Monday, October 19, 2020  | 1 Rabiulawal, 1442
ہوم   > فیشن ، لائف اسٹائل

اعجازبُگٹی کی بنائی گئی چارپائیاں ٹوئٹرپربھی مشہور

SAMAA | - Posted: Sep 21, 2020 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Sep 21, 2020 | Last Updated: 4 weeks ago

ایک چارپائی18سے 32ہزارمیں فروخت ہوتی ہے

پیپلز پارٹی کی ایم این اے نفیسہ شاہ نے اعجاز بگٹی کے ہاتھوں سے بنائی گئی چارپائیوں کی تصاویر ٹوئٹر پر شیئر کی ہیں لیکن یہ پہلا موقع نہیں جب سابق استاد کے اس منفرد ہنرکواُجاگرکیا گیا ہو۔

اعجاز بگٹی کا تعلق ضلع سانگھڑ کے قریب نذر محمد گاؤں سے ہے۔ وہ اپنی ہاتھوں سے بُنی گئی خوبصورت چارپائیوں کیلئے جانے جاتے ہیں۔ سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں ایم این اے نفیسہ شاہ کا شکرگزار ہوں جنہوں نے نہ صرف ٹوئٹر پر میرے حوالے سے پوسٹ کیا بلکہ بطور کاریگر میرے کام کی حوصلہ افزائی کے لیے ذاتی طور پر بھی مجھ سے رابطہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ نفیسہ شاہ نے میرے کام کو بین الاقوامی سطح پراُجاگر کرنے کی بھی یقین دہانی کروائی۔

اڑتالیس سالہ اعجازبگٹی نے یہ فن 14 سال کی عمرمیں اپنے مرحوم والد محمد سلیم خان سےسیکھا جوبہت معروف چارپائی بُننے والے تھے۔اعجاز کے مطابق "میں نے ایک پرائمری ٹیچر کی حیثیت سےریٹائرمنٹ لے کر سارا وقت یہ چارپائیاں بنانے پر صرف کیا جس سے مجھےنہ صرف مجھے شہرت ملی بلکہ میں اپنے خاندان کی دیکھ بھال کرنے کے لئے بھی معقول رقم کما رہا ہوں۔"

اُن کے 3 بیٹوں میں سے ایک سرفراز علی اپنی تعلیم جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ خاندانی وراثت کو برقرار رکھنے میں بھی ان کی مدد کرتے ہے۔ اعجازبگٹی نے بتایا کہ وہ بنیادی طور پر اپنی سجی ہوئے چارپائیوں کو پاکستان بھرمیں لوگوں کی طرف سے دیے گئے آرڈرز کے مطابق فروخت کرتے ہیں۔

یہ سجی سجائی چارپائیاں 18 سے 32 ہزار روپے تک میں فروخت کی جاتی ہیں۔ انہوں نےبتایا کہ خام مال کی بڑھتی قیمتوں کے باوجود میں اپنے کام کو فروغ دینے اور معیاری چارپائیوں کی فراہمی کے لئے کم سے کم قیمت لینے کی کوشش کرتا ہوں، اب تک ہزاروں چارپائیاں بناچکا ہوں جن کے 200 منفرد ڈیزائن ہیں۔

اعجاز بگٹی نے کہا کہ "یہ سندھ کی ثقافت کا ایک بہت بڑا حصہ ہے اور میں جدید طریقوں کا استعمال کرکے اس کو مزید فروغ دینا چاہتا ہوں۔"

انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر سنہر مجھے 2018 اور 2019 میں ایوارڈز سے نوازچکے ہیں جبکہ میرا کام دیکھنے کے بعد سندھ کے وزیرثقافت سید سردارعلی شاہ نے بھی مجھ سے ملاقات کیلئے ایک ٹیم بھیجی تھی۔

اعجازبگٹی کا کہنا ہے کہ بتایاکہ چارپائیوں پرلکڑی کا کام حال ہی میں انتقال کرجانے والے مقامی بڑھئی استاد محمد ابراہیم لہڑی نے کیا، اب مجھے ہالا سے کچی لکڑی جمع کرنی ہے جو کہ ثقافت پرمبنی سجاوٹی ٹکڑوں اور دستکاری کے لئے مشہور ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بیشترعلاقائی ٹی وی چینلز اور اخبارات نے دستاویزی فلمیں بنا کر اوراسٹوریز کرکے مجھے کافی کوریج دی ہے، لیکن تاحال قومی سطح پر کسی میڈیا ہاؤس نے اپنے فن کو فروغ دینے کے لئے مجھ سے رابطہ نہیں کیا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube