ہوم   > فیشن ، لائف اسٹائل

مذاق میں دی گئی طلاق ہوجاتی ہے، اسلامی نظریاتی کونسل

2 weeks ago

اسلامی نظریاتی کونسل نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کو آگاہ کردیا کہ طلاق اگر مذاق میں بھی دی جائے تو ہو جاتی ہے۔ چئیرمین قبلہ ایاز کہتے ہیں اکٹھی 3 طلاقوں کو قابل تعزیر جرم قرار دینے کی سفارش کر چکے۔ وزیر قانون بیرسٹرفروغ نسیم نے بھی سزا کی حمایت کردی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اجلاس میں رکن کمیٹی محمود بشیر نے سوال کیا کہ کیا مذاق میں طلاق ہو جاتی ہے؟۔ جس پر چئیرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز نے جواب دیا کہ ہاں طلاق مذاق میں بھی دی جائے تو ہو جاتی ہے، بیک وقت 3 طلاقوں کو قابل تعزیر جرم قرار دینے کی سفارش کرچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نکاح اور خاندان کا مسئلہ بڑا سنجیدہ ہوتا ہے، اس کو مذاق کا موضوع نہیں بنانا چاہئے، انہوں نے حضرت عمر فاروقؓ کا حوالہ دیا کہ امیر المومنین 3 طلاقوں پر سزا دیا کرتے تھے۔

وزیر قانون فروغ نسیم کے سوال پر چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ بیک وقت 3 طلاقوں کی سزا کا تعین وزارت قانون کے ساتھ مل کر کیا جاسکتا ہے۔

فروغ نسیم بولے خلفائے راشدین کے عمل سے روایت ملتی ہے تو ہم اس کے پابند ہیں، اسلام میں ایک ساتھ 3 طلاقیں دینا جرم ہے تو قانون سازی کی حمایت کروں گا۔

وزیر قانون نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت قانون و انصاف نے تمام قوانین اپنی ویب سائٹ پر ڈال دیئے ہیں۔

قائمہ کمیٹی نے جواب مانگ لیا کہ 750 قوانین میں سے کتنے قوانین کے رولز بنے؟۔ وزارت قانون کے حکام نے بتایا کہ 40 وزاتوں میں سے صرف 5 کا جواب آیا ہے۔

کمیٹی نے ذمہ داران کی طلبی اور سیکریٹریز کی تنخواہیں روکنے کا عندیہ دے دیا۔

 
TOPICS:

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں