Thursday, September 24, 2020  | 5 Safar, 1442
ہوم   > فیشن ، لائف اسٹائل

صباقمر، بلال سعید نےاسسٹنٹ کمشنرلاہور کےارمانوں کاخون کردیا

SAMAA | - Posted: Aug 12, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Aug 12, 2020 | Last Updated: 1 month ago

Saba Qamar and Bilal Saeed

کیا آپ جانتے ہیں کہ مسجد میں متنازع شوٹ کے باعث تنازع کا شکار ہونے والا گانا “قبول ہے” اسسٹنٹ کمشنر لاہور محمد مرتضیٰ کے ارمانوں کا خون کرنے کا باعث بھی بنا ہے۔

چند روزقبل گانے کا ٹیزرآوٹ ہونے کے بعد سوشل میڈیا پربلال اورصبا کوشدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ گانے کے آغازمیں لاہورکی مسجد وزیرخان میں شوٹ کیا جانے والا ایک منظر (ٹیزر) تھا۔ اس تنازعے میں بلال مقصود اورصبا کے علاوہ مسجد انتظامیہ کو بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس کے لاہور کی تاریخی مسجد وزیر خان میں نکاح سمیت تمام تقریبات منسوخ کردی گئیں۔

مسجد کے نکاح کے خواہشمندوں میں محمد مرتضیٰ بھی شامل تھے جنہوں نے ٹوئٹر پراپناحال دل سناتے ہوئے صبا قمراوربلال سعید کو اپنے خواب ٹوٹنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

مسجدمیں گانےکی ویڈیوشوٹ:بلال سعید نےمعافی مانگ لی

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر محمد مرتضیٰ نے اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے اسے پھیلانے کی دلچسپ گزارش کرتے ہوئے لکھا ” نکاح کی خبر کا اعلان اور اس کی تشہیرایک سنت ہے، ثواب کی نیت سے ری ٹویٹ کریں “۔

گیارہ ٹویٹس پر مبنی اس تھریڈ کا ٹائٹل ” صبا قمراور میری خوشیاں ۔۔ ایک سچی کہانی ” ہے۔ آغاز میں نوجوان اسسٹنٹ کمشنر نے واضح کیا کہ ٹویٹ نمبر 11 ضرور پڑھیے گا۔

انہوں نے لکھا “میں صبا قمر کوذاتی طور پر نہیں جانتا، مگرانہوں نے اور بلال سعید نے میری زندگی میں ایک جذباتی دھچکہ دینے والا کردار ادا کیا ہے، وہ ابھی تک یہ نہیں جانے مگر انہیں یہ جاننا چاہیے”۔

محمد مرتضیٰ کے مطابق یہ تاریخی مسجد مجھے بہت پسند تھی اور سوچا تھا ممکن ہوا تو اپنے نکاح کی تقریب یہیں منعقد کروں گا۔ کرونا کے دوران پاکستان میں شادی کلچر تبدیل ہوا، میری پوسٹنگ بطوراسسٹنٹ کمشنرلاہورمیں ہوئی اورمیں نےنکاح کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے مزید بتایا ” سب کچھ طے تھا ،اتوار کی صبح فجر کے بعد ہم سب وزیرخان مسجد جاتے اورسنت کے مطابق نکاح ہوتا۔ دلہن کا لباس تیار تھا، میرے کپڑے استری تھے۔ فیملی فوٹوگرافر، مہمان سب مدعو تھے”۔

صباقمراوربلال سعید کے”قبول ہے”کے پیچھےچھپی حقیقت

یہاں محمد مرتضی نے غالبا لاعلم ہونے کی وجہ سے لکھا کہ صبا قمر نے مسجد میں ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کا فیصلہ کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسجد انتظامیہ نے میرے نکاح کی اجازت منسوخ کردی۔

انہوں نے پُرمزاح انداز میں کہانی کا اگلا بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ایسی صورتحال میں گھر میں ایمرجنسی میٹنگ بلائی گئی جیسے کہ رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس ہ اور میں فواد چوہدری ہوں، آدھی رات کو طے پایا کہ نکاح نکاح ہوتا ہے مسجد میں ہو یا گھر پر اور میں مان گیا۔

بلال سعید اورصباقمرکاگانا”قبول ہے” ریلیزہوتے ہی مقبول

آخرمیں اپنی کہانی کا اختتامی موڑ بیان کرتے ہوئے مرتضیٰ نے گھر پرمنعقد کی جانے والی اپنی تقریب نکاح کی مختصرویڈیوشیئرکی۔

آخری ٹویٹ میں انہوں نے لکھا ” اتوار 9 اگست ، 18 ذی الحج کو صبح ساڑھے 10 بجے گھر کے لاؤنج میں ، میں نے 3 بار ” قبول ہے” کہا اور لڑکی نے بھی جس پرمجھے حیرت ہے۔

اس سارے معاملے پر محمد مرتضیٰ کو بہت اچھا رسپانس ملا اور سوشل میڈیا صارفین نے ان کی یہ دکھی داستان شیئر بھی کی ۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube