جادو اپنے کپڑے واپس مانگ رہا ہے

February 10, 2019

بالی ووڈ اداکار رنویر سنگھ نے ’’رام لیلا‘‘ اور’’ باجی راؤ مستانی ‘‘ جیسی فلموں میں اپنی شاندار اداکاری سے منفرد پہچان بنائی جس کے بعد اداکارہ دپیکا پڈو کون سے شادی سونے پہ سہاگا ثابت ہوئی۔ ان دنوں رنویر سنگھ ، عالیہ بھٹ کے ساتھ اپنی آنے والی فلم ’’ گلی بوائے ‘‘ کی تشہیر میں مصروف ہیں لیکن نہ جانے اس تشہیری مہم اور دیگر تقریبات کے لیے ان کی وارڈ روب کے معاملات کون دیکھ رہا ہے۔

چھ جولائی 1985ء کو ممبئی میں آنکھ کھولنے والے رنویر سنگھ عمرعزیز کی 33 بہاریں دیکھ چکے ہیں لیکن لباس دیکھ کر لگتا ہے کہ رنویر ’’سویٹ 16 ‘‘ سے آگے نہیں بڑھنا چاہتے۔ چمک دمک اپنی جگہ لیکن ان کے اپنائے گئے بعض اسٹائل تو خود ان کے مداح بھی سمجھنے سے قاصر ہیں۔

سوشل میڈیا کا دور ہے تو ہرقسم کی تشہیر اور خیالات کے اظہارکیلئے ٹوئٹر اور فیس بک کا سہارا لیا جاتا ہے، رنویر بھی یہی کر رہے ہیں لیکن دیکھنے والوں کے ذہن میں یہی سوال گوج رہا ہے کہ ’’کہاں سے لاتے ہو ایسے کپڑے؟ ‘‘۔ رنبیر کی تصاویر پر جوابی تبصروں کے علاوہ بنائی جانے والی میمز لاجواب ہیں جو دیگر صارفین کیلئے خوب تفریح کا سامان بن رہی ہیں۔ چند ایک پر نظر ڈالتے ہیں۔

یہاں رنویر تو ’’درندہ موڈ ‘‘ میں ہیں لیکن کسی نے یاد دلا دیا کہ فلمی کیریکٹر جادو اپنے کپڑے واپس مانگ رہا ہے۔

 

 

 

مداحوں نے رنویر کو خبردار کیا کہ اب بیڈ شیٹ سے بھی کپڑے سلواؤ گے تو دیپکا بھابھی واشنگ مشین میں ڈال دیں گی۔

متوجہ ہوں، ایسے کپڑے تو چوپائے بھی پہنتے ہیں۔

اس لباس کو دیکھ کر تو تشویش کی لہر دوڑ گئی کہ رنویر نے سوچا بھی کیسے کہ ان کپڑوں میں وہ ’’کول‘‘ لگ سکتے ہیں؟۔ یہی نہیں کسی نےپوسٹ مین تو کسی نے بھکاری کا لقب بھی دے ڈالا۔

 

 

اس جوکر نما ڈریس پر یہ سوال بجا ہے کہ بس اتنا بتا دو، ایسے کپڑے کون سیتا ہے؟

 

دپیکا کی ایک سچی مداح کو اس بات کی فکر لگ گئی ہے کہ کیا سوچ کر انہوں نے یہ رنویر سے شادی کی؟۔

 

 

انہیں فکر ہے کہ جو کپڑے پہننے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ، رنویر وہ سب فیشن میں لا رہے ہیں۔

 

 

یہاں شاید دپیکا کو پرسکون حالت میں دکھایا گیا ہے کہ بالآخر رنویر نے کچھ تو ڈھںگ کے کپڑے پہنے۔

 

 

ساتویں آسمان پر چڑھانے والے مداح اتارنے میں ایک منٹ بھی نہیں لگاتے، انہوں نے تو بھائی بھائی کہتے ہوئے ’’بندر‘‘ ہی کہہ ڈالا۔

 

 

ایک صارف نے تو جانوروں کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی تنظیم کوخبردار کرڈالا۔

 

 

اس ٹویٹ کو تو کسی کیپشن کی ضرورت بھی نہیں۔

 

 

پکچر ابھی باقی ہے، اس ڈریس کو دیکھتے ہی رنویر کی جڑواں بہن دریافت ہوگئیں جو یہ لباس کسی کو دینے والی تھیں لیکن اب ؟ ہرگز نہیں دیں گی۔

 

لگتا ہے فلم ’’بینڈ باجا بارات‘‘ سے فلمی کیرئیر کا آغاز کرنے والے رنویر سنگھ اپنا بینڈ باجا بجوانے کے بعد بھی شائق ہیں کہ ابھی وقت ہے، ذرا چمک دمک دکھا لی جائے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ دپیکا جو اسٹائل سینس کے حوالے سے اپنی ایک انفرادیت رکھتی ہیں، شوہرنامدار کے ایسے کپڑوں پراتنی تنقید کے باوجود بھی ان کے پہننے اوڑھنے کا خیال کیوں نہیں رکھتیں۔