پی ٹی آئی رہنما علیم خان کی ضمانت منظور ہوگئی

May 15, 2019

آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کی ضمانت کی درخواست منظور کرلی گئی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے علیم خان کی درخواست ضمانت پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔ دوران سمات جسٹس علی باقر نے استفسار کیا ملزم کس ریمانڈ پر ہے؟۔ نیب کے وکیل نے کہا ملزم جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں قید ہے۔

 

اس موقع پر نیب کی جانب سے علیم خان کے اخراجات اور ذرائع آمدن کی دستاویزات پیش کی گئیں۔ نیب حکام کو مخاطب کرتے ہوئے جسٹس علی باقر نے پوچھا کہ ان دستاویزات پر یہ کون سے ذرائع ہیں، اس پر کوئی تاریخ نہیں ہے۔ تفتیشی افسر نے عدالت کے روبرو بتایا کہ ابھی حتمی رپورٹ بنانی ہے اور چیئرمین نیب کو بھیجی جائے گی۔ جسٹس علی باقر نے علیم خان کے وکیل سے پوچھا آپ اس پر جواب دینا چاہیں گے؟۔

 

علیم خان کے وکیل نے کہا میں اس کا جواب نہیں دوں گا، کیونکہ اس پر نیب کے افسر کے کوئی دستخط موجود نہیں ہیں۔ نیب کی علیم خان کیخلاف پیش کی گئی رپورٹ غیر مصدقہ ہے۔ 4 سال کے عرصے میں زمین خریدی گئی۔ اگر نیب نے یہ ثابت کرنا ہے کہ زمین کی قیمت زیادہ تھی تو اس کے لئے ثبوت پیش کرنا ہوں گے۔ گواہوں کے بیانات پر تو کیس نہیں بنتا۔ 18 سال پرانا کیس ہے اور ابھی تک ریفرنس نہیں فائل ہوا۔ عبدالعلیم خان کبھی مفرور نہیں رہے۔

 

جسٹس علی باقر نے نیب کے وکیل سے پوچھا آپ کی تفتیش کی کیا پوزیشن ہے؟ نیب کے وکیل نے کہا تفتیش جاری ہے، ہم وقت نہیں بتا سکتے کہ کب تفتیش مکمل ہوگی۔ اس موقع پر عدالت نے علیم خان کی جانب سے دائر درخواست منظور کرتے ہوئے دس، دس لاکھ روپے کے دو مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی۔

 

واضح رہے کہ علیم خان کو 6 فروری کو آمدن سے زائد اثاثے اور آف شور کمپنیاں بنانے کے الزام میں نیب نے گرفتار کیا تھا۔ نیب کی جانب سے گرفتاری کے بعد علیم خان نے صوبائی وزارت کے عہدے سے اپنا استعفیٰ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو بھجوا دیا تھا۔ گرفتاری کے بعد میڈیا سے مختصر گفت گو میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کا کہنا تھا کہ مقدمات کا سامنا کریں گے، آئین اور عدالتوں پر یقین رکھتے ہیں۔