Tuesday, January 18, 2022  | 14 Jamadilakhir, 1443

نوشہرہ کی ڈوبتی مسجد

SAMAA | - Posted: Jan 12, 2019 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Jan 12, 2019 | Last Updated: 3 years ago

ضلع نوشہرہ کے گاوں اکبر پورا میں  صوفی بزرگ اخوند پنجو بابا کے نام سے ایک مسجد موجود ہے جسے ڈوبتی ہوئی مسجد بھی کہا جاتا ہے۔

یہ مسجد آج سے 405 سال قبل مغل بادشاہ اکبر کے زمانے میں بنائی گئی تھی،اور مقامی افراد کے مطابق  یہ تب سے اب تک 4 فٹ تک زمین میں دھنس چکی ہے، مقامی افراد کے مطابق اس کا ہال ہرسال ایک سینٹی میٹر کے قریب دھنس جاتا ہے جو گندم کے ایک دانےکے برابر ہے تاہم مسجد اب بھی اچھی حالت میں ہے اور عمارت میں اب تک کہیں دراڑیں نظر نہیں آتی اور نہ ہی کسی قسم کے توڑ پھوڑ کے آثار نظر آتے ہیں۔

لوگ آج بھی دن میں  پانچ بار یہاں نماز پڑھنے آتے ہیں،مشہور ہے کہ ایک بار صوفی بزرگ سے ان کے  شاگردوں میں سے کسی نے پوچھا تھا کہ قیامت کب آئے گی جس پر بزرگ نے جواب دیا تھا کہ جب یہ مسجد پوری طرح زمین میں دھنس جائے گی۔

اسی طرح ایک اور واقعہ مشہور ہے کہ جب اکبر صوفی بزرگ سے ملنے کے لیے آئے تو وہاں بادشاہ،ان کے ساتھ آئے لوگوں اور گھوڑوں کے لیے پانی دستیاب نہ تھا مگر جب بزرگ نے اللہ کے حضور دعا کی تو وہاں سے یکایک چشمہ پھوٹ پڑا جو آج تک مسجد میں موجود ہے،اور تبھی مغل بادشاہ نے وہاں مسجد تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube