ہوم   > فیشن ، لائف اسٹائل

مچھلی یا مرغی؟ہم نیچادکھانےکا موقع نہیں چھوڑتے،شرمیلا فاروقی

SAMAA | - Posted: Apr 3, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 3, 2020 | Last Updated: 2 months ago

تصویر: انسٹاگرام

کرونا وائرس کے باعث کیے جانے والے لاک ڈاؤن میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات کئی طرح کے مشاغل میں مصروف ہیں۔ سینیئر پی پی رہنما شرمیلا فاروقی آج کل سوشل میڈیا پر کھانا پکاتے ہوئے ویڈیوز شیئرکررہی ہیں۔

شرمیلا کی جانب سے شیئرکی گئی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پربیحد وائرل ہے،صارفین میمزسمیت مزاحیہ ویڈیوز بنا کر شیئرکرنے کے علاوہ پی پی رہنما کو تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔

اس ویڈیو میں شرمیلا نے آغاز میں پین فرائی چکن فلے وِد لیمن اور بٹر بنانے کا بتاتے ہوئے ترکیب شروع کی لیکن نادانستگی میں جسےانہوں نے چکن کہا وہ مچھلی کے ٹکڑے تھے، ترکیب کے دوران شرمیلا نے اس بات کی تصحیح کرتے ہوئے مچھلی کو مچھلی ہی کہا لیکن علیحدہ سے یہ وضاحت نہیں کی۔

ٹوئٹرصارفین نے اس ویڈیو کا بری طرح سے مذاق بناڈالا۔ کسی کو مچھلی میں سے مرغی نکلتی دکھا دی تو کسی نے شرمیلا کی اس کاوش کو میرا کے مقابلے پرآنا قرار دے ڈالا۔ کسی نے پوچھا یہ کونسا نشہ ہے؟۔

خود شرمیلا نے ٹینشن زدہ ماحول میں ویڈیو کے تفریح کا باعث بننے پراس حوالے سے کئی میمز اور مزاحیہ ویڈیوز ٹوئٹرپر شیئر کیں۔

اس حوالے سے سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے شرمیلا نے کہاکہ مجھے خوشی ہے گھرمیں کھانا بنانے کی پہلی ویڈیو لاک ڈاؤن کے ڈپریشن زدہ دنوں میں لوگوں کیلئے تفریح طبع کا باعث بنی اور سوشل میڈیا، بلاگز، فیس بک پیجز، واٹس ایپ کے ذریعے وائرل ہوئی۔

سینیئر پی پی رہنما نے بتایا کہ یہ ویڈیوزمیرے لیے یہ گھر میں رہتے ہوئے تفریح کا ایک ذریعہ ہے، اس دن میں چکن اور قیمہ بنا چکی تھی اور کافی تھکی ہوئی تھی لیکن میرے اسٹاف نے اصرارکیا کہ میڈم ویڈیو بنالیں آپ یوٹیوب پرڈالیں، یہ ہماری پہلی ویڈیو تھی اور وہ مجھ سے زیادہ ایکسائٹڈ تھے۔ ویڈیو میرے گھر کام کرنے والے لڑکے کے فون سے بناتے ہیں اور میرے بیٹے کی نینی (دیکھ بھال کرنے والی خاتون ) کیمرے کے پیچھے ہوتی ہے، ہم انجوائے کرتے ہوئے ہنس بھی رہے ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا میں نےآغاز میں فش فلے کے بجائے چکن فلےکہہ دیا تھا، بعد میں اس ویڈیوکو انسٹا گرام پرپوسٹ بھی کردیا کیونکہ مجھے لگا اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ میری کئی دوستوں نے فون کر کے بھی پوچھا تو میں نے بتایا کہ ہاں یہ مچھلی تھی اورمیں نے کمنٹس میں لکھ دیا ہے۔ دکھ کی بات ہے کہ مردوں کے مقابلے میں عورتوں نے اس پرمیمز اور مزاحیہ ویڈیوز بنائی ہیں لیکن میں کسی کو الزام نہیں دے رہی کیونکہ آج کل ہر کوئی ڈپریشن میں ہے، گھر پر ہیں تو کم از کم لوگوں کو کچھ کرنے کو تو مل رہا ہے۔ اب میں تبصرے دیکھ دیکھ کر ہنس رہی ہوں۔

سماجی رویوں سے متعلق بات کرتے ہوئے شرمیلا نے کہا کہ ایک عورت جب گھر سے باہرنکلتی ہے تو اسے ایسے بہت سے رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان سے نمٹنا پڑتا ہے۔ یہ انسانی غلطی تھی، نادانستگی میں ایسابہت کچھ ہوجاتا ہے، میں ایک سیاستدان بھی ہوں تو میں نے ایسا کچھ نہیں کیا کہ کوئی اعدادوشمارغلط بتا دیے ہوں یا جس سے کسی کا نقصان ہواہو۔ مجھے بہت سے سیاستدانوں کی بھی کالزآئیں جن میں زیادہ تعداد مردوں کی تھی۔ کئی ویب سائٹس نے اس حوالے سے خبریں بنائیں جن پرمجھے کوئی اعتراض نہیں،آپ نے لکھنا ہے ضرور لکھیں لیکن دوسرے کو کمتر نہ سمجھیں۔

اتنی ساری میمز اور ویڈیوز کو انجوائے کرتے ہوئے شرمیلا نے ایک کوشش خود بھی کی۔

اس سے قبل انسٹا پوسٹ میں بھی شرمیلا کا کہنا تھا کہ بطور ایک سیاستدان میں اسے اپنی کامیابی گردانتی ہوں لیکن میرے شوہریا بیٹا یقینی طور پرایسا نہیں سمجھتے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم نے قرنطینہ کے ان دنوں میں کچھ نہیں سیکھا۔ ہم اب بھی کسی خاتون کی معمولی غلطی کو معاف نہیں کرتے اگر وہ سیاستدان ہے، ’’ہم اب بھی کسی خاتون کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے‘‘۔

شرمیلا کی یہ ویڈیو صارفین کیلئے قہقہوں کا باعث تو بنی لیکن تفریح کے دوران کیا انہوں نے اس بات کا بھی خیال رکھا کہ کہیں وہ دل آزاری تو نہیں کررہے؟۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube