Tuesday, October 20, 2020  | 2 Rabiulawal, 1442
ہوم   > فیشن ، لائف اسٹائل

مسلم فیملی کی ہندوبہو،بھارت میں ایک اشتہارسےتنازع کھڑا

SAMAA | - Posted: Oct 15, 2020 | Last Updated: 5 days ago
SAMAA |
Posted: Oct 15, 2020 | Last Updated: 5 days ago

تصویر: ٹوئٹر

بھارت میں زیورات بنانے والی معروف کمپنی کو شدید تنقید اور سوشل میڈیا پرمذہبی منافرت چھڑجانے کے بعد اپنا اشتہار فوری طورپرہٹانا پڑا۔ اشتہار میں ایک ہندو لڑکی کو مسلمان گھرانے کی بہو دکھاتے ہوئے مثبت پیغام دیا گیاتھا۔

تنشق جیولرز نامی یہ کمپنی بھارت کے بڑے کاروباری اداروں میں سے ایک ٹاٹا گروپ کی ملکیت ہے۔ 12 اکتوبرکو جاری کیے جانے والے اشتہار میں دکھایا گیا کہ مسلمان خاندان ہندو بہو کی گود بھرائی کی رسم ادا کررہا ہے۔ زیورات کی اس نئی رینج کا نام ” ایکتوم ” یعنی اتحاد رکھا گیا ہے جس کی ٹیگ لائن ہے “دی بیوٹی آف ون نیس” ۔

ویڈیو میں دکھایا گیا کہ گود بھرائی کی رسم کے دوران بہو کو تنشق کی اس نئی رینج کے زیورات پہنائے جارہے ہیں جبکہ پس منظر میں ایک نظم کے بول سنائی دے رہے ہیں، “رشتے ہیں کچھ نئے نئے، دھاگے ہیں کچے پکے، اپنے پن سے انہیں سہلائیں گے، پیار پروتے جائيں گے، اک سے دوجا سرا جوڑیں گے، اک بندھن بُنتے جائیں گے”۔

اس سارے عمل میں حیرت زدہ دکھائی دینے والی بہو ساس سے پوچھتی ہے، یہ رسم تو آپ کے گھر میں نہیں ہوتی ناں؟ جواب میں ساس شفقت سے کہتی ہیں ” پربِٹیا کوخوش رکھنے کی رسم تو ہر گھرمیں ہوتی ہے”۔

اس کے بعد اختتام پر بول ” ایک جو ہوئے ہم تو کیا نہ کر جائیں گے، اکاتوم بائی تنشق ” سنائی دیتے ہیں۔

گو یہ ویڈیو اب دستیاب نہیں لیکن بھارتی جماعت کانگریس کے رہنما اوررکن پارلیمان ششی تھرور نےاسے شیئر کرتے ہوئے لکھا ” اشتہار میں ہندومسلم اتحاد دکھا گیا لیکن تنگ نظر لوگوں نے اس کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہےتو ایسے افراد اس دنیا میں ہندومسلم اتحاد کی بڑی علامت بھارت کا بائیکاٹ کیوں نہیں کرسکتے”۔

لکھنے والے نے تو اس اسکرپٹ میں یقیننا بین الامذاہب ہم آہنگی ویگانگت دکھانے کی کوشش کرتے ہوئے زیورات بیچنے کی کوشش کی لیکن بھارتی انتہا پسندوں نے اس پیغام کو ” لوجہاد” سے جوڑدیا۔

انتہا پسند بھارتیوں کی جانب سے سخت تنقید کےبعد سوشل میڈیا پرہیش ٹیگ ” بائیکاٹ تنشق” ٹرینڈ کر نے لگا اور بیشتر نے ٹویٹس میں کہا کہ یہ بھارت میں ” لو جہاد” پروان چڑھانے کیلئے بنایا گیا۔

لوجہاد کی اصطلاح مسلمان مردوں کی ہندو خواتین سے شادی کی صورت میں استعمال کی جاتی ہے، بھارتی انتہا ہسند دعویٰ کرتے ہیں کہ مسلمان لڑکے ہندو لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنسا کرشادی کے بعد مذہب تبدیل کروادیتے ہیں۔

دوسری جانب مذکورہ کمپنی نے اشتہار ہٹانے کے علاوہ معافی نامہ بھی جاری کیا جس پر ردعمل میں سوشل میڈیا صارفین نے تعجب کا اظہار بھی کیا۔

تنشق جیولرزکی جانب سے کہا گیا ہے کہ ویڈیوسے کئی افراد کو تکلیف پہنچی جس پرکمپنی معذرت خواہ  ہے۔

اس اشتہارپراٹھنے والے تنازع کے بعد امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے بھِی اس حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ویڈیو میں 2 مذاہب کے درمیان ہم آہنگی دکھائی گئی مگر انتہا پسندوں نے اسے اپنے خلاف قرار دیا۔ اس کے بائیکاٹ کی مہم چلانے والے افراد میں بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے اہم ارکان بھی شامل تھے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز مہم میں نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔۔

 این ڈی ٹی وی کے مطابق اشتہار ہٹانے کے باوجود گجرات میں تنشق کے اسٹورپر مشتعل ہندووں نے حملہ کیا۔

تنشق جیولرز کی جانب سے ویڈیو ہٹائے جانے کے بعد ٹوئٹرصارفین سیکولر ہونے کے دعویدار ملک بھارت میں اس رویے کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔

کمپنی کے لیے بھی کہا جارہا ہے کہ انہوں نے اشہار ہٹا کر کمزور ہونے کا عندیہ دیا ہے، اس معاملے پر معافی مانگنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی تھی کیونکہ اشتہار میں ایسا کچھ غلط نہیں دکھایا گیا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube