اورماڑہ میں 14 افراد کو بس سے اتار کر قتل کر دیا گیا

April 18, 2019

بلوچستان کے علاقے اورماڑہ میں نامعلوم مسلح افراد نے 14 افراد کو بس سے اتار کر فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔

لیویز حکام کے مطابق واقعہ مکران کوسٹل ہائی وے پر بزی پاس کے مقام پر پیش آیا، جہاں تقریبا 20 مسلح افراد نے کراچی اور گوادر کے درمیان چلائی جانے والی 5 مسافر بسوں کو روکا اور شناخت کے بعد 14 افراد کو قتل کر دیا، جبکہ دو مسافروں نے بھاگ کر جان بچائی۔

 انسپکٹر جنرل بلوچستان پولیس محسن حسن بٹ کے مطابق کیموفلیگ یونیفارم پہنے 15 سے 20 مسلح افراد نے 6 بسوں کو روکا اور گولیاں مار کر 14 افراد کو قتل کر دیا۔ ترجمان پاک بحریہ کے مطابق مقتولین میں سے ایک کا تعلق نیوی سے ہے۔

کوئٹہ میں ایک پولیس افسر نے بتایا کہ مسلح افراد نے 5 سے 6 بسوں کو روکا، جس میں کراچی سے گوادر کے درمیان چلنے والی ایک بس سے 16 مسافروں کو شناخت کے بعد اتار لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے جس میں مسافروں کو شناخت کے بعد قتل کیا گیا۔

پولیس افسر کے مطابق دو مسافر اپنی جان بچاتے ہوئے لیویز کی چیک پوسٹ پر پہنچے، جنہیں بعد میں طبی امداد کےلیے اورماڑہ اسپتال منقتل کیا گیا۔

واقعہ کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے معاملے کا جائزہ لینے کےلیے جائے وقوعہ پر پہنچے۔ قتل ہونے والے افراد کی لاشیں نور بخش ہاسٹل سے برآمد کرکے برمانگا اسپتال منتقل کی گئیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ قتل ہونے والے افراد کی شناخت جلد کر لی جائے گی، جبکہ تاحال کسی گروپ نے واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

اورماڑہ سے بزی پاس کا فاصلہ تقریبا 75 کلومیٹر ہے جو کہ ہنگول نیشنل پارک کے قریب واقع ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرےمیں لایا جائے اور دہشتگرد واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔ وزیراعظم نے واقعہ کی رپورٹ بھی طلب کرلی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا واقعہ پر کہنا تھا کہ دہشت گردی کا واقعہ ملک کو بدنام کرنے اور بلوچستان کی ترقی کو روکنے کی گھناؤنی سازش ہے، بزدل دہشت گردوں نے بے گناہ نہتے مسافروں کو قتل کرکے بربریت کی انتہا کی۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ امن کے دشمن اپنے بیرونی آقاؤں کے اشارے پر اپنے ہی لوگوں کا خون بہا رہے ہیں، بلوچستان کے عوام بیرونی عناصر کے ایجنڈہ پر عمل پیرا دہشت گردوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

جام کمال نے کہا کہ ترقی اور امن کا سفر ہر صورت جاری رہے گا، صوبے کے عوام کی تائید و حمایت سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا، جبکہ دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عمل جاری رہے گا۔

وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء لانگو کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے، ملزمان کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔