ہوم   > فیشن ، لائف اسٹائل

کراچی کا پہلا شراب خانہ چلانے والی موکھی

1 month ago

کراچی کا پہلا شراب خانہ چلانے والی لڑکی کی ایسی افسانوی داستان جو بعدازاں سندھ کی تاریخ کا حصہ بن گئی۔

گڈاپ کے دور دارز علاقے میں کیرتھر پہاڑوں کے بیچ میں موکھی کا مزار وقع ہے، موکھی کی کہانی تین سو سال سے زیادہ پرانی ہے، گڈاپ میں موکھی نام کی حسین وجمیل لڑکی کا مئے خانہ کراچی کا سب سے پہلا مئے خانہ تھا۔

تاریخ دان گل حسن کلمتی نے بتایا کہ کہانی یہ ہے کہ مشہور رومانوی داستان مومل رانو کی کنیز ناتر جب مومل کا محل چھوڑ کر گڈاپ پہنچی تو اس نے یہاں ایک مئے خانہ بنایا، ناتر کے بعد اس کی بیٹی موکھی نے مہ خانے کو چلایا۔

موکھی کا مئے خانہ ايسے مقام پر تھا جہاں سے بلوچستان اور ایران کیلئے راستہ نکلتا تھا، لوگ شراب خانے میں رکتے جہاں ميزبانی ميں اُنھيں شراب بھی پیش کی جاتی تھی۔

موکھی کے مئے خانے کی شہرت میں دن بدن اضافہ ہورہا تھا یہی سوچ کر کچھ دوستوں نے موکھی کے مئےخانے کا رخ کیا لیکن جب وہ پہنچے تو شراب ختم ہوچکی تھی ان دوستوں کا اصرار تھا کہ ہمیں شراب دی جائے، موکھی کو یاد آیا کہ ایک پرانے مٹکے میں کئی دن سے شراپ پڑی ہے، اس نے وہی ان دوستوں کو پلا دی وہ شراب پی کرہنسی خوشی چلے گئے۔

جب موکھی نے صفائی کیلئے اس مٹکے کے اندر دیکھا تو وہ گھبرا گئی کیوں کہ مٹکے میں سانپ کی ہڈیاں تھیں، وہ سمجھ گئی کہ زہریلی شراب پینے والے ابتک مرچکے ہوں گے۔

مگر کچھ دنوں بعد زہریلی شراب پینے والے پھر موکھی کے مہ خانے آئے، موکھی انہیں زندہ دیکھ کرخوش ہوئی لیکن جب موکھی نے انہیں حقیقت بتائی کہ جو شراب اس نے انہیں آخری بار پلائی تو وہ زہریلی تھی ۔

موکھی کی زہریلی شراب والی بات سن کر تمام دوستوں پر ايسا خوف طاری ہوا کہ سارے دم دے بيٹھے، موکھی متاروں کی داستان کا مستند حوالہ حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی کے رسالو سُر يمن کلیان میں بھی ملتا ہے۔

موکھی کے مئے خانے کے قریب ہی ان دوستوں کی خستہ حالت میں قبریں اور موکھی کی قبر آج بھی موجود ہے جسے لوگ ساقی کا مزار بھی کہتے ہیں۔

 

 
TOPICS:

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں