Thursday, October 1, 2020  | 12 Safar, 1442
ہوم   > Latest

سندھ میں الغوزہ بجانے والا آخری کسان

SAMAA | - Posted: Jan 31, 2019 | Last Updated: 2 years ago
Posted: Jan 31, 2019 | Last Updated: 2 years ago

سندھ کے ضلع سانگھڑ میں جھول ٹاؤن کے مضافات میں ایک چھوٹا سا گاؤں آباد ہے جسے ’اعجاز خان تالپور‘ کہا جاتا ہے۔ اسی گاؤں میں ایک 55 سالہ کسان رہتا ہے جس کا نام صدام بھیل ہے۔ صدام بھیل اس وقت وہ واحد آدمی ہے جو سندھ کا روایتی موسیقی آلہ ’الغوزہ‘ بناتا بھی...

سندھ کے ضلع سانگھڑ میں جھول ٹاؤن کے مضافات میں ایک چھوٹا سا گاؤں آباد ہے جسے ’اعجاز خان تالپور‘ کہا جاتا ہے۔ اسی گاؤں میں ایک 55 سالہ کسان رہتا ہے جس کا نام صدام بھیل ہے۔ صدام بھیل اس وقت وہ واحد آدمی ہے جو سندھ کا روایتی موسیقی آلہ ’الغوزہ‘ بناتا بھی ہے اور بجاتا بھی ہے۔

صدام بھیل بچپن میں بھیڑ بکریاں چراتا رہا ہے۔ سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے والد لونیو بھیل نے اس وقت ہی مجھے ’بین‘ بنانا سکھایا تھا۔ صدام کے والد لونیو بھیل خود بھی الغوزہ بجانے کے ماہر تھے۔

الغوزہ لکڑی سے بنا سندھ کا ایک روایتی موسیقی کا آلہ ہے جس میں پھونک مارنے سے سُر جنم لیتی ہے۔ مقامی سطح پر الغوزہ کو ’بین‘ بھی کہا جاتا ہے۔ وہی بین جو بھینس کے آگے بجانا فضول سمجھا جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ سندھ میں بین بجانے کی روایت کلہوڑا راج کے زمانے چلی آرہی ہے۔ کلہوڑا راج 1701 سے 1783 کے عرصے پر محیط رہا جس نے سندھ سمیت پنجاب کے بعض علاقوں پر حکمرانی کی۔

الغوزہ یا بین کیکر اور کیر کی لکڑی سے بنتا ہے۔ صدام بھیل کا کہنا ہے یہ لکڑی اب مشکل سے ملتی ہے۔ اس کو ڈھونڈنے کیلئے پہاڑی یا صحرائی علاقوں میں جانا پڑتا ہے۔ جو لوگ مجھ سے الغوزہ بنوانا چاہتے ہیں وہ لکڑی کا انتظام خود ہی کرکے دیتے ہیں۔

ایک الغوزہ بنانے میں صدام کو تین دن لگ جاتے ہیں۔ وہ لکڑی کے ایک گول ٹکڑے پر کام شروع کرتا ہے۔ منہ سے لگایا جانے والا حصہ جب چاقو سے تراش خراش کے بعد تیار ہوجاتا ہے تو اس کو تاروں کے ذریعے پائپ نما لکڑی میں نصب کیا جاتا ہے۔ اس حصے میں پھونک ماری جاتی ہے اور اسے ’زبان‘ کہا جاتا ہے۔

اس پائپ نما لکڑی پر گرم لوہے کے ذریعے سوراخ کیے جاتے ہیں۔ جن پر بجاتے وقت انگلیاں رکھی جاتی ہیں اور آخر میں اس کو کڑہائی شدہ کپڑے کے ساتھ سجایا جاتا ہے۔ صدام کا کہنا ہے کہ ’زبان‘ کے بغیر الغوزہ بج نہیں سکتا جبکہ سر اس وقت تخلیق ہوتا ہے جب الغوزہ کے اندر تاریں نصب کی جائیں۔

صدام بھیل ایک الغوزہ بنانے کے صرف 300 روپے لیتے ہیں۔ لوگ ان سے الغوزہ خرید کر دبئی اور بھارت لیکر جاتے ہیں۔ کوئی اس کو اعزاز سمجھ کر اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے تو کوئی اس کو بجاتا ہے۔

الغوزہ کو کیسے زندہ رکھا جائے، اس بات کو لیکر صدام پریشان ہے۔ کہتے ہیں کہ میرے 4 بیٹے ہیں، ان میں سے کوئی بھی الغوزہ سیکھنے میں دلچسپی نہیں لیتا۔ میرے اب صرف دو ہی شاگرد ہیں جن میں ایک الغوزہ بناتا اور دوسرا بجاتا ہے۔

سندھ کی حالیہ تاریخ میں عبدالحکیم اور خمیسو خان جمالی الغوزہ کے معروف فنکار تھے تاہم وہ دونوں دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں۔ صدام کا کہنا ہے کہ اگر اس فن کو زندھ رکھنا ہے تو حکومت کو اس کی سرپرستی کرنا ہوگی۔ اگر کسی نے توجہ نہیں دی تو الغوزہ بہت جلد مکمل طور پر ختم ہوجائے گا۔​

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube