ہوم   > Latest

شاہراہ فیصل پر احتجاج، شہر جانے کیلئے یہ روٹ استعمال کریں

6 months ago

سندھی قوم پرست جماعت کے کارکن کے قتل کے خلاف احتجاج کے باعث شاہراہ فیصل پر ٹریفک معطل ہوگئی اور پولیس نے شہریوں کو متبادل روٹ استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

گزشتہ دنوں کراچی کے علاقہ بھینس کالونی میں مقامی سیاست دان رحیم شاہ نے فائرنگ کرکے سندھی قوم پرست جماعت کے کارکن ارشاد رنجھانی کو قتل کیا تھا جس کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

اس سلسلے میں پیر کو مظاہرین نے شاہراہ فیصل پر عوامی مرکز کے قریب احتجاجی مظاہرہ کیا جس کے باعث ائیرپورٹ سے شہر کی جانب آنے والی ٹریک پر ٹریفک معطل ہوگئی ہے۔

ٹریف پولیس کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ایئرپورٹ سے شہر کی جانب آنے کیلئے ڈرگ روڈ سے راشد منہاس روڈ کا راستہ اختیار کریں اور کارساز پل سے اسٹیڈیم کی جانب اپنی منزل کی جانب راستہ منتخب کریں۔

اسٹیڈیم سے کارساز آنے والے حضرات کارساز سے بائیں جانب ڈرگ روڈ اور اسٹارگیٹ کی طرف جاسکتے ہیں۔

راشد منہاس روڈ سے ڈرگ روڈ آنے کیلئے ڈرگ روڈ سے بائیں جانب اسٹارگیٹ کا راستہ اختیار کریں۔

واضح رہے کہ ارشاد رانجھانی کو 6 فروری کو بھینس کالونی کے یوسی چیئرمین رحیم شاہ نے ڈاکو قرار دیتے ہوئے قتل کر دیا تھا۔

شاہراہ فیصل پر احتجاج کا منظر

ارشاد رانجھانی کے لواحقین کے شدید احتجاج اور سوشل میڈیا پر معاملہ گرم ہونے پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کیس کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا فیصلہ کیا تھا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکریٹری سندھ ممتاز علی شاہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کو ایک خط لکھیں جس میں ارشاد رانجھانی کے قتل کی جوڈیشل انکوائری کرانے کی درخواست کی جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ انہیں ارشاد رانجھانی کا قاتل سلاخوں کے پیچھے چاہیے، کسی کو بھی قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

جس کے بعد محکمہ داخلہ سندھ نے رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کو لکھے گئے خط میں کہا تھا کہ ملیر کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا جائے۔

خط کے متن کے مطابق واقعے سے متعلق تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کا حکم دیا جائے اور 30 دن میں انکوائری مکمل کرائی جائے۔

خط میں مزید کہا گیا کہ قتل سمیت ابتدائی طبی امداد اور کارروائی میں تاخیر کے اسباب بھی معلوم کیے جائیں۔

جس کے بعد کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی، جس میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ایسٹ عامر فاروقی، سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) غلام اظفر مہیسر اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن ملیر فرخ ملک شامل ہیں۔

گذشتہ روز تحقیقاتی کمیٹی نے جائے وقوع کا معائنہ کیا تھا، جس کے دوران متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ اور ایدھی ایمبولینس کے ڈرائیور کا بیان لیا گیا۔

تحقیقاتی کمیٹی نے واقعے سے متعلق تمام سی سی ٹی وی فوٹیجز اور سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیو کلپس سمیت دیگر تکنیکی شواہد کا بھی بغور جائزہ لیا اور دادو میں موجود ارشاد رانجھانی کے لواحقین سے فون پر بات بھی کی تھی۔

پیر کو پولیس نے قتل میں ملوث رحیم شاہ کو گرفتار کرلیا ہے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
سیالکوٹ: اسکول کی خستہ عمارت، طلبہ کی زندگیاں خطرے میں