روایات کا باغی ۔۔ احمد بلوچ

April 19, 2018

رپورٹ: ظہیرظرف

 

سنگلاخ زمین، لق ودق صحرا،نیلگوں سمندر،پیاس ،افلاس اور بد امنی ۔۔۔۔۔۔۔ ان سب چیزوں کے مجموعے کا نام ہے بلوچستان ۔۔۔۔۔ جہاں کے باسیوں کی ہمت، حوصلے،امانت داری، مہمان نوازی اور بہادری کے قصے توعام ہیں مگراسی بلوچستان کی تصویر کا ایک اور رُخ یہاں کے باسیوں کی آرٹ سے محبت بھی ہے۔کبھی یہ ساحل پرسینڈ آرٹ کے ذریعے نت نئے چہرے بناتے ہیں، کینوس پررنگوں سے نئی دنیا پینٹ کرتے ہیں، سروں کے سات رنگ فضا میں خوشبوکی طرح بکھیردیتے ہیں توکبھی پاؤں میں گنگھروں باندھے احمد بلوچ جیسے نوجوان کی صورت روایات سے بغاوت کرتے ہیں۔

احمد بلوچ۔۔۔۔ سرزمین بلوچستان کا وہ باسی جو اپنے من کی سنتے ہوئے زنجیروں کو توڑ کراپنے شوق کی تسکین کرتا ہے۔ سما ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے نوجوان کتھک ڈانسر نے بتایا کہ ان کا تعلق بلوچستان کے سب سے پسماندہ علاقے آواران سے ہے۔ وہی آواران جہاں 2013 کے زلزلے نے سیکڑوں گھروں اور دلوں کو مسمار کر دیا تھا۔ابتدائی تعلیم کے بعد احمد نے یخ بستہ کوئٹہ کا رُخ کیا اور مہران یونیورسٹی سے فائن آرٹس کی 4 سالہ ڈگری حاصل کی۔

ڈانس اور وہ بھی کتھک جیسا مشکل ترین ۔۔ اعضا کی شاعری کی اس صنف کی طرف کیسے مائل ہوئے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئےاحمد بلوچ گویا ہوئے کہ ’’شروع ہی سے مجھے گھنگروؤں کی جھنکار متاثر کرتی تھی۔ میرے لیے اس میں ایک عجیب سی کشش تھی۔۔۔ پھریوٹیوب کے ذریعے جب برجُو مہاراج جیسے استادوں کو گھنگرو پہن کر کتھک کرتے دیکھا تو شوق پیدا ہوا کہ کیوں نہ اس فن کو سیکھا جائے‘‘۔

 

اس فن کو سیکھنے کیلئے کسی استاد کی سرپرستی سے متعلق سوال کے جواب میں احمد نے بتایا کہ پاکستان میں اس فن کے استاد ناپید ہیں۔ جن سے بھی بات ہوئی ،تسلی تو ہوجاتی مگر تشفی نہیں ہوتی۔ جتنا کچھ سیکھا وہ یوٹیوب سے برجُو مہاراج جیسے گرو سے ہی سیکھا اور ہمیشہ سے ان کی تقلید کررہا ہوں۔

پاکستان میں رقص کی اس صنف کے مستقبل کےسوال پراحمد بلوچ بولے کہ ’’میں یہ سوچ کرنہیں آیا کہ اس صنف کا مسقبل ہے یا نہیں، میں نے تواس کے ذریعے اپنی کھوج لگائی اورخود کو ڈھونڈ نکالا ہے۔ کبھی بھی پیسوں کی خاطر  پرفارم نہیں کیا اور نہ ہی کروں گا۔ ڈانس میری طاقت ہے جس سے مجھے خوشی ملتی ہے‘‘۔

کھتک ڈانس اوروہ قدامت پرست بلوچ معاشرے میں؟ تنقید کا سامنا تو کرنا پڑتا ہوگا کے جواب میں باہمت احمد کا لہجہ مزید مضبوط ہوگیا۔ کہنے لگے کہ ’’میں نے لوگوں کی کبھی پرواہ نہیں کی اور نہ ہی مجھے فرق پڑتا ہے کہ لوگ کیا سوچتے ہیں۔ بحثیت معاشرہ ہم جس گراوٹ کا شکار ہیں اس سے سبھی واقف ہیں مگر میں معاشرے کو جوابدہ نہیں، نہ ہی میرے پاس جواب دینے کا وقت ہے۔ میرے لیے سب سے اہم میری فیملی ہے جو میرے ساتھ کھڑی ہے اوریہی کافی ہے‘‘۔

 

 

مستقبل کے ارادے بتاتے ہوئے احمد نے ایک سرد آہ بھری اور کہا کہ ’’بس اس گھٹن زدہ ماحول سے نکلنا چاہتا ہوں ‘‘ ۔ کہاں ؟ ۔۔۔۔۔ ’’ وہاں جہاں میری اڑان مجھے لے جائے ،جہاں میں کُھل کے سانس لے سکوں۔ پاکستان میں بہت حبس ہے جس میں جینا میرے لیے مشکل ہے۔ مجھے سانس لینا ہے اور میری سانسیں ڈانس کے ردھم پہ چلتی ہیں ، میں اُڑنا چاہتا ہوں اور اس کے لیے مجھے دو پنکھ ہی چاہئیں۔۔۔ بس دو پنکھ ‘‘۔