Wednesday, October 20, 2021  | 13 Rabiulawal, 1443

کیایہ بینظیربھٹوکےنام پررجسٹرڈآخری گاڑی ہے؟

SAMAA | - Posted: Feb 5, 2021 | Last Updated: 9 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 5, 2021 | Last Updated: 9 months ago

تصاویر:کوکب مرزا

پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیربھٹوسے نظریاتی اختلافات رکھنے والے بھی انکی کرشماتی شخصیت کو نظراندازنہیں کرسکتے، یہی وجہ ہے کہ ان سے جُڑی یادیں آج بھی یوری توجہ حاصل کرتی ہیں۔

ستائیس دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ہونے والے بم دھماکے میں شہید بینظیربھٹو کے نام پرصرف 21 روز قبل ایک گاڑی خریدی گئی تھی۔

امریکی موٹرکمپنی فورڈ کی بنائی گئی پک اپ ٹائپ گاڑی کا ماڈل 2006 کا ہے جومحترمہ بینظیربھٹوکے نام پر6 دسمبر 2007 کو رجسٹرڈ کرائی گئی۔

پاک آرمرنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کورنگی کراچی کے دفترکے باہر کھڑی گاڑی کی نمبر پلیٹ نے نہ جانےکیوں توجہ اپنی جانب مبذول کروائی اور محکمہ ایکسائزکی ویب سائٹ سے چیک کرنے پرعلم ہوا کہ یہ وزارت عظمیٰ کے منصب پرفائزرہنےوالی پاکستان کی پہلی اور اب تک کی واحد خاتون کے نام پرہے۔

گزشتہ 12 سال سے بلاول ہاؤس کے زیراستعمال رہنے والی گاڑی یہاں کیوں کھڑی ہے جبکہ بم پروف تو وہ پہلے سے ہی ہے؟ یہ جاننے کیلئے ڈائریکٹر پاک آرمرنگ خرم حمیرانی سے رابطہ کیا گیا جن کا کہنا تھا کہ گاڑی کودفترکے باہرکھڑے 2 سے 3 ماہ ہوگئے ہیں۔

خرم حمیرانی نے بتایا کہ گاڑی کی بریکوں اور سسپنشن میں خرابی ہے اور اسے بلاول ہاؤس سے یہاں لایا گیا تھا۔ تاحال مرمت نہ ہونے کی وجہ گاڑی غیرملکی ہونے کے باعث اس کے پرزہ جات کی پاکستان میں عدم دستیابی ہے جودبئی سے منگوا کردیے جائیں گے جس کے بعد اسے ٹھیک کیا جائے گا۔

سماء ڈیجیٹل نے مزید جاننے کیلئے بینظیر بھٹوکی قریبی ساتھی اور پولیٹیکل سیکرٹری ناہید خان سے بھی رابطہ کیا جنہیں بی بی نے پاکستان واپسی سے ایک روز قبل دبئی بلوایا تھا تاکہ وہ ان کے ساتھ جائیں، تب سے شہادت تک ناہید خان سابق وزیراعظم کے ساتھ ساتھ تھیں۔

گاڑی کی تصاویردیکھنے کے بعد ناہید خان نے بتایا کہ بی بی نے کبھی اس میں سفرنہیں کیا لیکن ممکن ہے کہ یہ اس وقت ان کے سیکیورٹی قافلے میں شامل ہو۔ بینظیر سفر کیلئے ہمیشہ لینڈ کروزراستعمال کرتی تھیں۔

اس حوالے سے بلاول ہاؤس سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم وہاں سے جواب موصول نہیں ہوا۔

بینظیربھٹوکے آخری لمحات، قریبی ساتھی ناہید خان کی زبانی

سال 2007 میں 18اکتوبرکو 8 سالہ جلا وطنی ختم کر کے پاکستان آنے والی بینظیربھٹو 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسے کے بعد خود کش دھماکے میں شہید ہوگئی تھیں۔

نوٹ: تحریر شائع ہونے سے قبل خرم حمیرانی سے دوبارہ رابطہ کرنے پرعلم ہوا کہ گاڑی مرمت کے بعد بلاول ہاؤس بھجوائی جاچکی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube