جیل میں ڈالنے کا فیصلہ کہیں اور ہوا تھا، نوازشریف

Samaa Web Desk
July 11, 2018

نواز شریف نے کہا کہ جیل کی کوٹھری کو اپنے سامنے دیکھ کر بھی پاکستان جارہا ہوں،جیل میں ڈالنے کا فیصلہ کہیں اور ہوا تھا۔

لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کا کہنا تھا کہ کہا جارہا تھا پاکستان نہیں جاوں گا اہلیہ کو اللہ کے سپرد کرکے پاکستان جارہا ہوں، میری خواہش ہے کہ کلثوم نواز کو آنکھیں کھولتا دیکھ سکوں، پاکستان کے عوام کے لیے واپس جارہاہوں، جیل کی کوٹھری کو اپنے سامنے دیکھ کر بھی پاکستان جارہا ہوں ۔

نواز شریف نے کہا کہ عوام کی حاکمیت بحال کریں گے، ووٹ کو عزت دو کے وعدے کو پورا کرنے پاکستان جارہا ہوں، میرا وطن مشکل میں ہے اس لیے پاکستان جارہاہوں۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ پردے ڈالنے کاوقت گزرچکا،اب پردے اٹھانے کاوقت ہے، میرے خلاف کچھ نہ ملاتواقامہ تلاش کیا گیا، الیکشن لڑسکتا ہوں نہ پارٹی صدر بن سکتا ہوں، کب تک دہرا معیار چلتارہے گا؟ 40 اور ریفرنسزبھی چل رہے ہیں، اُن ریفرنسز پر کتنی پیشیاں ہوئیں؟کتنی سماعت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اب زیادہ دیر چپ رہنا قوم سے غداری ہوگی، کون لوگ ہیں جو انتخابات سے قبل مطلب کے نتائج لانے کی کوشش کرہے ہے، کون ہیں وہ لوگ جنہوں نے قانون اورانصاف کے عمل کو جکڑ رکھا ہے، کون ہیں وہ لوگ جو مجھے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں ۔

نواز شریف نے کہا کہ میں جانتا ہوں ادارے مضبوط ہونگے تو پاکستان مضبوط ہوگا، میں نے ملکی دفاع کو مضبوط کیا، میرے دل میں غازیوں اور شہیدوں کے لیے بہت عزت ہے، دنیا بھر کی مخالفت کے باوجود بھی پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا ۔

انہوں نے کہا کہ میرے خلاف کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ملا، جج نے کہا نیب کوئی ثبوت پیش نہ کرسکا ، جیل ہو یا پھانسی قدم نہیں رکیں گے، میری تین نسلوں نے احتساب کا سامنا کیا، ہے کوئی پاکستانی جس کی3نسلوں کواس طرح کےاحتساب کاسامناکرنا پڑا؟ آئین اور قانون کا مذاق کب تک اُڑایا جائے گا ، لاڈلے کو کسی ترازو اور ہمیں کسی ترازومیں تولا جارہا ہے ، کسی لاڈلے کو کرسی پر بیٹھانا چاہتے ہیں تو بتادیں ۔