ہوم   > فیشن ، لائف اسٹائل

چمڑے کی جیکٹ پہن کرسرفروشی کی تمنامیں براکیا

2 weeks ago

ہمیں کسی این جی او نے پیسے نہیں دیے

انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے

شاید کہ اترجائے ترے دل میں مری بات

شاعرمشرق علامہ اقبال نے یہ جملہ یونہی نہیں کہہ دیا ہوگا کسی سے اپنی بات کہنی یا منوانی ہوتواس کے لیے وہی طریقہ اختیارکرنا پڑتا ہے کہ اگلا آپ کی بات سنے، سوچے اور پھرسمجھے۔

دو روزقبل سوشل میڈیا پروائرل ویڈیو میں لاہورمیں ہونے والے پانچویں فیض فیسٹول کے دوران نوجوانوں کا ایک گروہ دائرہ بنا کرڈھول کی تھاپ پرہندوستانی شاعر بسمل عظیم آبادی کی مشہورزمانہ نظم ’’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے ‘‘ لے کے ساتھ پڑھ رہا ہے۔

کانوں کو سننے اورآنکھوں کو دیکھنے میں ان پرجوش نوجوانوں کی آوازوانداز خاصے بھلے لگ رہے ہیں تو پھر ایسا کیا تھا جو سوشل میڈیا پرایک طوفان امڈ آیا؟ سب کو نظرآئی تو وہ لڑکی جو چمڑے کی جیکٹ پہنے، کجراری آنکھوں اور کھلے بالوں کے ساتھ انتہائی پرجوش اندازمیں اس نظم کا شعر’’ آج پھر مقتل میں قاتل کہہ رہا ہے باربار ۔۔۔ آئیں وہ شوق شہادت جن کے جن کے دل میں ہے ــ پڑھ رہی ہے۔

سوشل میڈیا پرکی جانے والی ٹویٹس میں انہیں برگربچی کہا گیا جسے عام آدمی کے مسائل کا علم نہیں اوران کا لگژری لائف اسٹائل ہے۔ اس حوالے سے کی جانے والی تمام ٹویٹس یافیس بک پوسٹس پراس لڑکی کو نشانہ بنایا گیا جس نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عورت بول پڑے تو مسئلہ بن جاتا ہے کہ ہائے اللہ، عورت نے بول دیا لیکن یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اس نے بولا کیا ہے۔

 

 

اس لڑکی کا نام عروج اورنگزیب ہے جو پنجاب یونیورسٹی کی فارغ التحصیل اوراب پروگریسواسٹوڈنٹس کلیکٹو، فیمینسٹ کلیکٹو اورحقوقِ خلق تحریک کا حصہ ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عروج نے اپنے بارے میں بتایا کہ وہ پنجابی تھیٹرمیں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ان کا تعلق عام متوسط گھرانے سے ہے اورمحنت کے بل پرایک دواسکالرشپس بھی لی ہیں۔ گورنمنٹ کالج لاہور(جی سی یو) کے ہاسٹل سے کچھ طالب علموں کو نکالنےکیخلاف احتجاج کرنے والوں میں فیمینسٹ کلیکٹو کی عروج بھی شامل تھیں جو اس کے بعد پروگریسو سٹوڈنٹس کلیکٹو کا حصہ بنیں۔

مقام حیرت کہ عروج کے ساتھ ایک لڑکی اور بھی کھڑی تھی جو عروج کی طرح ہی پورے عزم کے ساتھ نعرے بازی کررہی تھی لیکن وہ کسی کو نظرنہیں آئی؟ نہ کسی ٹویٹ میں اس کی برائی کی گئی، کیوں ؟ ایک جیسا کام کرنے والی ان لڑکیوں کے لباس مختلف تھے لیکن دونوں کی شخصیات میں مشرقی پن نمایاں تھا۔ دوپٹہ نہ لینے والی عروج نے جیکٹ ضرور پہنی لیکن لباس مشرقی تھا جبکہ ان کے ساتھ کھڑی لڑکی کا لباس مغربی تھا تو سرکو اسکارف سے ڈھانپ رکھا تھا۔ یہاں معاشرے کے دہرے رویے سے متعلق سوال ضرور اٹھتے ہیں۔

 

 

اس تنقید پربی بی سی سے بات کرنے والی عروج نے کہا کہ میری شکل اور حلیے پرنہ جائیں ، ہمارا کوئی مقصد بھی تو ہے، اس پربات کریں۔ یہ اسٹریٹ انٹرٹینمنٹ یا ڈرامے بازی نہیں تھی۔ ہمیں پتا تھا فیسٹول میں کافی لوگوں کو آنا ہے تو یہ ہمارا لائحہ عمل تھا کہ انہیں طلبہ یکجہتی مارچ میں شامل ہونے کی دعوت ایسے دیں گے ہم نے صرف نعرے بازی نہیں کی، اسٹڈی سرکل بھی منعقد کیا، پمفلٹ بھی بانٹے، ہاں اس سب تصویریں وائرل نہیں ہوئیں‘‘۔

این جی اوز نے پیسے نہیں دیے

عروج کے مطابق ہمارا اورکوئی مقصد نہیں ہے۔ لوگوں کو ابہام ہے کہ پتا نہیں کیا مقصد ہے یا این جی او نے پیسے دیے ہیں۔ ایسی کوئی بات نہیں، ’’ہم صرف عام سے انسان ہیں جو اپنی زندگیوں سے تنگ ہیں، خود کشیاں نہیں کرنا چاہتے بس نظام کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ ہم غیر طبقاتی معاشرے اور غیر طبقاتی تعلیمی نظام کا قیام چاہتے ہیں۔ سب کے لیے تعلیم ایک جیسی ہوگی تو ہم ایک جیسے بن سکتے ہیں۔ ہم کوئی غلط بات تو نہیں کر رہے نا۔

عروج اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے بانٹے جانے پمفلٹس میں نصف صدی بعد پاکستان کے تمام اداروں میں طلبہ سرکشی کی لہر کو واضح کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ طلبہ ایکشن کمیٹی کا بنیادی مقصد طلبہ تحاریک کو ایک لڑی میں پرونا ہے۔

عروج کا مقصد کیا ہے؟

طلبہ یکجہتی مارچ کی اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی 29 نومبر کو پاکستان بھرمیں ’’طلبہ یکجہتی مارچ ‘‘ منظم کرنے سے متعلق پرعزم ہے کہ اس سے سماجی گراوٹ کو شکست دیتے ہوئے حقیقی معنوں میں انسانی معاشرہ کا قیام ممکن ہوگا۔

ان کے اہم مطالبات درج ذیل ہیں۔

طلبہ یونین پر سے پابندی ختم کرکے فی الفور ملکی سطح پر طلبہ یونین کے انتخابات کرانا

تعلیمی اداروں کی نجکاری کا خاتمہ ، فیسوں میں اضافہ واپس اور مفت تعلیم کی فراہمی

حکومت کی جانب سے ہائرایجوکیشن کمیشن کے بجٹ میں کی جانے والی کٹوتیاں واپس لینا

تعلیمی اداروں میں حلف ناموں کا خاتمہ اور سیاسی سرگرمیوں سے پابندی اٹھانا

سیاسی اسیر طلبہ کی رہائی اور تعلیمی اداروں میں سے سیکیورٹی فورسز کی مداخلت بند کرنا

جنسی ہراسانی کے تحت کمیٹیوں کی تشکیل اور ان میں طلبہ نمائنگی کو یقینی بنانا

ہاسٹل کے اوقات کار کو طلبہ وطالبات کے لیے یکساں بنانا

تمام طلبہ کیلئے مفت ہاسٹل اور ٹرانسپورٹ کی سہولت

طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ کرتے ہوئے اسے جدید سائنسی تقاضوں پر استوارکرنا

ہرضلع میں ایک یونیورسٹی کا قیام اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبا کا کوٹہ بڑھانا

فارغ التحصیل طلبا کو روزگاریا بطور بیروزگار الاؤنس کم سے کم اجرت

قوم ، صنف اور مذہب کی بنیاد پرطلبا کے ساتھ تعصب اور ہراسانی بند کرنا

دوردراز سے اسلام آبادآنے والےطلبا کو ہاسٹل کی فراہمی اور سی ڈی اے کو فوری طور پو پرائیویٹ ہاسٹلز فروخت کرنے سے روکنا

 

نظم ’’سرفروشی کی تمنا‘‘ 1921 میں پٹنہ سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی شاعر بسمل عظیم آبادی نے لکھی تھی، جسے رام پرساد بسمل نے ہندوستان میں برطانوی راج کے دور میں آزادی کی جنگ کی آواز کے طور پر لافانی بنایا۔ یہ نظم سب سے پہلے دہلی سے نکالے جانے والے جریدہ "صباح" میں شائع ہوئی تھی۔

 

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

اے شہید ملک و ملت میں ترے اوپر نثار

لے تری ہمت کا چرچا غیر کی محفل میں ہے

وائے قسمت پاؤں کی اے ضعف کچھ چلتی نہیں

کارواں اپنا ابھی تک پہلی ہی منزل میں ہے

رہرو راہ محبت رہ نہ جانا راہ میں

لذت صحرا نوردی دورئ منزل میں ہے

شوق سے راہ محبت کی مصیبت جھیل لے

اک خوشی کا راز پنہاں جادۂ منزل میں ہے

آج پھر مقتل میں قاتل کہہ رہا ہے بار بار

آئیں وہ شوق شہادت جن کے جن کے دل میں ہے

مرنے والو آؤ اب گردن کٹاؤ شوق سے

یہ غنیمت وقت ہے خنجر کف قاتل میں ہے

مانع اظہار تم کو ہے حیا، ہم کو ادب

کچھ تمہارے دل کے اندر کچھ ہمارے دل میں ہے

مے کدہ سنسان خم الٹے پڑے ہیں جام چور

سرنگوں بیٹھا ہے ساقی جو تری محفل میں ہے

وقت آنے دے دکھا دیں گے تجھے اے آسماں

ہم ابھی سے کیوں بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے

اب نہ اگلے ولولے ہیں اور نہ وہ ارماں کی بھیڑ

صرف مٹ جانے کی اک حسرت دل بسملؔ میں ہے

 

 

 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
LUMS , leather jacket, Arooj Fatima, Faiz Festival