Friday, January 15, 2021  | 30 Jamadilawal, 1442
ہوم   > فیشن ، لائف اسٹائل

پاکستان اوربھارت میں سندھی زبان کو کس طرح محفوظ کیاجارہاہے

SAMAA | - Posted: Jan 12, 2021 | Last Updated: 4 days ago
SAMAA |
Posted: Jan 12, 2021 | Last Updated: 4 days ago

سندھی زبان موئن جوداڑو کی علامتی زبان میں پائی گئی ہے یہی وہ مقام ہے جہاں اس نے جنم لیا۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھی زبان کی ماں سنسکرت ہے جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ یہ دونوں سسٹر لینگوج ہیں تاہم یہ ایک وسیع  اور برصغیر کے افراد کی ایک بڑی تعداد کی زبان ہے۔

سندھی اسکالرز کو خدشہ ہے کہ اس زبان کو محفوظ نہیں کیا جارہا ہے۔ اس بات کا اظہار ایک بین الاقوامی فلم کمپنی پنچ میڈیا کے زیر اہتمام ایک آن لائن پروگرام سندھی زبان کا مستقبل میں کہی گئی۔ اس تقریب کا انعقاد دی سٹیزن فاؤنڈیشن کے اجے پنجانی نے کیا۔ مہمانوں میں سندھی سنگت کی بانی آشا چند اور یوٹیوبر و سندھی سنگت کے بانی دروین ہزاری تھے اور دونوں کا تعلق بھارت سے ہے جبکہ تیسری مہمان خصوصی شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی سندھ ابھیاس اکیڈمی کی ڈائریکٹر غزالہ رحمن رفیق تھیں۔

اس پروگرام کا آغاز دستاویزی فلم اسٹیل اسٹینڈنگ کے ایک کلپ سے کیا گیا جس میں سندھ کی ثقافت، زندگی اور سندھیوں کی جدوجہد پر روشنی ڈالی گئی۔

دستاویزی فلم میں ایک کردار کہتا ہے کہ میں خود سے یہ سوال کرتا ہوں کہ سندھی کون ہے؟ پھر اندر سے جواب آتا ہے کہ جو بھی سندھ سے محبت کرے وہ سندھی ہے۔

غزالہ رفیق کا کہنا ہے کہ زمین سے تعلق کا گہرا احساس اور اس سے محبت ہونا ایک فطری جذبہ ہے گو ہے یہ ایک  خاصی پیچیدہ سی چیز۔

انہوں نے سندھی میں ایک جملہ کہا کہ وری پچھو، وری سوچاں- پھر پوچھو، پھر سوچوں۔ جس سے ان کی مراد یہ تھی کہ زمین سے تعلق و محبت کے جذبے کے حوالے سے مجھ سے جب بھی پوچھا جاتا ہے تو مجھے اسے بیان کرنے کے لیے دوبارہ سوچنا پڑتا ہے۔

آشا چند سندھی زبان اور ثقافت کے سائے تلے پلی بڑھیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگر کوئی ہمارے گھر آتا اور ہندی میں گفتگو کرتا تو میرے والد اس پر چیخ پڑتے اور اس سے پوچھتے کہ کیا تمہیں سندھی بولنی نہیں آتی؟  انہوں نے کہ سندھ کی سرزمین اور اس کی زبان سے محبت کرنے کے لیے سندھ میں رہنا ہی ضروری نہیں ہوتا۔

ثقافت اور ارتقا کے عمل سے گزرتی ہیں اور بالکل ایسا ہی کسی زبان کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ اسکالرز ایک زبان میں دوسری زبانوں کے الفاظ کو شامل کیے جانے پر خبردار کرتے ہیں لیکن اس بات سے کسے مفر ہوسکتا ہے  کہ ثبات صرف تبیلی  کو ہی حاصل ہے۔

شرکاء نے تاریخ کی روشنی میں سندھی زبان کے ارتقا پر بحث کی اور اس پر اثر انداز ہونے والے مختلف عوامل کا بھی تذکرہ کیا جن میں تقسیم پاک و ہند، ہندوستانیوں اور پاکستانیوں میں بدلتے رجحانات اور ریاست کی سرپرستی حاصل کرلینے والی انگریزی اور دیگر قومی زبانوں کے پھیلاؤ شامل ہیں۔

غزالہ رفیق نے کہا کہ سندھی زبان کہاں اور کیسے پیدا ہوئی اس کی تاریخ متنازعہ ہے اور اس بارے میں اسکالرز مختلف آراء رکھتے ہیں تاہم یہ ایک قدیم زبان ہے اور اس کی ابتدا برصغیر سے ہوئی۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے سندھی زبان سنسکرت سے پرانی ہے۔ چند اسکالرز بشمول سراج میمن اور غلام علی الانہ کا خیال تھا کہ یہ سنسکرت کی سسٹر لینگویج ہے۔ سندھی زبان کی قدیم شکل موئن جو دڑو کی علامتی زبان میں ملتی ہے۔

کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ قدیم اور جدید سندھی کے درمیان کچھ روابط ضرور ہیں۔

غزالہ رحمان نے کہا کہ زبان کی بہت سی بولیاں، آوازیں، شکلیں ہیں اور اس کی “بیرونی شکل” تقسیم ہند کے بعد تبدیل ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا سن 1947 سے لے کر اب تک ہم بہت ساری آوازیں یا تو کھو چکے ہیں یا کھونے کے قریب ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ادبی افراد کی ادائیگی یا تلفظ عام لوگوں سے مختلف ہوتی ہے۔

ڈاکٹر بگھیو نے ہالا اور حیدرآباد میں ایک تحقیق کی جس میں زبان کے تلفظ کا موازنہ کیا گیا۔ اس حوالے سے انہوں نے دونوں علاقوں میں کافی فرق پایا۔

غزالہ رحمان نے کہا کہ کوئی زبان صدیوں میں تبدیل ہوتی ہے لیکن ہم نے یہ تسلیم کرنا شروع کیا ہے کہ یہ تبدیلی گزشتہ 70 یا کچھ زیادہ برسوں کے دوران ہوئی ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہو کہ سندھ نے وہ افراد کھودیے جو زبان کے اصولوں کی تشریح شیئر کیا کرتے تھے اور پھر سندھی کے مخصوص ذخیرہ الفاظ رکھنے والے سندھ کے ہندو ہجرت بھی کرگئے۔ ہم ان تمام عوامل کا جائزہ لے رہے ہیں۔

اترادی (بالائی سندھ کی زبان) میں اب بھی وہ تلفظ موجود ہے۔ اس کے علاوہ لاڑ (زیریں)، ویچولی (وسطی/کلاسیکی) اور مارواڑی لہجہ بھی ہے۔ جغرافیے کے لحاظ سے زبان مختلف ہوتی ہے۔ کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری میں سمونڈی (ساحلی) بولی ہے۔ ان افراد کے بولتے وقت آپ پانی کی لہروں کو سن سکتے ہیں۔ یہ ماہی گیروں کی زبان ہے جو ابراہیم حیدری میں بھی بولی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زبان میں وقت کے ساتھ ساتھ دوسری زبانوں کے الفاظ کی شمولیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دوسرے اہم اور عصر کے امور پر توجہ مرکوز کرسکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ غلط العوام –سلینگ- کے بارے میں کچھ نہیں کیا جاسکتا۔

ایک زبان خالص نہیں رہ سکتی۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر آپ بعض گاؤں میں جائیں تو آپ ان کی سندھی لہجہ و تلفظ نہیں سمجھ سکیں گے کیونکہ دور دراز ہونا زبان کو خالص رکھتا ہے۔ ایسے علاقوں میں آپ کو ان سے کہنا پڑجاتا ہے کہ وہ اپنی بات کا مقصد سمجھائیں۔ ایسی چیزوں کو ہمیں محفوظ کرنا ہے۔ غلام علی الانا وہ باتیں اپنے ذہن میں ہی رکھتے ہوئے ہم سے رخصت ہوگئے جو کہ ایک بہبت بڑا نقصان ہے تاہم انہوں نے کچھ آڈیو ریکارڈنگ کی آشا چند اب دبئی میں مقیم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں کے نوجوانوں میں سندھی ثقافت اور زبان کو متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔ وہ نہ تو سندھی بولتے ہیں اور نہ لکھ یا سمجھ سکتے ہیں۔ کون انہیں ساری کہانیاں بتائے گا۔ آشا اور دیگر ادبی شخصیات نے متحدہ عرب امارات میں سالانہ تقاریب کے انعقاد کا آغاز کیا جس میں ہندوستان اور پاکستان دونوں فنکار شرکت کرتے ہیں۔ اور آرکائیوز محفوظ کیے۔

تاہم ان تقاریب کی پہنچ محدود کم افراد تک ہی ہے۔ نوجوان نسل ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے پہنچا جاتا ہے۔ آڈیو کتابیں، کیسٹس اور سی ڈیز تیار کی  جاتی ہیں جن میں لوک کہانیاں اور شیخ ایاز کی شاعری ہوتی ہے۔ ان کے پاس اب ویب سائٹ اور یوٹیوب چینل بھی موجود ہے۔ انہوں نے سن 2007 میں ایک ٹی وی شو اور بچوں کے لئے آن لائن مقابلوں اور شوز کا آغاز کیا اور ان مقابلوں میں حصہ لینے کے حوالے سے بچوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور پھر ان کی ویڈیوز یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔

اس کے بعد شرکا کی گفتگو کا رخ معاشرے اور تعلیمی اداروں میں سندھی کی حالت کی جانب ہوا۔ غزالہ رحمان نے کہا کہ تقسیم ہند سے قبل جیومیٹری بھی سندھی میں پڑھائی جاتی تھی۔

اسکالر محمد ابراہیم جویو (جو تقسیم ہند سے قبل پیدا ہوئے تھے اور سن 2017 میں ان کا انتقال ہوگیا تھا) نے غزالہ کو بتایا تھا کہ انہیں سائنس کے مضامین سندھی زبان میں پڑھائے جاتے تھے۔ کراچی میں سندھی کی تعلیم دینے والا ایک بھی انسٹی ٹیوٹ ایسا نہیں ہے جس طرح اسے ہونا چاہئے۔ سندھ کے دیگر حصوں میں اساتذہ سندھی میں تعلیم دینے کی مطوبہ تربیت ہی نہیں رکھتے۔

انہوں نے کہا کہ ایک سندھی بچے کے پاس زبان کے الفاظ کا ذخیرہ پہلے سے ہوتا ہے اور اس کا تعلق بچے کی ادراک کی صلاحیت سے ہے۔ ان کا اشارہ بچوں کو کم از کم ان کی ابتدائی عمر میں مادری زبان میں تعلیم کی فراہمی کی طرف تھا۔

بچوں کو گھر میں ایک مخصوص ثقافت، سوچ اور زبان ملتی ہے لیکن اسکول اسے بتاتا ہے کہ یہ اتنا تسلی بخش نہیں اور ناکافی ہے۔ یعنی بچے کو یہ بتایا جارہا ہوتا ہے کہ اس کی نانی دادی کی زبان اتنی اچھی نہیں اور غیر تسلی بخش ہے۔ اس سے بچے ک آپ ایک اچھا سیکھنے والے ہو ہی نہیں سکتے اگر آپ کا برتاؤ اپنی زبان سے اچھا نہیں۔ی خود اعتمادی متاثر ہوتی ہے۔

آشا نے بتایا کہ ہندوستان میں ان کے والد اے جے اتم نے ہندوستانی آئین کے آٹھویں شیڈول میں سندھی کو شامل کرنے کی ایک مہم کی قیادت کی اور اس میں بالآخر کامیابی ہوئی۔ وہ سندھی برادری کے زیر انتظام تعلیمی پالیسی کے آفیشلز اور اسکولوں سے بھی رابطے میں ہیں۔ ہندوستان میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں کے سندھی دیوناگری رسم الخط کا استعمال کرتے ہیں جس میں ہندی لکھی جاتی ہے۔ آشا کہتی ہیں کہ یہاں نقل حرفی ہے لیکن اگر کوئی اسکرپٹ نہیں جانتا تو وہ زبان میں کس طرح مہارت حاصل کرسکتا ہے۔ اس سے آپ کا ادب متاثر ہوتا ہے۔

دروین ہزاری نے کہا کہ ان کی ویڈیوز زیادہ تر ایسے لوگ دیکھتے ہیں جو 16 برس سے کم عمر کے نہیں۔ دروین سندھی زبان میں مواد تیار کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے محسوس کیا کہ بھارت میں سندھی آبادی کے لئے ایسا کوئی متعلقہ مواد موجود نہیں جو سندھی زبان میں ہو۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا یوٹیوب چینل 180 ممالک میں دیکھا جاتا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube