ہوم   > فیشن ، لائف اسٹائل

یہ مائیک دیکھ کررحمان ملک کسے انٹرویودے بیٹھے؟

2 weeks ago

انٹرویو دینا کسے پسند نہیں ہوتا اور جب یہ انٹرویو کسی معروف ادارے کیلئے ہو توپھراظہار رائے کا موقع ملنے کے ساتھ ساتھ مشہوری میں بھی اضافے کا باعث بنتا ہے۔

پی پی سے تعلق رکھنے والے سینیٹررحمان ملک کا نام تو کسی تعارف کا محتاج نہیں کہ وہ مشہور ہونے کیلئے انٹرویو دیتے پھریں، یقیننا برطانوی نشریاتی ادارے کا مائیک دیکھ کر وہ بیچ راستے ایسا کر بیٹھے ہوں گے لیکن اس کا نتیجہ کچھ اچھا نہیں نکلا۔

رحمان ملک کی تصاویر سوشل میڈیا پرخوب وائرل ہیں جس میں ایک شخص کو انٹرویو دے رہے ہیں جس نے بی بی سی کا مائیک پکڑ رکھا ہے۔ تصویرمیں بظاہرتو کچھ غلط نظر نہیں آتا لیکن رحمان ملک کے ساتھ موجود ان دوسرے صاحب پر نظر ڈالیں تو ذہن میں کچھ کھٹکتا ہے اور وہ ہے ان کا حلیہ۔

یہ عقدہ تو بعد میں کھلا کہ سنہری زلفوں ، ہلکے میک اپ اوراسکاٹش ٹچ کے منفرد لباس کے ساتھ یہ صاحب رپورٹر نہیں ایک ڈھونگی ہیں۔

بی بی سی اردوکے سوشل میڈیا ایڈیٹرطاہر عمران میاں نے ٹوئٹر پررحمان ملک کی یہ تصاویر شیئر کرتے ہوئے انہیں ٹیگ کیا اور حقیقت بتائی۔

 

جواب میں رحمان ملک نے ٹویٹ کیا کہ وہ پہلےہی اس شخص سے متعلق تحقیقات کا حکم دے چکے ہیں کہ اس شخص کو سینیٹ جیسی حساس جگہ کا انٹری پاس کس نے جاری کیا۔

رحمان ملک کے مطابق مجھے اس وقت شبہ ہوا جب پوچھنے پر اس شخص کا کہنا تھا کہ وہ بی بی سی اٹلی سے تعلق رکھتا ہے۔

 

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ خود کو بی بی سی کا صحافی ظاہر کرنے والے اس نامعلعوم شخص نے جے یو آئی (ف) کے دھرنے کی کوریج بھی کی ۔

ایک صحافی نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ یہ شخص تو مولانا فضل الرحمان کے کنٹینر پربھی موجود تھا جس پر طاہر عمران میاں نے تصویر کے ساتھ بتایا کہ ہاں، ہم نے اسے اسی جگہ پکڑا تھا۔

ٹوئٹرصارفین نے اپنی نوعیت کے اس منفرد واقعے پر شدید حیرت کا اظہارکیا۔ رحمان ملک نے اس حوالے سے مختلف ٹویٹس کا جوا ب دیتے ہوئے بتایا کہ اس حوالے سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

 

پی پی سینیٹر کے مطابق مذکورہ شخص بی بی سی رپورٹر، ساؤتھ ایشیا کے پروفائل سے ٹوئٹر پربھی موجود ہے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
Rehman Malik , BBc , fake reporter , mian imran tahir , azadi march
 
مقبول خبریں