آج کا دن ہر اولاد کے دل میں بسنے والی ہستی کے نام ، “ماں” تجھے سلام

May 12, 2019

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ماؤں کا عالمی دن آج جوش و خروش سے منایا جارہا ہے، جس کا مقصد محبت کے خالص ترین رنگ لئے ماں کے مقدس رشتے کی عظمت و اہمیت کو اجاگر کرنا اور ماں کیلئے عقیدت، شکر گزاری اور محبت کے جذبات کو فروغ دینا ہے۔

وہ واحد ہستی ، جو ہر اولاد کے دل میں بستی ہے، جی ہاں.. وہ ہستی جس کے بنانے والے نے اس کے قدموں تلے جنت رکھی، جو دکھوں اور مصیبتوں کے سامنے ڈھال بن کر بچوں کو سکھ دیتی ہے، قدرت کا وہ انمول تحفہ ماں ہے۔

 

ماؤں کا دن منانے کا آغاز امریکی خاتون اینا ہاروس کی کوشش کا نتیجہ ہے۔ اینا ہاروس چاہتی تھیں کہ اس دن کو ایک مقدس دن کے طور پر سمجھا اور منایا جائے۔ ان کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ 8 مئی 1914 کو امریکا کے صدر ووڈرو ولسن نے مئی کے دوسرے اتوار کو سرکاری طورپر ماؤں کا دن قرار دیا، جس کے بعد سے اب یہ دن عالمی سطح پر منایا جاتا ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ مئی کا دوسرا اتوار بہت سے ملکوں میں ماؤں کے دن کے طور پر منایا جارہا ہے۔ یہ دن وہ موقع ہوتا ہے جب لوگ اپنی ماؤں کے لیے اپنی محبت اور احترام کا اظہار کرتے ہیں۔ اس دن لوگ اپنی ماؤں کو یہ احساس دلا سکتے ہیں کہ وہ ان کے لیے ہمیشہ اہم تھیں اور رہیں گی اور یہ کہ وہ ان سے ہمیشہ محبت کرتے رہیں گے۔ ماؤں کے اس عالمی دن کے موقع پر کوئی ماں کو تحفہ دے کر تو کوئی ماں کو اپنے ہاتھوں سے کھانا بنا کر اس دن کی اہمیت کو محسوس کرتا ہے۔ بے شک محبت کا خالص ترین رنگ ماں کے مقدس رشتے سے بندھا ہے۔

گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ دیگر اہم دنوں کی طرح پاکستان میں بھی اِس دِن کی اہمیت اب عام ہونے لگی ہے۔ اس دن بچوں کی جانب سے  خصوصی کارڈز، پھولوں کے گلدستے اور دیگر تحائف ماؤں کو دیئے جاتے ہیں، تاہم ماں سے اظہار محبت کا عالمی دن اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ ہم اپنی ماں کی قدر کریں، اس کی عزت کریں، کیونکہ انسان کو کامیابی اور سکون ماں کی دعاوں، محبت اور اس کی مسکراہٹ کی بدولت ہی ملتا ہے۔

 

اگر آج آپ کی والدہ حیات ہیں اور آپ کے ساتھ ہیں تو ان لمحات کی قدر کریں اور اپنی ماں کی عزت کریں، کیوں کہ ماں باپ ایک ایسے سائے کی مانند ہیں جس کی ٹھنڈک کا احساس ہمیں اْس وقت تک نہیں ہوتا جب تک یہ سایہ سر پر موجود رہتا ہے، جونہی یہ سایہ اْٹھ جاتا ہے تب ہمیں اسے کھونے کا احساس ہوتا ہے۔