اگلا صدر کون ہوگا؟ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں ووٹنگ آج ہوگی

September 4, 2018

صدارتی الیکشن کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج 10 بجے ہوگا، صوبائی اسمبلیاں بھی الیکٹورل کالج میں شامل ہیں، اپوزیشن اتحاد انتشار کا شکار ہے، تحریک انصاف کو عارف علوی کی جیت یقینی نظر آنے لگی۔ اپوزیشن جماعتیں مشترکہ امیدوار پر تاحال متفق نہیں ہوسکیں، مولانا فضل الرحمان اور اعتزاز احسن بھی صدر کے الیکشن میں امیدوار ہیں۔

پاکستان کا نیا صدر کون ہوگا؟، صدر مملکت کے انتخاب کیلئے پارلیمنٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں آج پولنگ ہوگی، پاکستان تحریک انصاف کے ڈاکٹر عارف علوی کا مقابلہ کرنے کیلئے اپوزیشن جماعتیں تاحال مشترکہ امیدوار لانے میں کامیاب نہیں ہوسکیں، مولانا فضل الرحمان اور اعتزاز احسن بھی صدر بننے کی دوڑ میں شامل ہیں۔

آصف زرداری نے ایک بار پھر فضل الرحمان کو قائل کرنے کی کوشش کی، مولانا فضل الرحمان دستبرداری پر مشروط آمادگی ظاہر کردی، کہتے ہیں کہ میری دستبرداری کا اختیار شہباز شریف کے پاس ہے۔ آصف زرداری نے شہباز شریف سے ملاقات کیلئے وفد بھیج دیا۔

خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخاب کے بعد بھی اپوزیشن کو یکجا ہو کر چلنا ہوگا، حکومت کو عوامی اور ملکی مفادات کے خلاف اقدامات سے روکنا ہوگا۔

اپوزیشن رہنماؤں کے منتشر بیانات سے پی ٹی آئی کے عارف علوی کی جیت یقینی نظر آنے لگی۔

نمبر گیم دیکھیں تو قومی اسمبلی کے 330 اراکین میں سے حکومتی اتحاد کے عارف علوی کو 179 ووٹ ملنے کا امکان ہے جبکہ مولانا فضل الرحمان 97 اور پیپلزپارٹی کے اعتزاز احسن کو 54 ووٹ ملنے کی توقع ہے، سینیٹ میں حکومتی اتحاد کو 36 ووٹ مل سکتے ہیں۔

پنجاب اسمبلی میں حکومتی اتحاد کو برتری حاصل ہے جہاں 188 ووٹوں ملنے کے بعد ڈاکٹر عارف علوی کے صدارتی ووٹوں میں 33 ووٹ کا اضافہ ہوسکتا ہے، مسلم لیگ ن کے ارکان کی تعداد 159 ہے، مولانا فضل الرحمن کو 28 ووٹ مل سکتے ہیں جبکہ اعتزاز احسن صرف ایک ووٹ حاصل کرپائیں گے۔

سندھ اسمبلی میں 163 اراکین ووٹ ڈالیں گے، عارف علوی کو 24 ووٹ پڑنے کا امکان ہے، خیبرپختونخوا اسمبلی میں 112 اراکین میں سے حکومتی اتحاد کو 42 ووٹ اور اپوزیشن اتحاد کو 27 ووٹ مل سکتے ہیں۔

بلوچستان اسمبلی کے اراکین کلیدی کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، ہر ممبر کا ایک ووٹ گنا جائے گا، حکومتی اتحاد کے نامزد امیدوار کی پوزیشن مستحکم ہے، مولانا فضل الرحمان کو ن لیگ اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی حمایت حاصل ہے۔

صدارتی انتخاب میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ریٹرننگ افسر چیف الیکشن کمشنز ہوں گے جبکہ صوبوں میں چیف جسٹس صاحبان پریذائیڈنگ افسر ہوں گے، ووٹنگ خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوگی۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں صدارتی الیکشن کے موقع پر خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں، اس موقع پر سخت ترین حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں، پارلیمنٹ ہاؤس کی حدود میں خصوصی سیکیورٹی پاسز کے علاوہ کسی کو بھی داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔