پی ٹی ایم حد سے تجاوز نہ کرے، ورنہ کارروائی کریں گے، آئی ایس پی آر

December 6, 2018

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان نے امن کیلئے بہت سے اقدامات اٹھائے، بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، انہوں نے کرتار پور پر منفی پراپیگنڈا کیا۔ پریس کانفرنس میں بولے ابھی تک سرحد پار دہشتگردی کا خطرہ کم نہیں ہوا، افغانستان کی جانب سے امن کیلئے اقدامات ہونے چاہئیں، پشتون تحفظ موومنٹ سے متعلق کہا کہ کوئی اپنی حد پار نہ کرے ورنہ ریاست اپنا حق محفوظ رکھتی ہے۔

بھارت کی جانب سے سیزفائر کی خلاف ورزیاں

راول پنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سرحد پار خلاف ورزیوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، رواں سال اب تک  2 ہزار 593 بار سرحدی  خلاف ورزی ہوچکی ہے، بھارتی فورسز کی جانب سے شہری علاقوں میں فائرنگ کی جاتی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ چاہتے ہیں دونوں ممالک میں تعلقات بہتر ہوں، بھارت اس بات کو سمجھے کہ  فائر بندی کی خلاف ورزی کے کیا اثرات ہوسکتے ہیں۔

پی ٹی ایم کے مطالبات

پشتون تحفظ موومنٹ سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ان کے 3 مطالبات ہیں، دیکھ رہے ہیں کہ پی ٹی ایم کیسے چل رہی ہے، وقت آیا تو بتائیں گے، بہت سے لوگوں نے کہا کہ ان کے ساتھ سخت ہاتھ نہیں رکھا، ہم کہتے ہیں کہ ریاست ماں ہوتی ہے تو ابھی تک نرمی کا برتاؤ رکھا، وجہ یہ ہے کہ ان پاکستانی بھائیوں کے علاقے میں 15 سال جنگ ہوئی، یہ دکھی بھی ہیں، ہمارے لوگ ہیں، ان کا نقصان ہوا، زبان سے ضرور غلط باتیں کیں لیکن ابھی تک پرتشدد کارروائیاں نہیں کیں، ہمیں ان کے دکھ اور تکالیف کا احساس ہے لیکن وہ حد پار نہ کریں ورنہ ہمیں ان کیخلاف طاقت کا استعمال کرنا پڑے گا۔

مزید جانیے : فرد، ادارے اور ادارہ، ملک سے بالاتر نہیں ہونا چاہئے، آرمی چیف

انہوں نے بتایا کہ پی ٹی ایم کے تین مطالبات تھے: چیک پوسٹس کم کرنا، بارودی سرنگیں کم کرنا اور مسنگ پرسنز کا بازیاب کروانا۔ پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ پی ٹی ایم کے تینوں مطالبات پر ریاست نے عمل کیا، چیک پوسٹوں میں کمی لائے، سال 2016ء میں فاٹا، کے پی میں 4069 چیک پوسٹیں تھیں، اب صرف 331 چیک پوسٹیں ہیں، جہاں ضرورت نہیں ہوگی وہاں چیک پوسٹ ختم کردیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بارودی سرنگوں کی صفائی کے دوران جوانوں نے قربانیاں دیں، نقصان چاہے شہری کا ہو یا فوجی کا نقصان ہوتا ہے، بارودی سرنگیں ختم کرنے کیلئے کام تیزی سے چل رہا ہے۔

لاپتہ افراد

لاپتہ افراد کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ سات ہزار میں سے 4 ہزار کیس حل ہوچکے ہیں، ہوسکتا ہے لاپتہ افراد طالبان کے ساتھ مل کر کام کررہے ہوں۔

کرتارپورراہداری

کرتار پور راہداری سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ حکومت نے کرتار پور بارڈر کھولا اور ایک قدم آگے بڑھایا، آئی ایس پی آر کی جانب سے کرتار پور راہداری کا نقشہ پیش کیا جارہا ہے، سکھ برادری کیلئے راہداری کھولنے پر بھی منفی تاثر دیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ کرتار پور بارڈر کے بالکل نزدیک ہے، انٹری سے لیکر سڑک کے ساتھ ساتھ اسے خاردار تاروں سے محفوظ بنایا جائے گا، سکھ برادری مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد وہیں سے واپس چلی جائے گی، یہ منصوبہ 6 ماہ میں مکمل کیا جائے گا اور پاکستان کی جانب سے کوئی بھارت نہیں جا سکے گا، امید ہے کہ ہمارے جذبہ خیر سگالی کا بھارت مثبت جواب دے گا۔

دہشتگردی

ملک میں دہشت گرد حملوں سے متعلق انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ زیادہ تر کے پی میں ہوئی، گزشتہ 15 سال میں دہشتگردی کے واقعات میں بتدریج کمی آئی، سال 2013ء میں اوسط ہر ماہ 7 سے 8 واقعات ہوتے تھے، 2018ء میں یہ شرح بہت کم ہوگئی، دعا ہے کہ وہ دن آئے جب کوئی دہشتگردی کا حملہ نہ ہو۔

اب توجہ بلوچستان پر ہے

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بلوچستان کا رقبہ ملک کے کل رقبے کا 43 فیصد اور فاٹا 3 فیصد ہے، فاٹا میں 2 ہزار سے زائد فوجی دستے ہیں، فوجی دستوں کی تعیناتی میں بلوچستان کو جغرافیائی لحاظ سے تقسیم کرکے تبدیلی کی گئی ہے، سی پیک کی وجہ سے ایسے اقدامات کیے ہیں کہ داخلی صورتحال محفوظ ہو، بلوچستان میں بھی دہشتگردی کے واقعات میں بہت کمی آٗئی ہے،  فاٹا اور کے پی میں کافی حد تک امن قائم ہونے کے بعد بلوچستان پر مکمل توجہ ہے، اس کے علاوہ فراری بھی ہتھیار ڈال رہے ہیں، 3 سال میں 2 ہزار 200 سے زائد فراری واپس آئے، انہوں نے اپیل کی کہ باہر بیٹھے فراری بھی واپس آئیں اور قومی دھارے میں شامل ہوں۔

کراچی امن

کراچی سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال میں بہت بہتری آئی ہے، رینجرز نے کراچی کے امن میں اہم کردار ادا کیا، سیکیورٹی کی اچھی صورتحال کا کریڈٹ رینجرز کے علاوہ پولیس اور دیگر اداروں کو بھی جاتا ہے، میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ میں 93 فیصد کمی آئی ہے، آنے والے دنوں میں معاشی حب کراچی میں مزید بہتری آئے گی۔

فوجی آپریشنز

ملک میں جاری عسکری آپریشنز سے متعلق انہوں نے بتایا کہ آپریشن ردالفساد کے تحت کارروائی چل رہی ہے، حکومت کے ساتھ مل کر حکمت عملی بنائی جس کے تحت 3 ایریاز میں کام کیا۔ فاٹا، بلوچستان میں صحافی ان منصوبوں کو خود دیکھ کر آئے  کہ کیسی سڑکیں اور ادارے بنائے گئے، خوشحال بلوچستان کے تحت ایسی ترقی جاری رہی تو دیرپا امن اور خوشحالی آئے گی۔

انہوں نے بتایا کہ پاک فوج پولیو ٹٰیموں کو تحفظ فراہم کرکے اس مہم کا حصہ بن رہی ہے، وہ دن ضرور آئے گا جب پاکستان پولیو سے محفوظ ملک بنے گا، چیک پوسٹوں میں کھڑے سپاہی تربت، لانڈھی، گجرات کہیں کا بھی ہو لیکن اپنے گھر سے میلوں دور کھڑا حفاظت پر مامور ہے۔

زلمے خلیل زاد کا حالیہ دورہ پاکستان افغان امن کےلیےمدد مانگنےکیلئےتھا، دفترِخارجہ

افغان سرحد پار دہشت گردی

افغانستان سے متعلق انہوں نے کہا کہ پڑوسی ملک افغانستان کی جانب سے امن کی یقین دہانی پر 2 ہزار سے زائد دستے سرحد سے واپس بلا لئے لیکن وہاں ابھی خطرات ہیں، اسی لیے سرحدوں کی نگرانی کی جارہی ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ اس بات کی ضرورت نہیں ہوگی کہ وہاں چیک پوسٹ ختم کردیں گے، پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا کام تیزی سے جاری ہے، افغان بارڈر پر 2611 کلومیٹر طویل باڑ لگارہے ہیں۔

فوجی ڈسپلن

انہوں نے بتایا کہ ہمارے ادارے فوج میں سزائیں متعین ہیں، دو سال میں 400 افسران کو سزائیں ہوئی ہیں۔

ملکی صورتحال

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 70 سال گزر گئے، عوام کو بتا رہے ہیں ہم نازک دور سے گزر رہے ہیں، داخلی طور پر معیشت، تعلیم اور مذہب کو لے کر بہت مسائل ہیں، اب ہم اس دوراہے پر ہیں جہاں آگے یا تو بہت اچھا وقت ہے یا پھر آگے مزید نازک دور میں داخل ہورہے ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اپنے مستقبل کا فیصلہ ہمیں خود کرنا ہے، ہمیں تعلیم، صحت سمیت مختلف شعبوں میں بہتری کی کوششیں کرنی ہیں، میڈیا کو ریاست کی مضبوطی کیلئے کام کرنا ہوگا، ہم وہ پاکستان چاہتے ہیں جہاں قانون کی بالادستی ہو۔

سیکولر اسٹیٹ کے بیان پر بھارت کو جواب

میجر جنرل آصف غفور سے سوال کیا گیا کہ بھارت کا کہنا ہے پاکستان پہلے سیکولر ملک بنے پھر مذاکرات ہوں گے۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم مسلمان ہیں، پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے، بھارت پہلے خود تو سیکولر ملک بن جائے، بھارت میں مسلمانوں کی کیا حالت ہے۔