ہوم   > فیشن ، لائف اسٹائل

بھارت نے ‘’آرٹیکل 370 تھالی‘‘ متعارف کرادی

1 week ago

بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو آئین میں تبدیلی کرتے ہوئے مقبوضہ وادی کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا گیا تھا۔ اس دن سے وادی میں لاک ڈاؤن ہے اور پاکستان سمیت دنیا بھر سے بھارتی مظالم کے خلاف مظلوم کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھائی جا رہی ہے۔ ایسے میں دہلی کے ایک ریسٹورنٹ کو کچھ انوکھی ہی سوجھی۔

دہلی کے ایک مشہور ریسٹورنٹ نے روایتی تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھانوں میں بھی سیاست کا رنگ شامل کردکھایا، ریسٹورنٹ نے ’’آرٹیکل370 ‘‘ کے نام سے تھالی متعارف کروائی ہے جس میں مقبوضہ جموں وکشمیرکے روایتی پکوان پیش کیے جا رہے ہیں۔

ریسٹورنٹ انتظامیہ کے مطابق کشمیر ہمیشہ سے ہندوستان کا اہم حصہ رہا ہے اور اب جب اس کا باضابطہ اعلان کر گیا ہے تو ہم اس فیصلے کا کھلے دل سے خیر مقدم کرتے ہیں۔ کشمیریوں کی حمایت کیلئے اس تھالی کی کل قیمت میں سے بھارتی 170 روپے کشمیر ریلیف فنڈ میں دیے جائیں گے۔ انتظامیہ نام نہاد سیکیولر ازم کی حمایت کیلئے اس بات کی بھی خواہاں ہے کہ یہاں آنے والے اپنے کشمیری دوستوں کو ساتھ لیکر آئیں اور مزیدار کھانوں سے لطف اٹھائیں۔

 

 

ریسٹورنٹ انتظامیہ نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے رہائشیوں کیلئے خصوصی ڈسکاؤنٹ کا بھی اعلان کیا ہے جس کے تحت گورنمنٹ کارڈ دکھا کر 370 بھارتی روپوں کا ڈسکاؤنٹ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یعنی یہ ڈسکاؤنٹ بھی آرٹیکل 370 کے تحت کشمیریوں کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے غیر قانونی اقدام کی بھرپور حمایت کا اظہار ہے۔

 

سبزیوں پر مشتمل تھالی کی قیمت 2 ہزار 370 اور گوشت کے ساتھ 2 ہزار 699 بھارتی روپے ہے۔ ریسٹورنٹ انتظامیہ کے مطابق سبزی والی تھالی میں کشمیری پلاؤ، خمیری روٹی، کھمانی کی روٹی، ندرو کی شامی، دم آلو اور قہوہ شامل ہیں جبکہ گوشت والی تھالی میں ان تمام ڈشز کے علاوہ روغن جوش کا اضافہ کیا گیا ہے۔

ریسٹورنٹ کے مالک کا سویت کلرا کا کہنا ہے کہ ہم ایک سیکولر ملک سے تعلق رکھتے ہیں اور امن و ہم آہنگی کے لئے ہم میں سے ہر ایک کو کوشش کرنی ہوگی۔ ایک بڑے خاندان کے طور پر متحد ہو کر کھڑے ہونے کے لیے قوم کے ذائقوں میں یہ ہمارا حصہ ہے ۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں