Thursday, October 29, 2020  | 11 Rabiulawal, 1442
ہوم   > فیشن ، لائف اسٹائل

مجسمہ سازی کافن ترقی کے زینے چڑھنے لگا

SAMAA | - Posted: Jan 25, 2019 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Jan 25, 2019 | Last Updated: 2 years ago

جانوروں کے مجسمے اور ماڈلز صدیوں سے آرائشی اشیا کے طور پر استعمال کیے جارہے ہیں۔ مٹی اور گارے کا دور پرانہ ہوگیا اب ان مجسموں کو پلاسٹر آف پيرس اور فائبر گلاس سے بنايا جاتا ہے، خوبصورت گھوڑے، گائے اور عقاب کے مجسمے ايسے کہ ديکھنے والے ديکھتے رہ جائيں ۔ ملتان کے مجسمہ...

جانوروں کے مجسمے اور ماڈلز صدیوں سے آرائشی اشیا کے طور پر استعمال کیے جارہے ہیں۔

مٹی اور گارے کا دور پرانہ ہوگیا اب ان مجسموں کو پلاسٹر آف پيرس اور فائبر گلاس سے بنايا جاتا ہے، خوبصورت گھوڑے، گائے اور عقاب کے مجسمے ايسے کہ ديکھنے والے ديکھتے رہ جائيں ۔

ملتان کے مجسمہ ساز نعمان کہتے ہيں محنت اور مہارت ہو تو کوئي بھي شاہکار تيارکرنا مشکل نہيں، یہ پہلے مٹی سے بنتے تھے جیسے جدت آئی ہے ہم نے فائبر میں کنورٹ کر دئیے ہیں، یہ نا ٹوٹتے ہیں نا خراب ہوتے ہیں لائٹ ویٹ ہیں۔

ببر شير ہو يا ہو ڈائناسار، زرافہ ہو يا ہو قومي جانور مارخور سب صرف ايک ماہ کے انتظار پر تيار ہوگا۔

مجسمے تيس ہزار سے دولاکھ تک ميں فروخت کيے جاتے ہيں، مجسمہ ساز کہتے ہيں کہ شہر ميں آرٹ ميوزيم بنايا جائے تو اس فن کي حوصلہ افزائی ہوسکتی ہے۔

شوق ہو تو ایسا، فائبر گلاس سے بنے یہ خوبصورت جانور نعمان کا شوق اور ذریعہ معاش دونوں ہیں ۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube