بائے بائےانگریزی:کینولی مالکان بڑی تبدیلی لےآئیں

SAMAA | - Posted: Jan 27, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 27, 2021 | Last Updated: 3 months ago

کولاج: سماء ڈیجیٹل

گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ریسٹورنٹ منیجر کی انگریزی کا تمسخراڑانے والی خواتین مالکان نے سوشل میڈیا پرشدید تنقید کا سامنا کرنے کے بعد اپنے کیفے ” کینولی بائے کیفے سول ” کا لوگو اردومیں تبدیل کردیا ہے۔

یہ ویڈیو20 جنوری کو کیفے کینولی کے انسٹاگرام پرجاری کی گئی تھی جسے عوامی ردعمل کے بعد ڈیلیٹ کردیا گیا تھا تاہم تب تک یہ سوشل میڈیا پروائرل ہوچکی تھی۔

ویڈیو میں کینولی کی مالکان عظمیٰ اور دیا انگریزی میں اپنا تعارف کروانے کے بعد کہتی ہیں کہ ہم بور ہورہے تھے،اس لیے آپ کا تعارف اپنے منیجرسے کرواتے ہیں۔ منیجر انگریزی میں پوچھے جانے والے سوالات پراپنا تعارف کرواتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ 9 سال سے یہاں کام کررہے ہیں۔

خاتون نے منیجرکی انگریزی سن کرپوچھاکہ آپ نے انگلش کی کتنی کلاسیں لی ہیں، بعدازاں تمسخرانہ انداز میں کہتی ہیں کہ یہ ہمارے مینجر ہیں جو 9 سال سے ہمارے ساتھ ہیں اور یہ وہ بہترین انگلش ہے جو یہ بولتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اویس کو دی جانے والی اچھی تنخواہ کا بھی ذکرکیا۔

تنقید کا نشانہ بنائے جانے پر بعدازاں ریستورنٹ کی جانب سے بیان بھی جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا کہ ” ہمیں اپنی ٹیم کے ایک رکن کے ساتھ ” ہلکی پھلکی گفتگو” کو غلط انداز میں لیے جانے پر افسوس اور حیرانی ہے، جہاں ہم کسی کو بھی ٹھیس پہنچنے پر معافی مانگتے ہیں وہیں ہمیں اپنے ملازمین کے ساتھ اچھے سلوک پر کسی کو صفائی دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہماری ٹیم ہمارے ساتھ ایک دہائی سے ہے اور یہ بات خود ایک گواہی ہے” ۔

سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے اس بیان کو مستردکرتے ہوئے اسے تکبرانہ قرار دیا تھا۔

بعدازاں نجی نیوز چینل جی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کینولی کے منیجر اویس کا کہنا تھا کہ ویڈیو تو ویسے ہی بنائی تھی، مجھے کہا گیا تھا کہ اویس آج آپ کا انٹرویو ہے اور میں نے اپنے بارے میں بتادیا۔انہیں اور مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ویڈیو اپ لوڈ ہونے کے بعد اتنا مسئلہ بن جائے گا۔

یہ سلسلہ یہیں نہیں تھما، 23 جنوری کو اردو سے محبت کرنے والوں نے دو قدم آگے بڑھ کر کینولی کے باہر اردو مشاعرہ بھی منعقد کیا اورسوشل میڈیا پربھی خوب تشہیر کی۔

نوجوان شعرا اور طلبہ سمیت بڑی تعداد مشاعرے میں شریک ہوئی جس میں صحافی ملیحہ ہاشمی بھی شامل تھیں۔

اب کینولی بائے کیفے سول کی جانب سے سوشل میڈیا اکاونٹس پر کیفے کالوگو انگریزی سے اردومیں تبدیل کردیا گیا ہے تاہم اس حوالے سے کوئی وضاحت جاری نہیں کی گئی۔ صارفین کی جانب سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ایسا غالبا شدید عوامی ردعمل کے تناظرمیں کیا گیا ہے۔

WhatsApp FaceBook

One Comment

  1. Ajaz Shah  March 5, 2021 3:53 pm/ Reply

    ذہنی غلامی کی انتہا ہے

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube