Friday, October 23, 2020  | 5 Rabiulawal, 1442
ہوم   > فیشن ، لائف اسٹائل

سی بی ڈی آئل کیا ’چرس‘ ہے؟

SAMAA | - Posted: Sep 23, 2020 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Sep 23, 2020 | Last Updated: 4 weeks ago

آج کل سی بی ڈی آئل میں کافی لوگ دلچسپی لے رہے ہیں جس کے باعث اکثر لوگ جاننا چاہتے ہیں سی بی ڈی آئل کیا ہوتا ہے۔

سی بی ڈی کا مطلب کینابیڈی آئل ہے، یہ بھنگ (کینابس) میں پایا جاتا ہے، یہ نان سائیکوآیکٹویو ہے یعنی کہ اس سے نشہ نہیں چڑھتا ۔

حال ہی میں فواد چوہدری نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں انڈسٹریل یعنی صنعتی اور میڈیکل ہیمپ کی منظوری مل چکی ہے اس کے بعد سے پاکستان میں سی بی ڈی میں دلچسپی بڑھ گئی ہے ۔

 سی بی ڈی ہیمپ پلانٹ (بھنگ کے پودے) سے نکالا جاتا ہے

سی بی ڈی انزائٹی ، انسومیا (یعنی نیند نہ آنا )اور دائمی درد کیلئے لیا جاسکتا ہے ،جبکہ گٹھیا کے مریض اپنے جوڑوں کے درد کیلئے استعمال کرسکتے ہیں ۔اس پر ابھی دنیا بھر میں ریسرچ جاری ہے ، 150 کلینکل ٹرائل رہی ہیں ۔

ایک 2017 کی اسٹڈی جو نیو انگلینڈ جنرل آف میڈیسن میں پبلش ہوئی تھی ، سی بی ڈی ایک قسم کی مرگی کی بیماری میں کام آتا ہے ایف ڈے اے نے اسے اس کے علاج کیلئے منظوری دی ہے ۔

سی بی ڈی پاکستان میں دستیاب ہے ، مگر تھوڑا مہنگا ملتا ہے اس کی قیمت 2،500 روپے سے لے کر 11،500 روپے تک ہو سکتی ہے ۔

یہ آئل ، بام ، کریم اور گولیوں(پلز) کی کی صورت میں مارکٹس میں دستیاب ہے ۔

سی بی ڈی کے سائیڈ افیکٹ میں بے چینی ، تھکن اور متلی شامل ہے، پریگنینسی(حمل) میں یہ استعمال نہیں کرنا چاہیئے۔ کیونکہ مارکیٹ میں اکثر پیور(خالص) سی بی ڈی نہیں ملتا اس لیے اس کی لیگل لائیزیشن اچھی خبر ہے اب یہ زیادہ محفوظ شکل میں مل سکے گا ۔

سی بی ڈی استعمال کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube