ہوم   > فیشن ، لائف اسٹائل

کرایہ دار اور مالک مکان کیلئے قوانین

SAMAA | - Posted: Feb 26, 2020 | Last Updated: 1 month ago
Posted: Feb 26, 2020 | Last Updated: 1 month ago

اگر آپ گھر کرایہ پر دینا یا لینا چاہتے ہیں اور مالکان مکان اور کرایہ دار کی تو تو میں میں سے بچنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے یہ قوانین پڑھ لیں۔

قانون کے مطابق ایک مالک مکان اپنے کرایہ دار کو ان وجوہات کی بنا پر اپنا گھر خالی کروانے کا کہہ سکتا ہے۔

وجوہات

مسلسل تین ماہ تک کرایہ ادا نہ کرنا

کرایہ پر لیا گیا گھر مالک مکان کو اطلاع دیے بغیر کسی اور کو کرایہ یا لیز پر دینا

جس مقصد کیلئے گھر کرایہ پر حاصل کیا، مالک مکان کی مرضی کے بغیر اس سے ہٹ کر کسی اور مقصد کیلئے استعمال کرنا

مکان کو نقصان پہنچانا

مالک مکان کی مرضی کے بغیر تعمیرات کرنا

جب مالک مکان کو حقیقت میں گھر کی ضرورت پڑے، جیسے کہ وہ خود یا اس کی فیملی میں سے کوئی منتقل ہونا چاہتا ہو، یا وہ اس پر مزید تعمیرات کرنا چاہتا ہو

جب مالک مکان انتقال کرجائے یا نوکری سے ریٹائر ہوجائے

ان تمام وجوہات کے تحت مالک مکان کرایہ دار کو ایک ماہ میں گھر خالی کرنے کا نوٹس دے سکتا ہے۔ اگر تین ماہ تک کرایہ نہیں دیا تو پھر 15 دن میں بھی خالی کروایا جاسکتا ہے۔

کرایہ کی ادائیگی

کرایہ ادا کرنے کی تاریخ اگر ریگریمنٹ میں متعین نہیں تو پھر ہر ماہ کی 10 تاریخ تک ادا کرنا لازمی ہے۔

کرایہ دار کو چاہئے کہ ہر ماہ کا کرایہ ادا کرنے کے بعد مالک مکان سے دستخط شدہ رسید وصول کرے۔

کرایہ بڑھانا

کسی بھی پراپرٹی کا کرایہ سال میں 10 فیصد یا تین سال بعد 25 فیصد بڑھایا جاسکتا ہے۔ ان میں سے کون سا راستہ اختیار کرنا ہے یہ فریقین آپس میں طے کرسکتے ہیں۔

اس کے علاوہ اگر کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنا چاہیں تو وہ ایگریمنٹ میں لازمی لکھوانا چاہیے۔

گھر کی مرمت اور ٹیکس

بجلی، پانی، سینیٹری فٹنگ، پینٹنگ، ٹیکسز اور سفیدی سمیت مرمت کے تمام اخراجات مالک مکان ادا کرے گا۔ اس میں ماہانہ بل شامل نہیں۔ اگر ان میں سے کسی بھی مرمتی کام پر کرایہ دار پیسہ خرچ کرے تو وہ ماہانہ کرایہ میں کٹوتی ہوگی۔

کرایہ داری کا دورانیہ

کرایہ داری معاہدے کا اسٹینڈرڈ دورانیہ ایک سال ہوتا ہے مگر فریقین باہمی مشاورت اور مرضی سے دورانیہ بڑھا سکتے ہیں۔

اگر فریقین میں کوئی بھی ان قواعد کی خلاف ورزی کرتا ہے تو معاملہ رینٹ کنٹرولر کے پاس جائے گا۔ رینٹ کنٹرولر سرکاری ملازمین ہیں، وہ معاملے کا جائزہ لیں گے۔ اگر کوئی فریق غلطی پر ہوگا تو معاملہ ضلعی عدالت میں جائے گا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube