ملی مسلم لیگ بطور سیاسی جماعت رجسٹریشن کی درخواست مسترد

Samaa Web Desk
June 13, 2018

الیکشن کمیشن نے حافظ سعید سے منسلک جماعت ملی مسلم لیگ کی بطور سیاسی جماعت رجسٹریشن سے متعلق درخواست مسترد کردی۔

ممبر سندھ عبدالغفارسومرو کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کی 4 رکنی کمشین نے ملی مسلم لیگ کی بطور سیاسی جماعت رجسٹریشن کیس کی سماعت کی

سماعت کے دوران وکیل ملی مسلم لیگ کا کہنا تھا کہ کوئی شہری سروس آف پاکستان میں نہیں ہے تو وہ سیاسی جماعت بنا سکتا ہے، حکومت کسی بنیاد پر سیاسی جماعت کی رجسٹریشن کی مخالفت نہیں کرسکتی ، پیشگی کوئی نہیں کہہ سکتا کہ مستقبل میں کسی سیاسی جماعت کے کالعدم تنظیم سے تعلقات ہوں گے۔

وکیل نے کہا کہ ملی مسلم لیگ کے سربراہ سیف اللہ خالد کا حافظ سعید سے کوئی تعلق نہیں ، مسلم لیگ ن کو ہماری جماعت سے ذاتی عناد ہے، سربراہ ن لیگ چند ممالک سےقریبی تعلقات کے باعث ہماری جماعت کے مخالف تھے، بھارت نہیں چاہتا کہ ملی مسلم لیگ قائم اور رجسٹرڈ ہو ۔

واضح رہے ملی مسلم لیگ چند ضمنی انتخابات میں آزاد امیدواروں کی حمایت کرتی رہی ہے، جہاں یہ دیکھا گیا ہے کہ بینرز اور پوسٹرز پر جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی تصاویر چسپاں کی گئیں تھیں۔

وکیل ملی مسلم لیگ نے کہا کہ جماعت الدعوہ اس وقت انڈرآبزرویشن ہے لیکن ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ، کسی سیاسی جماعت کی رجسٹریشن سےوفاقی حکومت کا کوئی تعلق نہیں ، وزارت داخلہ نےخط میں عہدیداران سےمتعلق یہ لکھا کہ حافط سعید انکے نظریاتی لیڈر ہیں۔

ملی مسلم لیگ کے عہدیداران کے خلاف کسی جگہ کوئی ایف آئی آر نہیں درج ، تاہم الیکشن کمیشن نے ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن سے متعلق محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ان کی درخواست مسترد کردی۔