Thursday, October 1, 2020  | 12 Safar, 1442
ہوم   > Latest

شاہ زیب قتل کیس،شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل

SAMAA | - Posted: May 13, 2019 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: May 13, 2019 | Last Updated: 1 year ago

سندھ ہائی کورٹ نے شاہ زیب قتل کیس کے مرکزی مجرم شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس نظر اکبر پر مشتمل سندھ ہائی کورٹ کے خصوصی بینچ نے شاہ زیب قتل کیس میں ملزمان شاہ رخ جتوئی، سراج تالپور...

سندھ ہائی کورٹ نے شاہ زیب قتل کیس کے مرکزی مجرم شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس نظر اکبر پر مشتمل سندھ ہائی کورٹ کے خصوصی بینچ نے شاہ زیب قتل کیس میں ملزمان شاہ رخ جتوئی، سراج تالپور اور دیگر کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کی۔

اس موقع پر مدعی کے وکیل محمود عالم رضوی ایڈووکيٹ نے عدالت کے روبرو کہا کہ مقتول کے والد اور مقدمہ کے مدعی کا انتقال ہوچکا ہے، ان کے پسماندگان میں بیوہ اور دو بیٹیاں شامل ہیں، تینوں خواتین بیرونِ ملک ہیں اور عدالت نہیں آنا چاہتیں، رجسٹرار سمیت کوئی بھی عدالتی نمائندہ انٹرنیٹ پر اسکائپ کے ذریعے اس بات کی تصدیق کرسکتا ہے، برطانیہ میں بھی پاکستانی میڈیا موجود ہے لیکن خواتین اصل میں سوشل میڈیا سے خوفزدہ ہیں۔

 

عدالت نے شاہ رخ جتوئی اور دیگر کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزمان شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی اپیلیں جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا، جب کہ مرتضیٰ لاشاری اور سجاد تالپور کی عمر قید برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔ قبل ازیں عدالت نے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر گیارہ مارچ کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ کيس کے مدعي شاہ زيب کے والد اورنگزيب خان کا انتقال ہوچکا ہے۔

عدالتی حکم نامہ

شاہ زیب قتل کیس میں عدالت کا اپنے فیصلے میں کہنا تھا کہ کےاہل خانہ نے مجرمان کو معاف کردیا تھا، مروجہ اصولوں کے مطابق ورثاء کی معافی پر قتل عمد ( نا حق قتل کرنا) قابل معافی ہے، مقدمہ میں اے ٹي سي کی دفعات بھی شامل ہیں جو ناقابل معافی ہیں، مجرمان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

مقدمہ چیلنج کرنے کا فیصلہ

کیس کے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفت گو میں ملزمان کے وکلا کا کہنا تھا کہ فيصلہ چيلنج کیا جائے گا، ہم اس فیصلے کو سپريم کورٹ ميں چيلنج کریں گے۔ عمران جتوئی کا مزید کہنا تھا کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے سے مطمئن نہیں، ذاتی لڑائی میں دہشت گردی دفعات شامل نہیں کی جاتیں۔

پس منظر

واضح رہے کہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کو سزائے موت سنائی تھی۔ دسمبر 2012 کو معمولی تنازع پر شاہ رخ جتوئی نے ساتھیوں کے ہمراہ شاہ زیب کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔ اس سے قبل اس وقت کے چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری نے معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔ اس کیس میں دلچسپ اتار چڑھاؤ آئے اور ملزمان اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے مقدمے پر اثر انداز ہوتے رہے۔

 

سال 2013 میں 07 جون کو  انسداد دہشت گردی عدالت نے ملزمان کو سزائے موت سنائی تھی، جس کے بعد 28 نومبر 2017 سندھ ہائی کورٹ نے مقدمہ سے دہشت گردی کی دفعات ختم کردی تھیں اور سندھ ہائی کورٹ نے  مقدمہ سیشن عدالت میں چلانے کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد 24 دسمبر 2017 کو سیشن عدالت نے ملزمان کی ضمانت منظور کرلی، تاہم بعد ازاں یکم فروری 2018 سپریم کورٹ نے سندھ ہائی  کورٹ نے شاہ رخ جتوئی کو بری کرنے کا فیصلہ کاالعدم قرار دیا تھا، جس کے بعد شاہ رخ جتوئی اور دیگر کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا تھا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube