Tuesday, December 1, 2020  | 14 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > فیشن ، لائف اسٹائل

کاون کی منتقلی کے حکم پرامریکی گلوکارہ پاکستان کی شکرگزار

SAMAA | - Posted: May 22, 2020 | Last Updated: 6 months ago
SAMAA |
Posted: May 22, 2020 | Last Updated: 6 months ago

تصویر: ٹوئٹر

اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھرسے کاون نامی ہاتھی کی منتقلی کا فیصلہ سنادیا گیا، جس پر امریکی گلوکارہ شیرنے انتہائی خوشی کااظہارکرتے ہوئے پاکستان کا شکریہ ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

سال 1985 سے چڑیا گھر میں موجود نرہاتھی ’’کاون‘‘ تنہائی کے باعث شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھا اور گزشتہ کئی سال سے اس کے تحفظ کیلئے انٹرنیشنل اور ملکی سطح پر مہم چلائی جاتی رہی۔

گزشتہ روزاسلام آباد ہائی کورٹ نے مرغزارچڑیا گھرمیں موجود ہاتھی کاون سمیت دیگرجانوروں کی 2 ماہ کے اندرمحفوظ پناہ گاہوں میں منتقلی کا حکم دیا ہے۔

کاون کے حق میں آواز اٹھانے والوں میں پیش پیش امریکی گلوکارہ شیرنے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کئی ٹویٹس کیں عدالتی فیصلے پر خوشی کا اظہارکرتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ ’’میں حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں ‘‘۔

اس پورے عمل میں فری دی وائلڈ نامی عالمی این جی اوکے سربراہ مارک کون کاون کی آزادی کیلئے کوشاں رہے جو 2017 میں پاکستان بھی آئے تھے۔

شیر کے ساتھ کام کرنے والے مارک کون کا کہنا تھا کہ شدید ذہنی دباؤ کا شکارکاون کی اسلام آباد کے چڑیا گھرمیں اس کی دیکھ بھال ٹھیک نہیں ہو رہی اور کمبو ڈیا وائلڈ لائف پارک کاون کو وصول کرنے کے لیے تیارہے۔ اس کی منتقلی کے تمام اخراجات فری دی وائلڈ برداشت کرے گی جبکہ بدلے میںچڑیا گھر کی انتظامیہ کو عالمی معیار کی ٹریننگ دی جائے گی۔

امریکی گلوکارہ نے اسلام آباد کے میئرکو ایک خط لکھ کرکہا تھا کہ کاون کو ہمیں دے دیں، کمبوڈیا میں اس کا علاج معالجہ کرایا جائے گا کیونکہ اس کی ذہنی بیماری بڑھتی جارہی ہے۔ کاون کوکمبو ڈیا لے جانے کیلئے ساراخرچ بھی تنظیم برداشت کرے گی۔

امریکی گلوکارہ نے اپنی ٹویٹ میں کاون کی رہائی کیلئے خصوصی طور پر مارک کا شکریہ بھی ادا کیا۔

مرغزار کے چڑیا گھر میں موجود 38 سالہ کاون کے حق میں فیصلہ آنے میں 5 سال کا عرصہ لگا۔

عدالت نے کیا حکم دیا؟

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہرمن اللہ نے مرغزار چڑیا گھر کی حالت پر تحریری فیصلے میں حکم دیا ہےکہ وائلڈ لائف بورڈ سری لنکن ہائی کمیشن سے رابطہ کرکے ہاتھی کو 30دن کے اندر پاکستان یا بیرون ملک کسی محفوظ جگہ منتقل کرے۔

ہائیکورٹ کے مطابق مرغزارچڑیا گھر میں جنگلی حیات کے قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کی جارہی تھی، اشرف المخلوقات کو کورونا کے باعث لاک ڈاؤن میں رہتے ہوئے سبق سیکھنا چاہیے۔سب انسانوں کو سوچنا ہو گا کہ کیا صرف اپنی تفریخ کے لئے باقی مخلوق کو پنجروں میں قید کر دینا درست ہے؟تمام جانوروں کو ملک یا ملک سے باہر پناہ گاہوں میں منتقل کیاجائے جس کیلئے وزارت موسمیاتی تبدیلی، شہری انتظامیہ اور وائلڈ لائف بورڈ مل کرکام کریں۔

حکم میں مزید کہا گیا ہے کہ کہ کسی بھی انٹرنیشنل ایجنسی یا چڑیا گھرسے متعلق معاملات میں مہارت رکھنے والی تنظیم کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی بعد ہی چڑیا گھرمیں کوئی نیا جانورلایاجاسکے گا کہ یہاں جانوروں کی ہرمعاشرتی اور جسمانی ضروریات پورا کرنے کے لیے سہولیات اور وسائل دستیاب ہیں۔

کاون کے حق میں مظاہرے

واضح رہے کہ جانوروں کے حقوق سے متعلق کام کرنے والے ادارے اوراسلام آباد کے شہری تقریبا 6 ماہ چڑیا گھر کے سامنے مظاہرے کرتے ہوئے کاون کو محفوظ پناہ گاہ بھیجنے کی درخواست کرتے رہے۔ اس کے بعد گذشتہ 5 برسوں کے دوران بھی مختلف اوقات میں کاون اور دیگر جانوروں کے لیے آواز اٹھائی جاتی رہی ۔

کاون کیلئے سب سے پہلے کس نے آواز اٹھائی؟

کاون کیلئے اس جدوجہد کا بنیاد ایک آن لائن پٹیشن بنی تھی جو 2015 میں پاکستانی نژاد امریکی شہری ثمرخان نے دائرکی۔

بی بی سی کے مطابق ثمراپنے اہلخانہ کے ہمراہ چھٹیاں گزارنے اسلام آباد آئی ہوئی تھیں جہاں وہ چڑیا گھربھی گئیں اور دیکھا کہ پنجرے میں موجود کاون اپنے سر کو ادھر سے ادھر ہلا رہا ہے، ویٹرنری طالبہ ثمر جان گئیں کہ کاون ڈپریشن کا شکارہے کیونکہ ہ عموماً ہاتھی اپنا سراس اندازمیں اس وقت ہلاتے ہیں جب وہ ذہنی تناؤ اورڈپریشن کا شکارہوتے ہیں۔

امریکا واپس جا کرثمرنے آن لائن پیٹیشن کا آغاز کیا جس میں کاون کی کیفیت بتاتے ہوئے حکام سے درخواست کی گئی کہ اسے چڑیا گھر سے نکال کر جانوروں کی کسی محفوظ پناہ گاہ پہنچایا جائے۔ پیٹشن پر سپورٹرز کی تعداد 4 لاکھ سے زائد ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube