ہوم   > فیشن ، لائف اسٹائل

شنیرا اکرم نے اہم بیڑہ اٹھا لیا

2 weeks ago

شنیرا کی ٹویٹس پر پولیس کا فوری ایکشن



لیجنڈ پاکستانی کرکٹر اورسابق کپتان وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرا اکرم نے کراچی میں ساحل سمندر کی ابتر صورتحال کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم کا آغاز کردیا۔


کراچی کا معروف ساحلی مقام سی ویو کبھی باہر سے آنے والوں کے علاوہ خود اس شہر کے باسیوں کیلئے بھی انتہائی کشش کا حامل ہوتا تھا لیکن بتدریج کچرے اور فضلے کے باعث اس کی حالت انتہائی خراب ہوتی چلی گئی۔ شنیرا اکرم نے سی ویو کو عوام کے لیے انتہائی غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے ایمرجنسی صورتحال قرار دے دی۔




سابق کپتان کی آسٹریلوی نژاد اہلیہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر تصاویر اور ٹویٹس کے ذریعے سی ویو کی چشم کشا صورتحال بیان کی۔




شنیرا اکرم نے لکھا گزشتہ 10 منٹ میں مجھے 4 درجن سے زائد کھلی سرنجیں ملی ہیں جو کہ انتہائی خطرناک ہیں۔ جب تک متعلقہ حکام لوگوں کی حفاظت کی ضمانت نہ دیں ہمارے ساحلوں کو مکمل طور سے بند کردینا چاہیئے۔


انہوں نے میڈیا چینلز کیلئے بھی پیغام جاری کیا کہ پیشر اس کے یہ زنگ آلود ٹرک طبی فضلے کو ریت میں دفن کردیں، آپ یہاں آئیں۔




شنیرا نے یہ بھی بتایا کہ میں گزشتہ 4 سال سے ساحل سمندر پر چہل قدمی کرنے آتی ہوں لیکن آج سے پہلے کبھی اتنی خوفزدہ نہیں ہوئی۔ اس ساحل کو فوری بند کردینا چاہیئے۔




انہوں نے ٹوئٹر پر ویڈیو اور تصاویر شیئر کیں جن میں ساحل سمندر پر بڑی تعداد میں استعمال شدی سرنجیں، طبی فضلہ اور دیگر کچرا پڑا دیکھا جاسکتا ہے۔





صورتحال پر شدید فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے شنیرا نے شہریوں کیلئے لکھا کہ ساحل پر مت جائیں اور اسے صاف کرنے کی کوشش کریں۔ یہ فضلہ انسانوں، ماحول اور آبی حیات کیلئے انتہائی خطرناک ہے جس کیلئے ایک مخصوص علاقہ اور صاف کرنے کیلئے ماہرین ہونے چاہئیں۔ ساحل اور سمندر کو ہر ایک کیلئے فوری طور پر غیر محفوظ قرار دے دینا چاہیے۔


 

 

 

شنیرا اکرم نے لکھا کہ ایسا لگتا ہے اسپتال میں ہر اس چیز سے جس سے آپ خوفزدہ ہوتے ہیں یہاں ہمارے ساحل پر بہا دی گئی ہے۔


 

انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ہم اس سب سے بہت زیادہ کے حقدار ہیں۔


 

شفقت حسین نامی ایک صارف نے شنیرا کی جانب سے یہ معاملہ اٹھانے پر کیا کہ" یہ آپ کے لیے خطرناک ہوگا لیکن ہم پاکستانی شہری ہیں جو پیدا ہی غیر فطری موت مرنے کے لیے ہوئے ہیں" ۔


 

اس نرالی منطق پر شنیرا نے صارف کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے لکھا کہ کیا بات کررہے ہیں؟ آپ کس ذہنیت کے مالک ہیں؟ آپ کی زندگی اتنی ہی اہم ہے جتنی اس دنیا پر بسنے والے دیگر انسانوں کی، یہ بات کبھی نہ بھولیں۔


 

شنیرا نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ بہت عرصے سے خاموش تھیں اور اب میڈیا کو بھی ضرورت ہے کہ یہ معاملہ اٹھائے اور یہ غیر محفوظ صورتحال دکھائے۔


 

ان ٹویٹس کے کچھ دیر بعد شنیرا نے سوال اٹھایا کہ ابھی تک ساحل سمندر کھلا کیوں ہے؟ یہ ایک دوسرے کو الزام دینے والی بات نہیں بلکہ وہ مسئلہ ہے جس پر ہمیں کچھ کرکے دکھانا ہے اور ساحل بند کروانا ہے۔


 

شنیرا نے مزید لکھا کہ میں اس پوزیشن میں نہیں آنا چاہتی تھی لیکن اب اور کوئی چارہ نہیں، لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں اور یہ میری اخلاقی ذمہ داری تھی، لوگوں کو اس کے بارے میں جاننے کی ضرورت تھی۔


 

دوسری جانب سندھ پولیس کی جانب سے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ساحل سمندر پر آنے والوں کی حفاظت کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔


 

سندھ پولیس کی جانب سے آفیشل ٹوئٹر پیج پر پیغام میں کہا گیا کہ پولیس نے ساحل کے متاثرہ علاقے کو بند کردیا ہے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں