ہوم   > فیشن ، لائف اسٹائل

میں خود بھی ایک رشتہ آنٹی ہوں، دانش علی

2 months ago

رشتے والے ، سنگین مسئلے کی عکاسی کرتی مزاحیہ ویڈیو

 

سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک ویڈیو تیزی سے مقبولیت حاصل کررہی ہے۔ ریڑھی پر لڑکوں کو بٹھائے رشتے فروخت کرنے کی اس مزاحیہ ویڈیو کا اصل مقصد معاشرے کے اہم مسئلے کی جانب توجہ دلانا ہے جو ہم میں سے بہت سے لوگ سمجھ کر بھی نہیں سمجھنا چاہتے۔

یہ ویڈیو بنانے والے پاکستانی کامیڈین دانش علی کا کہنا ہے کہ ان دنوں شادیوں کا مقصد دکھاوا رہ گیا ہے۔ متوسط طبقہ بھی اس دباؤ کا شکار ہوکر کم آمدنی کے باوجود زیادہ خرچ کرنے پرمجبور ہے۔

سماء کے پروگرام " نیا دن " میں شریک دانش علی نے ویڈیو سے متعلق بات کرتے ہوئے یہ انکشاف بھی کیا کہ وہ بھی رشتے کرواتے ہیں۔ کامیڈین کا کہنا تھا کہ میں خود بھی ایک رشتہ آنٹی ہوں اور شادی کے لیے 2 جوڑیوں کی ملاقات کروا چکا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میرا مقصد تھا ایک ایسی مزاحیہ ویڈیو بناؤں جو پوری فیملی بیٹھ کردیکھ سکے لیکن بعد میں احساس ہوا کہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے ۔ زندگی میں دکھاوے سے زیادہ بیٹی کی تعلیم ضروری ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اس ویڈیو سے معاشرے کو ایک مثبت پیغام گیا۔

دانش علی نے کہا کہ ویڈیو کا پیغام پاکستان میں دکھاوے کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ میرے ایک جاننے والے نے شادی کیلئے اچھے رشتے کی لالچ میں ڈیفنس میں بنگلہ کرایے پر لے رکھا تھا اور جہاں ان کا رشتہ ہوا انہوں نے بھی یہی کیا تھا۔ دونوں خاندان ایک دوسرے کو بہت امیر سمجھ رہے تھے لیکن شادی کے بعد سچائی کا عالم ہوا ۔

انہوں نے کہا کہ لوگ سوچیں کہ وہ دکھاوے کیلئے کیا کیا کر ڈالتے ہیں۔ یہ آپ ہی کا پیسہ ہے جو کہیں اور لگایا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے بہت سے لوگوں کا روزگار وابستہ ہے اس لیے میں دیہاڑی داڑ لوگوں کی روزی کوٹارگٹ نہیں کررہا لیکن شادیوں میں تھوڑا مناسب طریقے سے خرچ کرنا چاہیے۔

بیشتر ویڈیوز میں ڈی ایچ اے کو نشانہ بنانے سے متعلق سوال پر کامیڈین کا کہنا تھا کہ میں ڈی ایچ اے میں نہیں رہتا اس لیے ہر ویڈیو میں حوالہ دیتا ہوں کیونکہ یہ علاقہ امارت کے حوالے سے مشہور ہے۔

دانش علی نے اپنی شادی کے حوالے سے بھی بتایا کہ والد صاحب کو سمجھایاتھا کہ یہ پیسہ مجھے دے دیں میں مسجد میں جا کر نکاح کرلیتا ہوں۔

انہوں نے دیکھنے والوں کو پیغام دیا کہ زندگی میں دکھاوے کے بجائے بہتر چیزوں کی جانب توجہ دیں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں