ہوم   > فیشن ، لائف اسٹائل

ملکہ قلو پطرہ کے پرفیومز 2 ہزار سال بعد تیار

4 weeks ago

نیل کی ملکہ قلو پطرہ اور خوشبو کا ساتھ لازم و ملزوم سمجھا جاتا ہے۔ ملکہ جو پرفیومز استعمال کرتی تھیں ان سے کئی افسانوی باتیں منسوب ہیں۔ دلچسپ خبر یہ ہے کہ طویل ریسرچ کے بغیر ویسے ہی دو پرفیومز تیار کر لیے گئے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ ملکہ قلوپطرہ جو پرفیوم استعمال کرتی تھیں مارک انتھونی ملکہ کے جہازوں کے ساحل پر پہنچنے سے بہت پہلے قلوپطرہ کے پرفیوم کی خوشبو سونگھ لیا کرتے تھے۔

تصاویر اور قلو پطرہ کے بنائے گئے مجسموں سے یہ بات تو واضح ہے کہ قلوپطرہ کسی دکھتی تھیں لیکن اب یہ بھی جانا جا سکتا ہے کہ آخر وہ کیسی خوشبو استعمال کرتی تھیں جس کا اس قدر شہرہ تھا۔

ان پرفیومز کی تیاری کا سہرا سجا ہے یونیورسٹی آف ہوائی کے روبرٹ لٹمین اور جے سلورسٹین کے سر پر جو کئی سالوں سے قدیم دنیا کی خوشبوؤں پر تحقیق کر رہے ہیں اور اپنے کام کے دوران ان کی زیادہ توجہ قلوپطرہ کے پرفیوم پر مرکوز تھی۔

 پرفیوم کی تیاری کے سفر کا آغاز قدیم مصری شہر تھیموئس میں ہونے والی ٹیل ٹیمائی کھدائی کے پراجیکٹ سے ملنے والی دریافتوں سے ہوا تھا۔ ماہرین نے دو ہزار سال قبل کے پرفیومز کے فارمولے دریافت کرنے کے بعد انہیں دوبارہ تیار کروایا۔

دوبارہ تیار کیے جانے والے دونوں پرفیومز کوواشنگٹن ڈی سی کے نیشنل جیوگرافک میوزیم میں ’’کوئنز آف ایجپٹ‘‘ نامی نمائش میں رکھا گیا ہے جو 15 ستمبر 2019 تک جاری رہے گی۔

ملکہ قلوپطرہ کی پسندیدہ دو خوشبوؤں مندیشیئن اورمیٹوپیئن کے کلیدی اجزاء میں خوشبودار تیل اورمرنامی جزو بھی شامل تھا جو افریقہ اور ایشیا میں اُگنے والے مخصوص پھول دار درختوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ مندیشیئن خوشبو قدرے لطیف جبکہ میٹوپیئن مشکِ عنبر سے مشابہ لیکن بہت تیز اور ناک میں چبھنے والی ہے۔

یاد رہے کہ مصر سمیت دنیا کی بیشتر قدیم تہذیبوں میںخوشبوؤں کو شان و شوکت اورجاہ وحشم کے اظہار کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔

 
TOPICS:

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں