنڈنگ العُلا روئل کمیشن کی جانب سے کی جاتی ہے۔ یہ کمیشن سعودی عرب کی حکومت نے قائم کیا تھا۔ اس کا مقصد مملکت کے شمال مغرب میں واقع العُلا کے علاقے میں تاریخی ورثے کا تحفظ ہے۔ العُلا میں کئی قدیم تاریخی تعمیرات پائی جاتی ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube