Thursday, October 1, 2020  | 12 Safar, 1442
ہوم   > فیشن ، لائف اسٹائل

ڈبہ روٹی، ڈبرروٹی یا ڈبل روٹی؟

SAMAA | - Posted: Mar 3, 2020 | Last Updated: 7 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 3, 2020 | Last Updated: 7 months ago

سوشل میڈیا کا دورہو اوردنیا سمٹ کر گلوبل ولیج میں تبدیل ہوچکی ہو تو پھراپنی بات ڈنکے کی چوٹ پر کہنا اور دوسروں کو سوچنے پرمجبور کردینا کون سا مشکل کام ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس وقت خاصی ہلچل دیکھنے میں آئی جب ایک صارف نے دیگر سے پوچھا کہ آپ کو کس عمر میں اس حقیقت سے آگہی حاصل ہوئی کہ ڈبل روٹی دراصل ’’ڈبہ روٹی ‘‘ ہے۔ (اس ڈبہ کو زبر کے ساتھ پڑھیے گا کیونکہ آگے زیر کی ضرورت بھی پیش آئے گی۔)

اکبر زیب پیرزادہ نامی صارف کی اس ٹویٹ پرخاصا دلچسپ ردعمل دیکھنے میں آیا۔

واللہ علم صارفین خود سے اتنی معلومات رکھتے تھے یا پھر اس ٹویٹ کے بعد گوگل بابا کو زحمت دی گئی لیکن دلائل کے ساتھ دی گئی معلومات کی کیا ہی بات رہی۔

ایک صارف نے اکبرالہ آبادی کی شاعری لکھ کر بتایا کہ ڈبل روٹی ، ڈبل روٹی ہی ہے۔

شیف اور بلاگنگ کرنے والے ایک صارف نے اپنی پوری ریسرچ شیئر کرڈالی جس کا لب لباب بھی ڈبل روٹی ہی نکلا، ڈبہ روٹی نہیں۔

ایک صارف نے ڈبل روٹی اور ڈبہ روٹی مستردکرتے ہوئے ’’ڈبرروٹی ‘‘ ایجاد کرڈالی۔

وکی پیڈیا سے لی گئی معلومات میں بھی ڈبل روٹی ہی نکلا لیکن جواب میں یہ بحث چھیڑنے والے صارف جواب میں نانی اور دادی کاحوالہ دیتے ہوئے بات پرقائم رہے۔

فرقان ٹی صدیقی نامی صارف نے بھی گوگل کی معلومات کو مستند جانا لیکن جواب میں انہیں کاپی پیسٹ کا طعنہ بھی مل گیا۔

فرہنگ آصفیہ اور اردو سائنس بورڈ کی لغت کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے تحفظات بھی خوب بیان کیے گئے۔ بات نکلی ہے تو اب دور تک جائے گی کے مصداق جواب میں سال 1904 کے آئین قیصری کا باب نمبر2  پڑھنے کا کہاگیا۔

ایک صارف نے دعویٰ کرڈالا کہ یہ ڈبہ نہیں ڈِبہ روٹی ہے۔

ماہرلسانیات کی رائے

سماء ڈیجیٹل نے اس الجھی گتھی کو سلجھانے کیلئے معروف ماہر لسانیات ، لغت نویس، مزاح و کالم نگار رؤف پاریکھ سے رابطہ کیا جنہوں نے بتایا کہ ڈبل روٹی صحیح لفظ ہے کیونکہ جب انگریزبرصغیر میں آئے تو دو سلائس کے درمیان کوئی چیزرکھ کر کھاتے تھے جسے سینڈوچ کہا جاتا ہے۔ ہندوستان میں بسنے والے افراد اس چیز سے مانوس نہیں تھے انہوں نے سینڈوچ کو ڈبل روٹی کہا اورآگے چل کر کسی بھی بریڈ کو ڈبل روٹی ہی کہا گیا۔

رؤف پاریکھ نے اس بات پر خاصی ناراضگی کااظہار کیا کہ سوشل میڈیا پر جس کا جو دل چاہیے لکھ دیتا ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اس کی زندہ مثال یہ شعر ’’ تُندی بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب، یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اْڑانے کے لیے ‘‘ ہے ، جس کے آخر میں عقاب لکھا ہے تو اسے علامہ اقبال سے منسوب کردیا گیا۔ اسی طرح کسی شعرکے آخرمیں فراز لکھا ہے تو وہ احمد فراز کا شعر قراردیا جائے گا۔

درحقیقت یہ شعر ضلع سیالکوٹ قصبہ ظفروال کے ایک قانون دان سید صادق حسین ایڈووکیٹ کا ہے جو ان کی 1976ء میں شائع ہونیوالی کتاب برگ سبز میں موجود ہے۔ کشمیر سے ہجرت کرکے شکرگڑھ آنے والے سید صادق کوشعروسخن سے شغف تھا اور وہ اقبال سے متاثر تھے۔

سوشل میڈیا پر تو ڈبل روٹی اور ڈبہ روٹی کی بحث ابھی بھی جاری ہے لیکن آپ کو کون سا لفظ صحیح لگتا ہے؟ اپنے تبصرے میں ضرور بتائیے گا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube