Sunday, August 9, 2020  | 18 Zilhaj, 1441
ہوم   > Latest

کوہستان ویڈیو کیس، مقتول افضل کوہستانی کی بیوہ لاپتہ

SAMAA | - Posted: May 26, 2019 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: May 26, 2019 | Last Updated: 1 year ago

کوہستان وڈیو کیس ميں ايک نيا موڑ سامنے آگيا۔ معاملے پرانصاف مانگتے ہوئے قتل ہوجانے والے افضل کوہستانی کی بیوہ لاپتہ ہوگئی جبکہ افضل کے بھائی گل نذیر پر غیرت کے نام پر قريبی عزیز کو قتل کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔

نوجوان کے قتل کا مقدمہ ضلع الائی کے تھانہ بنہ ميں درج کیا گیا ہے، پولیس کے مطابق ملزم گل نذير اور دو ساتھي فرار ہوگئے۔

غیرت کے نام پر قتل کیخلاف درج کی جانے والی ایف آئی آر کے مطابق گل نذیر نے مقتول محمد وقار کو گاڑی سے نیچے اتارکرفائرنگ کر کے قتل کیا۔ گل نذیرکو شبہ تھا کہ مقتول کے اس کی بھابھی یعنی افضل کوہستانی کی بیوہ کے ساتھ تعلقات ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق افضل کوہستانی کے بھائی بن یاسرکا موقف ہے کہ ان کا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یاسر کے مطابق اس سے پہلے بھی ہمیں پھنسانے کے لیے جھوٹے مقدمات درج کروائے گئے تھے۔ ہمارے خلاف سازشیں ہورہی ہیں اور یہ بہت بڑی سازش ہے۔ ایف آئی آر میں وجہ عداوت غیرت لکھوائی گئی ہے تاکہ ہمیں حاصل اخلاقی حمایت کو ختم کیا جاسکے۔

دوسری جانب افضل کوہستانی کی بیوہ کی والدہ نے تھانہ کينٹ ميں بيٹی کی گمشدگی کی درخواست دے دی ہے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق وہ ماہ رمضان سے قبل ایبٹ آباد میں بچوں کے ہمراہ میکے آئی تھی مگر گذشتہ چند روز سے لاپتہ ہے۔

افضل کوہستانی کے بھائی بن یاسر کا کہنا ہے کہ ہماری بھابھی رمضان سے قبل ایبٹ آباد اپنے میکے گئی تھی ، اب ہمیں ان کے حوالے سے کچھ علم نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ یاسر نے واقعے کی صاف و شفاف تحقیقات کروا کر انصاف دینے کا مطالبہ کیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق قتل ہونے والے محمد وقار کے بھائی محمد سلیمان کا کہنا ہے کہ اس بات کی توقع نہیں تھی کہ بغیر کسی ثبوت کے افضل کوہستانی کا بھائی اتنا بڑا قدم اٹھا لے گا، جس کی زندگی کو محفوظ بنانے کے لیےافضل کوہستانی سمیت ہم سب اور مزید کئی لوگوں نے بڑی قربانیاں دی تھیں۔

محمد سلیمان کے مطابق اب افضل کوہستانی کی بیوہ حرا بی بی کی زندگی بھی خطرے میں ہے کیونکہ کوہستان کے رواج کے مطابق غیرت کے نام پر لڑکے کو قتل کرنے کے بعد لڑکی کا قتل فرض ہو جاتا ہے۔ ہماری اطلاعات کے مطابق گل نذیر حرا بی بی کے پیچھے ایبٹ آباد روانہ ہوچکا ہے۔

یاد رہے کہ کوہستان ویڈیو کیس میں لڑکیوں کے قتل کا مقدمہ سپریم کورٹ کے حکم پر سال 2012 میں درج کیا گیا تھا۔ افضل کوہستانی نے شادی کی تقریب میں لڑکوں کے رقص پر تالیاں بجانے کی ویڈیو پرقتل کی جانے والی لڑکیوں کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی،اس نے بتایا تھا کہ تقریب کے دوران موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیو بعد میں مقامی افراد کے ہاتھ لگ گئی اور وہاں سے علاقے کے دیگر لوگوں تک پھیل گئی، جس پرمقامی جرگے نے ویڈیو میں نظر آنے والی پانچوں لڑکیوں کو قتل کرنے کا حکم جاری کیا۔

افضل کے تین بھائیوں کو بھی اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کےبعد جرگے کے حکم پر قتل کردیا گیا تھا۔ جبکہ چند ہفتے قبل افضل کوہستانی کو بھی ایبٹ آباد میں فائرنگ کر کے ابدی نیند سلا دیا گیا تھا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube